⌂ ہوم🔖 لائبریری📊 تجزیہℹ تعارفاردو · English · العربية

قِصَّةُ يوسف

یوسفؑ کا قصہ: قرآن کی روشنی میں

یوسفؑ کا قصہ قرآن کا واحد قصہ ہے جو ایک ہی سورت میں شروع سے آخر تک بیان ہوا، اور قرآن اسے «أَحْسَنَ الْقَصَصِ» (بہترین قصہ) کہتا ہے: خواب، کنواں، غلامی، آزمائش، قید، اقتدار، اور خاندان کا ملاپ۔

قصے کے مراحل

  1. 1. خواب
  2. 2. بھائیوں کی سازش اور کنواں
  3. 3. قافلہ اور مصر
  4. 4. آزمائش
  5. 5. شہر کی عورتیں
  6. 6. قید اور دو قیدیوں کے خواب
  7. 7. بادشاہ کا خواب
  8. 8. بے گناہی اور اقتدار
  9. 9. بھائیوں کی آمد
  10. 10. پیالہ اور بنیامین
  11. 11. یوسفؑ کا تعارف
  12. 12. ملاپ اور خواب کی تعبیر
1

خواب

لڑکپن میں یوسفؑ نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ یعقوبؑ نے کہا: یہ خواب بھائیوں کو نہ بتانا۔

قرآن کے حوالے 12:4-6
تمام آیات (3)
12:4 يوسف اہم آیت

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَٰجِدِينَ

جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان! میں نے (خواب میں) گیارہ ستارے، سورج اور چاند دیکھے، میں نے انہیں اپنے آگے سجدہ کرتے دیکھا۔

Behold! Joseph said to his father: "O my father! I did see eleven stars and the sun and the moon: I saw them prostrate themselves to me

12:5 يوسف

قَالَ يَٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

(یعقوب نے) کہا: میرے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی چال چلیں گے، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

Said (the father): "My (dear) little son! relate not thy vision to thy brothers, lest they concoct a plot against thee: for Satan is to man an avowed enemy

12:6 يوسف

وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں چن لے گا، تمہیں باتوں کی تعبیر سکھائے گا، اور تم پر اور یعقوب کے گھرانے پر اپنی نعمت پوری کرے گا جیسے اس سے پہلے تمہارے دادا پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی، بے شک تمہارا رب سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

Thus will thy Lord choose thee and teach thee the interpretation of stories (and events) and perfect His favour to thee and to the posterity of Jacob - even as He perfected it to thy fathers Abraham and Isaac aforetime! for Allah is full of knowledge and wisdom

2

بھائیوں کی سازش اور کنواں

حسد میں بھائیوں نے یوسفؑ کو کنویں کی گہرائی میں ڈال دیا اور باپ سے کہا کہ بھیڑیا کھا گیا، جھوٹے خون والی قمیص ساتھ لائے۔ اللہ نے یوسفؑ کو وحی کی کہ ایک دن تم انہیں ان کا یہ کام جتاؤ گے۔

قرآن کے حوالے 12:8-18
تمام آیات (11)
12:8 يوسف

إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

جب انہوں نے کہا: یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں، بے شک ہمارا باپ کھلی غلطی میں ہے۔

They said: "Truly Joseph and his brother are loved more by our father than we: But we are a goodly body! really our father is obviously wandering (in his mind)

12:9 يوسف

ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًا صَٰلِحِينَ

یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی جگہ پھینک آؤ، تمہارے باپ کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائے گی، اور اس کے بعد تم نیک لوگ بن جانا۔

Slay ye Joseph or cast him out to some (unknown) land, that so the favour of your father may be given to you alone: (there will be time enough) for you to be righteous after that

12:10 يوسف

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: یوسف کو قتل نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کنویں کی گہرائی میں ڈال دو، کوئی قافلہ اسے اٹھا لے جائے گا۔

Said one of them: "Slay not Joseph, but if ye must do something, throw him down to the bottom of the well: he will be picked up by some caravan of travellers

12:11 يوسف

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٰصِحُونَ

انہوں نے کہا: ابا جان! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے بارے میں ہم پر بھروسا نہیں کرتے، حالانکہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں؟

They said: "O our father! why dost thou not trust us with Joseph,- seeing we are indeed his sincere well-wishers

12:12 يوسف

أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیے کہ کھائے پیے اور کھیلے، اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and we shall take every care of him

12:13 يوسف

قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَٰفِلُونَ

(یعقوب نے) کہا: مجھے اس کا تمہارے ساتھ جانا غمگین کرتا ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھا جائے اور تم اس سے غافل رہو۔

(Jacob) said: "Really it saddens me that ye should take him away: I fear lest the wolf should devour him while ye attend not to him

12:14 يوسف

قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًا لَّخَٰسِرُونَ

(یوسف کے بھائیوں نے کہا:) اگر ہمارے ایک مضبوط جماعت ہوتے ہوئے اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔

They said: "If the wolf were to devour him while we are (so large) a party, then should we indeed (first) have perished ourselves

