ہر کارڈ پر درجہ لکھا ہے: «واضح» جہاں قرآنی شواہد مضبوط ہیں، «رجحان» جہاں عام طور پر یہ فرق ملتا ہے مگر استثنا بھی ہیں، اور «مختلف فیہ» جہاں علماء کی رائے مختلف ہے۔ مثالیں دیکھنے کے لیے «قرآنی مثالیں» پر کلک کریں۔
سَنَة · عَامسالرجحان، استثنا کے ساتھوقت اور فطرت
رجحان یہ ہے کہ «سَنَة» سختی اور مشقت کے سالوں کے لیے اور «عَام» آسانی اور راحت کے سال کے لیے آتا ہے۔
نوحؑ اپنی قوم میں «أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا» رہے: دعوت کی مشقت کے لمبے سال سَنَة، اور باقی پچاس سال (بظاہر طوفان کے بعد) عَام۔ یوسفؑ کی تعبیر میں قحط کے سات سال «سِنِين» اور بارش کا سال «عَام» ہے۔
قرآنی مثالیں (3)
29:14 العنكبوتدونوں ایک آیت میں
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمْ ظَٰلِمُونَ
اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے، پھر انہیں طوفان نے آ پکڑا اور وہ ظالم تھے۔
We (once) sent Noah to his people, and he tarried among them a thousand years less fifty: but the Deluge overwhelmed them while they (persisted in) sin
12:47 يوسفمشقت کے سال: سِنِين
قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(یوسف نے) کہا: تم سات سال تک لگاتار کھیتی کرو گے، تو جو فصل کاٹو اسے اس کی بالیوں میں ہی رہنے دینا، سوائے تھوڑے سے کے جو تم کھاؤ۔
(Joseph) said: "For seven years shall ye diligently sow as is your wont: and the harvests that ye reap, ye shall leave them in the ear,- except a little, of which ye shall eat
12:49 يوسفراحت کا سال: عَام
ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش برسائی جائے گی اور اس میں وہ (رس) نچوڑیں گے۔
Then will come after that (period) a year in which the people will have abundant water, and in which they will press (wine and oil)
مَطَر · غَيْثبارشرجحان، استثنا کے ساتھوقت اور فطرت
«مَطَر» زیادہ تر عذاب کی بارش کے لیے آتا ہے، جیسے قومِ لوط پر پتھروں کی بارش۔ «غَيْث» ہمیشہ رحمت کی بارش ہے جو مایوسی کے بعد آتی ہے۔
استثنا: 4:102 میں «مَطَر» عام بارش کے لیے ہے۔
قرآنی مثالیں (3)
7:84 الأعرافمَطَر: عذاب
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ
اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی، تو دیکھیے مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔
And we rained down on them a shower (of brimstone): Then see what was the end of those who indulged in sin and crime
42:28 الشورىغَيْث: رحمت
وَهُوَ ٱلَّذِى يُنَزِّلُ ٱلْغَيْثَ مِنۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوا۟ وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُۥ وَهُوَ ٱلْوَلِىُّ ٱلْحَمِيدُ
اور وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی کارساز، تعریف کے لائق ہے۔
He is the One that sends down rain (even) after (men) have given