12:15 يوسف اہم آیت

فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

پھر جب وہ اسے لے گئے اور سب نے طے کر لیا کہ اسے کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں، اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تم ضرور انہیں ان کے اس کام کی خبر دو گے اور انہیں پتا بھی نہ ہوگا۔

So they did take him away, and they all agreed to throw him down to the bottom of the well: and We put into his heart (this Message): 'Of a surety thou shalt (one day) tell them the truth of this their affair while they know (thee) not

12:16 يوسف

وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءً يَبْكُونَ

اور وہ شام کو اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے،

Then they came to their father in the early part of the night, weeping

12:17 يوسف

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٰدِقِينَ

کہنے لگے: ابا جان! ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگ گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے بھیڑیا کھا گیا، اور آپ ہماری بات نہیں مانیں گے چاہے ہم سچے ہوں۔

They said: "O our father! We went racing with one another, and left Joseph with our things; and the wolf devoured him.... But thou wilt never believe us even though we tell the truth

12:18 يوسف

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍ كَذِبٍ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ

اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے۔ (یعقوب نے) کہا: بلکہ تمہارے نفس نے ایک بات بنا لی ہے، پس صبر ہی اچھا ہے، اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے۔

They stained his shirt with false blood. He said: "Nay, but your minds have made up a tale (that may pass) with you, (for me) patience is most fitting: Against that which ye assert, it is Allah (alone) Whose help can be sought

3

قافلہ اور مصر

ایک قافلے نے انہیں کنویں سے نکالا اور چند درہموں میں بیچ دیا۔ مصر میں جس شخص نے خریدا اس نے بیوی سے کہا: اسے عزت سے رکھو۔ یوں اللہ نے یوسفؑ کو زمین میں جگہ دی، اور جوانی میں انہیں حکمت اور علم دیا۔

قرآن کے حوالے 12:19-22
تمام آیات (4)
12:19 يوسف

وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ قَالَ يَٰبُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٌ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةً وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

اور ایک قافلہ آیا، انہوں نے اپنا پانی بھرنے والا بھیجا، اس نے اپنا ڈول ڈالا، (اور) کہا: خوشخبری! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے تجارتی مال بنا کر چھپا لیا، اور اللہ خوب جانتا تھا جو وہ کر رہے تھے۔

Then there came a caravan of travellers: they sent their water-carrier (for water), and he let down his bucket (into the well)... He said: "Ah there! Good news! Here is a (fine) young man!" So they concealed him as a treasure! But Allah knoweth well all that they do

12:20 يوسف

وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ

اور انہوں نے اسے تھوڑی سی قیمت، گنتی کے چند درہموں میں بیچ دیا، اور وہ اس سے بے رغبت تھے۔

The (Brethren) sold him for a miserable price, for a few dirhams counted out: in such low estimation did they hold him

12:21 يوسف اہم آیت

وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا: اسے عزت سے رکھو، شاید یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں جگہ دی، اور تاکہ ہم اسے باتوں کی تعبیر سکھائیں، اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

The man in Egypt who bought him, said to his wife: "Make his stay (among us) honourable: may be he will bring us much good, or we shall adopt him as a son." Thus did We establish Joseph in the land, that We might teach him the interpretation of stories (and events). And Allah hath full power and control over His affairs; but most among mankind know it not

12:22 يوسف

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے حکمت اور علم دیا، اور ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

When Joseph attained His full manhood, We gave him power and knowledge: thus do We reward those who do right

4

آزمائش

عزیز کی بیوی نے دروازے بند کر کے انہیں بلایا؛ یوسفؑ نے کہا: اللہ کی پناہ۔ وہ دروازے کی طرف بھاگے، قمیص پیچھے سے پھٹ گئی، اور اسی سے ان کی بے گناہی ثابت ہوئی۔

قرآن کے حوالے 12:23-29
تمام آیات (7)
12:23 يوسف اہم آیت

وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اور جس عورت کے گھر میں وہ تھا اس نے اسے اس کے نفس سے پھسلانا چاہا، دروازے بند کر دیے اور کہا: آ جاؤ۔ (یوسف نے) کہا: اللہ کی پناہ! وہ (تمہارا شوہر) میرا مالک ہے، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا، بے شک ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔

But she in whose house he was, sought to seduce him from his (true) self: she fastened the doors, and said: "Now come, thou (dear one)!" He said: "Allah forbid! truly (thy husband) is my lord! he made my sojourn agreeable! truly to no good come those who do wrong

12:24 يوسف

وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَٰنَ رَبِّهِۦ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ

اور اس عورت نے اس کا ارادہ کیا، اور وہ بھی اس کا ارادہ کر لیتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا۔ اسی طرح (ہوا) تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھیں، بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔

And (with passion) did she desire him, and he would have desired her, but that he saw the evidence of his Lord: thus (did We order) that We might turn away from him (all) evil and shameful deeds: for he was one of Our servants, sincere and purified

12:25 يوسف

وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے، اور اس عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی، اور دونوں نے اس کے شوہر کو دروازے کے پاس پایا۔ وہ بولی: جو تیری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ اسے قید کیا جائے یا دردناک سزا دی جائے؟

So they both raced each other to the door, and she tore his shirt from the back: they both found her lord near the door. She said: "What is the (fitting) punishment for one who formed an evil design against thy wife, but prison or a grievous chastisement

12:26 يوسف

قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ

(یوسف نے) کہا: اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلانا چاہا تھا۔ اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی: اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے،

He said: "It was she that sought to seduce me - from my (true) self." And one of her household saw (this) and bore witness, (thus):- "If it be that his shirt is rent from the front, then is her tale true, and he is a liar

12:27 يوسف

وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا ہے۔

But if it be that his shirt is torn from the back, then is she the liar, and he is telling the truth

12:28 يوسف

فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ

پھر جب اس نے اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی دیکھی تو کہا: یہ تم عورتوں کی چال ہے، بے شک تمہاری چال بہت بڑی ہوتی ہے۔

So when he saw his shirt,- that it was torn at the back,- (her husband) said: "Behold! It is a snare of you women! truly, mighty is your snare

12:29 يوسف

يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ

یوسف! اس بات سے درگزر کرو، اور (اے عورت!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بے شک تو ہی خطاکاروں میں سے تھی۔

O Joseph, pass this over! (O wife), ask forgiveness for thy sin, for truly thou hast been at fault

5

شہر کی عورتیں

شہر کی عورتوں نے باتیں بنائیں تو عزیز کی بیوی نے انہیں دعوت دی؛ یوسفؑ کو دیکھ کر انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ یوسفؑ نے دعا کی: اے میرے رب! جس طرف یہ بلاتی ہیں اس سے مجھے قید زیادہ پسند ہے۔

قرآن کے حوالے 12:30-34
تمام آیات (5)
12:30 يوسف

وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

اور شہر کی کچھ عورتوں نے کہا: عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اس کی مرضی کے خلاف اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے، اس کی محبت اس کے دل میں گھر کر گئی ہے، ہم تو اسے کھلی غلطی میں دیکھتی ہیں۔

Ladies said in the City: "The wife of the (great) 'Aziz is seeking to seduce her slave from his (true) self: Truly hath he inspired her with violent love: we see she is evidently going astray

12:31 يوسف

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ

پھر جب اس نے ان کی باتیں سنیں تو انہیں بلا بھیجا، ان کے لیے تکیوں والی مجلس تیار کی، اور ہر ایک کو ایک چھری دی، اور (یوسف سے) کہا: ان کے سامنے نکل آؤ۔ جب انہوں نے اسے دیکھا تو اسے بہت بڑا سمجھا، اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور کہنے لگیں: اللہ پاک ہے، یہ انسان نہیں، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔

When she heard of their malicious talk, she sent for them and prepared a banquet for them: she gave each of them a knife: and she said (to Joseph), "Come out before them." When they saw him, they did extol him, and (in their amazement) cut their hands: they said, "Allah preserve us! no mortal is this! this is none other than a noble angel

12:32 يوسف

قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ ٱلصَّٰغِرِينَ

وہ بولی: یہی وہ ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں۔ میں نے اسے اس کے نفس سے پھسلانا چاہا تھا مگر یہ بچا رہا، اور اگر اس نے میرا کہنا نہ مانا تو ضرور قید کیا جائے گا اور ذلیلوں میں سے ہوگا۔

She said: "There before you is the man about whom ye did blame me! I did seek to seduce him from his (true) self but he did firmly save himself guiltless!.... and now, if he doth not my bidding, he shall certainly be cast into prison, and (what is more) be of the company of the vilest

12:33 يوسف اہم آیت

قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

(یوسف نے) کہا: اے میرے رب! جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس سے مجھے قید زیادہ پسند ہے، اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے نہ پھیرا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور نادانوں میں سے ہو جاؤں گا۔

He said: "O my Lord! the prison is more to my liking than that to which they invite me: Unless Thou turn away their snare from me, I should (in my youthful folly) feel inclined towards them and join the ranks of the ignorant

12:34 يوسف

فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی اور ان کی چال اس سے دور کر دی، بے شک وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔

So his Lord hearkened to him (in his prayer), and turned away from him their snare: Verily He heareth and knoweth (all things)

6

قید اور دو قیدیوں کے خواب

بے گناہ ہونے کے باوجود انہیں قید کر دیا گیا۔ وہاں دو قیدیوں نے خواب سنائے؛ یوسفؑ نے پہلے توحید کی دعوت دی، پھر تعبیر بتائی: ایک بادشاہ کو شراب پلائے گا اور دوسرے کو سولی دی جائے گی۔

قرآن کے حوالے 12:35-42
تمام آیات (8)
12:35 يوسف

ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْءَايَٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍ

پھر ان لوگوں کو (یوسف کی بے گناہی کی) نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی یہی مناسب لگا کہ کچھ مدت کے لیے اسے قید کر دیں۔

Then it occurred to the men, after they had seen the signs, (that it was best) to imprison him for a time

12:36 يوسف

وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ ٱلْءَاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ شراب نچوڑ رہا ہوں؛ اور دوسرے نے کہا: میں نے دیکھا کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جنہیں پرندے کھا رہے ہیں۔ ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیک لوگوں میں سے دیکھتے ہیں۔

Now with him there came into the prison two young men. Said one of them: "I see myself (in a dream) pressing wine." said the other: "I see myself (in a dream) carrying bread on my head, and birds are eating, thereof." "Tell us" (they said) "The truth and meaning thereof: for we see thou art one that doth good (to all)

12:37 يوسف

قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْءَاخِرَةِ هُمْ كَٰفِرُونَ

اس نے کہا: جو کھانا تمہیں ملتا ہے وہ آنے سے پہلے میں تمہیں اس کی تعبیر بتا دوں گا؛ یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے۔ میں نے ان لوگوں کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں،

He said: "Before any food comes (in due course) to feed either of you, I will surely reveal to you the truth and meaning of this ere it befall you: that is part of the (duty) which my Lord hath taught me. I have (I assure you) abandoned the ways of a people that believe not in Allah and that (even) deny the Hereafter

12:38 يوسف

وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ

اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے؛ ہمیں حق نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں، یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کا فضل ہے، لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

And I follow the ways of my fathers,- Abraham, Isaac, and Jacob; and never could we attribute any partners whatever to Allah: that (comes) of the grace of Allah to us and to mankind: yet most men are not grateful

12:39 يوسف اہم آیت

يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ

اے قید کے میرے دونوں ساتھیو! کیا الگ الگ کئی رب بہتر ہیں یا اکیلا، سب پر غالب اللہ؟

O my two companions of the prison! (I ask you): are many lords differing among themselves better, or the One Allah, Supreme and Irresistible

12:40 يوسف

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

تم اس کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو وہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم صرف اللہ کا ہے، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

If not Him, ye worship nothing but names which ye have named,- ye and your fathers,- for which Allah hath sent down no authority: the command is for none but Allah: He hath commanded that ye worship none but Him: that is the right religion, but most men understand not

12:41 يوسف

يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًا وَأَمَّا ٱلْءَاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ

اے قید کے میرے دونوں ساتھیو! تم میں سے ایک تو اپنے مالک کو شراب پلائے گا، اور دوسرا سولی دیا جائے گا تو پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے۔ اس بات کا فیصلہ ہو چکا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو۔

O my two companions of the prison! As to one of you, he will pour out the wine for his lord to drink: as for the other, he will hang from the cross, and the birds will eat from off his head. (so) hath been decreed that matter whereof ye twain do enquire

12:42 يوسف

وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ

اور ان دونوں میں سے جس کے بارے میں اس نے سمجھا کہ وہ رہا ہوگا اس سے کہا: اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا۔ مگر شیطان نے اسے اپنے مالک سے ذکر کرنا بھلا دیا، تو وہ کئی سال قید خانے میں رہا۔

And of the two, to that one whom he consider about to be saved, he said: "Mention me to thy lord." But Satan made him forget to mention him to his lord: and (Joseph) lingered in prison a few (more) years

7

بادشاہ کا خواب

بادشاہ نے سات موٹی گائیں دیکھیں جنہیں سات دبلی کھا رہی تھیں، اور سات ہری اور سات سوکھی بالیں۔ کوئی تعبیر نہ دے سکا؛ رہا ہونے والا قیدی یوسفؑ کو یاد کر کے آیا، اور انہوں نے سات سال خوشحالی اور سات سال قحط کی تعبیر اور بچاؤ کا منصوبہ بتایا۔

قرآن کے حوالے 12:43-49
تمام آیات (7)
12:43 يوسف اہم آیت

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ

اور بادشاہ نے کہا: میں (خواب میں) دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات ہری بالیاں ہیں اور دوسری (سات) سوکھی۔ اے سردارو! اگر تم خواب کی تعبیر بتا سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کا مطلب بتاؤ۔

The king (of Egypt) said: "I do see (in a vision) seven fat kine, whom seven lean ones devour, and seven green ears of corn, and seven (others) withered. O ye chiefs! Expound to me my vision if it be that ye can interpret visions

12:44 يوسف

قَالُوٓا۟ أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ

انہوں نے کہا: یہ تو پریشان خواب ہیں، اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔

They said: "A confused medley of dreams: and we are not skilled in the interpretation of dreams

12:45 يوسف

وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ

اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور ایک مدت کے بعد اسے یاد آیا، اس نے کہا: میں تمہیں اس کی تعبیر بتاتا ہوں، مجھے (یوسف کے پاس) بھیجو۔

But the man who had been released, one of the two (who had been in prison) and who now bethought him after (so long) a space of time, said: "I will tell you the truth of its interpretation: send ye me (therefore)

12:46 يوسف

يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ

یوسف! اے بہت سچے! ہمیں سات موٹی گایوں کے بارے میں بتائیے جنہیں سات دبلی کھا رہی ہیں، اور سات ہری بالوں اور دوسری سوکھی کے بارے میں، تاکہ میں لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤں، شاید وہ جان لیں۔

O Joseph!" (he said) "O man of truth! Expound to us (the dream) of seven fat kine whom seven lean ones devour, and of seven green ears of corn and (seven) others withered: that I may return to the people, and that they may understand

12:47 يوسف

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ

(یوسف نے) کہا: تم سات سال تک لگاتار کھیتی کرو گے، تو جو فصل کاٹو اسے اس کی بالیوں میں ہی رہنے دینا، سوائے تھوڑے سے کے جو تم کھاؤ۔

(Joseph) said: "For seven years shall ye diligently sow as is your wont: and the harvests that ye reap, ye shall leave them in the ear,- except a little, of which ye shall eat

12:48 يوسف

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ

پھر اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے جو وہ سب کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے جمع کیا ہوگا، سوائے تھوڑے کے جو تم بچا رکھو گے۔

Then will come after that (period) seven dreadful (years), which will devour what ye shall have laid by in advance for them,- (all) except a little which ye shall have (specially) guarded

12:49 يوسف

ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش برسائی جائے گی اور اس میں وہ (رس) نچوڑیں گے۔

Then will come after that (period) a year in which the people will have abundant water, and in which they will press (wine and oil)

8

بے گناہی اور اقتدار

یوسفؑ نے رہائی سے پہلے تحقیق کا مطالبہ کیا؛ عزیز کی بیوی نے اعتراف کیا: اب حق واضح ہو گیا، میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا تھا۔ بادشاہ نے انہیں خاص بنایا اور وہ ملک کے خزانوں کے نگران بنے۔

قرآن کے حوالے 12:50-57
تمام آیات (8)
12:50 يوسف

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ

اور بادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لاؤ۔ جب قاصد اس کے پاس آیا تو اس نے کہا: اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ بے شک میرا رب ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔

So the king said: "Bring ye him unto me." But when the messenger came to him, (Joseph) said: "Go thou back to thy lord, and ask him, 'What is the state of mind of the ladies who cut their hands'? For my Lord is certainly well aware of their snare

12:51 يوسف اہم آیت

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ قُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٰٔنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

(بادشاہ نے عورتوں سے) کہا: تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کی مرضی کے خلاف اپنی طرف مائل کرنا چاہا؟ انہوں نے کہا: پاک ہے اللہ، ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ عزیز کی بیوی نے کہا: اب حق کھل کر سامنے آ گیا، میں نے ہی اسے اس کی مرضی کے خلاف اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا، اور وہ یقیناً سچوں میں سے ہے۔

(The king) said (to the ladies): "What was your affair when ye did seek to seduce Joseph from his (true) self?" The ladies said: "Allah preserve us! no evil know we against him!" Said the 'Aziz's wife: "Now is the truth manifest (to all): it was I who sought to seduce him from his (true) self: He is indeed of those who are (ever) true (and virtuous)

12:52 يوسف

ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ

(یوسف نے کہا:) یہ اس لیے کہ (عزیز) جان لے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی، اور اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔

This (say I), in order that He may know that I have never been false to him in his absence, and that Allah will never guide the snare of the false ones

12:53 يوسف

وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ

اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کہتا، بے شک نفس تو برائی پر اکساتا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم کرے، بے شک میرا رب بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

Nor do I absolve my own self (of blame): the (human) soul is certainly prone to evil, unless my Lord do bestow His Mercy: but surely my Lord is Oft-forgiving, Most Merciful

12:54 يوسف

وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ

اور بادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لاؤ، میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں۔ پھر جب اس سے بات کی تو کہا: آج سے تم ہمارے ہاں صاحبِ مرتبہ، امانت دار ہو۔

So the king said: "Bring him unto me; I will take him specially to serve about my own person." Therefore when he had spoken to him, he said: "Be assured this day, thou art, before our own presence, with rank firmly established, and fidelity fully proved

12:55 يوسف

قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌ

(یوسف نے) کہا: مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے، میں حفاظت کرنے والا، جاننے والا ہوں۔

(Joseph) said: "Set me over the store-houses of the land: I will indeed guard them, as one that knows (their importance)

12:56 يوسف

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں اقتدار دیا کہ اس میں جہاں چاہے رہے، ہم اپنی رحمت جسے چاہتے ہیں پہنچاتے ہیں اور نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

Thus did We give established power to Joseph in the land, to take possession therein as, when, or where he pleased. We bestow of our Mercy on whom We please, and We suffer not, to be lost, the reward of those who do good

12:57 يوسف

وَلَأَجْرُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ

اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔

But verily the reward of the Hereafter is the best, for those who believe, and are constant in righteousness

9

بھائیوں کی آمد

قحط میں بھائی غلہ لینے آئے؛ یوسفؑ نے انہیں پہچان لیا مگر وہ نہ پہچانے۔ انہوں نے کہا: اگلی بار اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لانا۔ یعقوبؑ نے پختہ عہد لے کر بنیامین کو بھیجا۔

قرآن کے حوالے 12:58-68
تمام آیات (11)
12:58 يوسف اہم آیت

وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ

اور یوسف کے بھائی آئے اور اس کے پاس پہنچے، تو اس نے انہیں پہچان لیا اور وہ اسے نہ پہچان سکے۔

Then came Joseph's brethren: they entered his presence, and he knew them, but they knew him not

12:59 يوسف

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ

اور جب (یوسف نے) ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا: اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں اور میں بہترین مہمان نواز ہوں؟

And when he had furnished them forth with provisions (suitable) for them, he said: "Bring unto me a brother ye have, of the same father as yourselves, (but a different mother): see ye not that I pay out full measure, and that I do provide the best hospitality

12:60 يوسف

فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ

تو اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو تمہارے لیے میرے پاس کوئی غلہ نہیں، اور میرے قریب بھی نہ آنا۔

Now if ye bring him not to me, ye shall have no measure (of corn) from me, nor shall ye (even) come near me

12:61 يوسف

قَالُوا۟ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ

انہوں نے کہا: ہم اس کے بارے میں اس کے باپ کو منانے کی کوشش کریں گے، اور ہم ضرور ایسا کریں گے۔

They said: "We shall certainly seek to get our wish about him from his father: Indeed we shall do it

12:62 يوسف

وَقَالَ لِفِتْيَٰنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

اور اس نے اپنے خادموں سے کہا: ان کی پونجی ان کے سامان میں رکھ دو، شاید وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر اسے پہچان لیں، شاید وہ پھر آئیں۔

And (Joseph) told his servants to put their stock-in-trade (with which they had bartered) into their saddle-bags, so they should know it only when they returned to their people, in order that they might come back

12:63 يوسف

فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

پھر جب وہ اپنے باپ کے پاس لوٹے تو کہا: ابا جان! ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے، تو ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے کہ ہم غلہ لائیں، اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

Now when they returned to their father, they said: "O our father! No more measure of grain shall we get (unless we take our brother): So send our brother with us, that we may get our measure; and we will indeed take every care of him

12:64 يوسف

قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَٰفِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

(یعقوب نے) کہا: کیا میں اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی بھروسا کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا؟ تو اللہ ہی بہترین حفاظت کرنے والا ہے، اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

He said: "Shall I trust you with him with any result other than when I trusted you with his brother aforetime? But Allah is the best to take care (of him), and He is the Most Merciful of those who show mercy

12:65 يوسف

وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ

اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اپنی پونجی اپنی طرف لوٹائی ہوئی پائی۔ کہنے لگے: ابا جان! ہمیں اور کیا چاہیے، یہ ہماری پونجی ہمیں لوٹا دی گئی ہے، اور ہم اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لائیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے، اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لائیں گے، یہ (غلہ) تھوڑا ہے۔

Then when they opened their baggage, they found their stock-in-trade had been returned to them. They said: "O our father! What (more) can we desire? this our stock-in-trade has been returned to us: so we shall get (more) food for our family; We shall take care of our brother; and add (at the same time) a full camel's load (of grain to our provisions). This is but a small quantity

12:66 يوسف

قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ

(یعقوب نے) کہا: میں اسے تمہارے ساتھ ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام کا پختہ عہد نہ دو کہ اسے ضرور میرے پاس لاؤ گے، سوائے اس کے کہ تم (سب) گھیر لیے جاؤ۔ جب انہوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو کہا: جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے۔

(Jacob) said: "Never will I send him with you until ye swear a solemn oath to me, in Allah's name, that ye will be sure to bring him back to me unless ye are yourselves hemmed in (and made powerless). And when they had sworn their solemn oath, he said: "Over all that we say, be Allah the witness and guardian

12:67 يوسف

وَقَالَ يَٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍ وَٰحِدٍ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍ مُّتَفَرِّقَةٍ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

اور کہا: میرے بیٹو! ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا، اور میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا، حکم صرف اللہ کا ہے، اسی پر میں نے بھروسا کیا، اور بھروسا کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔

Further he said: "O my sons! enter not all by one gate: enter ye by different gates. Not that I can profit you aught against Allah (with my advice): None can command except Allah: On Him do I put my trust: and let all that trust put their trust on Him

12:68 يوسف

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةً فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَٰهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب وہ اسی طرح داخل ہوئے جیسے ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا تو یہ اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو ان سے ٹال نہ سکتا تھا، بس یعقوب کے دل کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کر لی؛ اور وہ ہمارے سکھائے ہوئے علم والا تھا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

And when they entered in the manner their father had enjoined, it did not profit them in the least against (the plan of) Allah: It was but a necessity of Jacob's soul, which he discharged. For he was, by our instruction, full of knowledge (and experience): but most men know not

10

پیالہ اور بنیامین

یوسفؑ نے چپکے سے بھائی کو اپنا تعارف کرایا، پھر شاہی پیالہ اس کے سامان میں رکھوا دیا اور یوں اسے اپنے پاس روک لیا۔ بڑا بھائی شرمندگی سے مصر ہی میں رک گیا۔

قرآن کے حوالے 12:69-82
تمام آیات (14)
12:69 يوسف

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور (چپکے سے) کہا: میں تمہارا بھائی ہوں، تو جو کچھ یہ کرتے رہے اس پر غم نہ کرو۔

Now when they came into Joseph's presence, he received his (full) brother to stay with him. He said (to him): "Behold! I am thy (own) brother; so grieve not at aught of their doings

12:70 يوسف اہم آیت

فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَٰرِقُونَ

پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کرا دیا تو پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا، پھر ایک پکارنے والے نے پکارا: اے قافلے والو! تم یقیناً چور ہو۔

At length when he had furnished them forth with provisions (suitable) for them, he put the drinking cup into his brother's saddle-bag. Then shouted out a crier: "O ye (in) the caravan! behold! ye are thieves, without doubt

12:71 يوسف

قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے؟

They said, turning towards them: "What is it that ye miss

12:72 يوسف

قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌ

انہوں نے کہا: ہم بادشاہ کا پیمانہ نہیں پاتے، اور جو اسے لائے اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ (انعام) ہے، اور میں اس کا ضامن ہوں۔

They said: "We miss the great beaker of the king; for him who produces it, is (the reward of) a camel load; I will be bound by it

12:73 يوسف

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ

انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے، اور نہ ہم چور ہیں۔

(The brothers) said: "By Allah! well ye know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves

12:74 يوسف

قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَٰذِبِينَ

انہوں نے کہا: اگر تم جھوٹے نکلے تو اس کی سزا کیا ہوگی؟

(The Egyptians) said: "What then shall be the penalty of this, if ye are (proved) to have lied

12:75 يوسف

قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ

انہوں نے کہا: اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں وہ پایا جائے وہی اس کے بدلے میں (رکھ لیا جائے)، ہم ظالموں کو یہی سزا دیتے ہیں۔

They said: "The penalty should be that he in whose saddle-bag it is found, should be held (as bondman) to atone for the (crime). Thus it is we punish the wrong-doers

12:76 يوسف

فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍ مَّن نَّشَآءُ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ

تو اس نے اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں کی تلاشی شروع کی، پھر اسے اپنے بھائی کے تھیلے سے نکال لیا۔ اسی طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی؛ وہ بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتا تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں، اور ہر علم والے کے اوپر ایک بڑا علم والا ہے۔

So he began (the search) with their baggage, before (he came to) the baggage of his brother: at length he brought it out of his brother's baggage. Thus did We plan for Joseph. He could not take his brother by the law of the king except that Allah willed it (so). We raise to degrees (of wisdom) whom We please: but over all endued with knowledge is one, the All-Knowing

12:77 يوسف

قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُۥ مِن قَبْلُ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ

انہوں نے کہا: اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا ایک بھائی بھی چوری کر چکا ہے۔ تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں چھپا لی اور ان پر ظاہر نہ کی، (دل میں) کہا: تم بدتر درجے کے ہو، اور جو تم بیان کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

They said: "If he steals, there was a brother of his who did steal before (him)." But these things did Joseph keep locked in his heart, revealing not the secrets to them. He (simply) said (to himself): "Ye are the worse situated; and Allah knoweth best the truth of what ye assert

12:78 يوسف

قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

انہوں نے کہا: اے عزیز! اس کا ایک بہت بوڑھا باپ ہے، تو اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو نیکی کرنے والوں میں سے دیکھتے ہیں۔

They said: "O exalted one! Behold! he has a father, aged and venerable, (who will grieve for him); so take one of us in his place; for we see that thou art (gracious) in doing good

12:79 يوسف

قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًا لَّظَٰلِمُونَ

اس نے کہا: اللہ کی پناہ کہ ہم اس کے سوا کسی کو رکھیں جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا، ورنہ ہم ظالم ہوں گے۔

He said: "Allah forbid that we take other than him with whom we found our property: indeed (if we did so), we should be acting wrongfully

12:80 يوسف

فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّا قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ

پھر جب وہ اس سے مایوس ہو گئے تو الگ ہو کر سرگوشی کرنے لگے۔ ان میں سے بڑے نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا پختہ عہد لیا تھا، اور اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں کوتاہی کر چکے ہو؟ تو میں اس زمین سے ہرگز نہیں ہلوں گا جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ میرے لیے کوئی فیصلہ نہ کر دے، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

Now when they saw no hope of his (yielding), they held a conference in private. The leader among them said: "Know ye not that your father did take an oath from you in Allah's name, and how, before this, ye did fail in your duty with Joseph? Therefore will I not leave this land until my father permits me, or Allah commands me; and He is the best to command

12:81 يوسف

ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٰفِظِينَ

اپنے باپ کے پاس لوٹ جاؤ اور کہو: ابا جان! آپ کے بیٹے نے چوری کی، اور ہم نے وہی گواہی دی جو ہم جانتے تھے، اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے،

Turn ye back to your father, and say, 'O our father! behold! thy son committed theft! we bear witness only to what we know, and we could not well guard against the unseen

12:82 يوسف

وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ

اور اس بستی سے پوچھ لیجیے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے جس کے ساتھ ہم آئے، اور ہم بالکل سچے ہیں۔

Ask at the town where we have been and the caravan in which we returned, and (you will find) we are indeed telling the truth

11

یوسفؑ کا تعارف

بھائی تیسری بار آئے اور صدقہ مانگا؛ یوسفؑ نے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟ پھر کہا: میں یوسف ہوں۔ انہوں نے معافی مانگی اور یوسفؑ نے کہا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔

قرآن کے حوالے 12:88-93
تمام آیات (6)
12:88 يوسف

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَٰعَةٍ مُّزْجَىٰةٍ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ

پھر جب وہ اس کے پاس پہنچے تو کہا: اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو سخت تکلیف پہنچی ہے، اور ہم تھوڑی سی پونجی لے کر آئے ہیں، تو ہمیں پورا غلہ دیجیے اور ہم پر صدقہ کیجیے، بے شک اللہ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے۔

Then, when they came (back) into (Joseph's) presence they said: "O exalted one! distress has seized us and our family: we have (now) brought but scanty capital: so pay us full measure, (we pray thee), and treat it as charity to us: for Allah doth reward the charitable

12:89 يوسف

قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَٰهِلُونَ

اس نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب تم نادان تھے؟

He said: "Know ye how ye dealt with Joseph and his brother, not knowing (what ye were doing)

12:90 يوسف

قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِى قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

وہ بولے: کیا تم ہی یوسف ہو؟ اس نے کہا: میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا؛ بے شک جو تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

They said: "Art thou indeed Joseph?" He said, "I am Joseph, and this is my brother: Allah has indeed been gracious to us (all): behold, he that is righteous and patient,- never will Allah suffer the reward to be lost, of those who do right

12:91 يوسف

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ

انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی، اور ہم یقیناً خطاکار تھے۔

They said: "By Allah! indeed has Allah preferred thee above us, and we certainly have been guilty of sin

12:92 يوسف اہم آیت

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

(یوسف نے) کہا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں بخش دے، اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

He said: "This day let no reproach be (cast) on you: Allah will forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy

12:93 يوسف

ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ

میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی لوٹ آئے گی، اور اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔

Go with this my shirt, and cast it over the face of my father: he will come to see (clearly). Then come ye (here) to me together with all your family

12

ملاپ اور خواب کی تعبیر

یعقوبؑ کی بینائی لوٹ آئی اور خاندان مصر آیا۔ والدین تخت پر بیٹھے اور سب نے ان کے سامنے سجدہ کیا؛ یوسفؑ نے کہا: ابا جان! یہ میرے پرانے خواب کی تعبیر ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی: مجھے مسلمان وفات دے اور نیکوں سے ملا دے۔

قرآن کے حوالے 12:94-101
تمام آیات (8)
12:94 يوسف

وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد نے کہا: اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔

When the caravan left (Egypt), their father said: "I do indeed scent the presence of Joseph: Nay, think me not a dotard

12:95 يوسف

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ

انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ تو اپنی اسی پرانی غلطی میں ہیں۔

They said: "By Allah! truly thou art in thine old wandering mind

12:96 يوسف

فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًا قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

پھر جب خوشخبری دینے والا آیا اور اس نے وہ (قمیص) اس کے چہرے پر ڈالی تو اس کی بینائی لوٹ آئی۔ کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے؟

Then when the bearer of the good news came, He cast (the shirt) over his face, and he forthwith regained clear sight. He said: "Did I not say to you, 'I know from Allah that which ye know not

12:97 يوسف

قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ

انہوں نے کہا: ابا جان! ہمارے گناہوں کی بخشش مانگیے، بے شک ہم خطاکار تھے۔

They said: "O our father! ask for us forgiveness for our sins, for we were truly at fault

12:98 يوسف

قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

(یعقوب نے) کہا: میں جلد اپنے رب سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

He said: "Soon will I ask my Lord for forgiveness for you: for he is indeed Oft-Forgiving, Most Merciful

12:99 يوسف

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ

پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا: مصر میں اللہ نے چاہا تو امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔

Then when they entered the presence of Joseph, he provided a home for his parents with himself, and said: "Enter ye Egypt (all) in safety if it please Allah

12:100 يوسف اہم آیت

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًا وَقَالَ يَٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌ لِّمَا يَشَآءُ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

اور اس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے سجدے میں گر پڑے، اور اس نے کہا: ابا جان! یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے، میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا۔ اور اس نے مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو صحرا سے لے آیا، اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا۔ بے شک میرا رب جو چاہے اس کے لیے باریک بین ہے، بے شک وہی سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

And he raised his parents high on the throne (of dignity), and they fell down in prostration, (all) before him. He said: "O my father! this is the fulfilment of my vision of old! Allah hath made it come true! He was indeed good to me when He took me out of prison and brought you (all here) out of the desert, (even) after Satan had sown enmity between me and my brothers. Verily my Lord understandeth best the mysteries of all that He planneth to do, for verily He is full of knowledge and wisdom

12:101 يوسف

رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ تَوَفَّنِى مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ

(یوسف نے دعا کی:) اے میرے رب! تو نے مجھے حکومت میں سے حصہ دیا اور باتوں کی تعبیر کا علم سکھایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا کارساز ہے، مجھے فرمانبرداری کی حالت میں موت دے اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔

O my Lord! Thou hast indeed bestowed on me some power, and taught me something of the interpretation of dreams and events,- O Thou Creator of the heavens and the earth! Thou art my Protector in this world and in the Hereafter. Take Thou my soul (at death) as one submitting to Thy will (as a Muslim), and unite me with the righteous

انبیاء کا صفحہ (نام، سورتیں، دعائیں)

© 2026 Meem Ain Studio · تعارف · پرائیویسی

↑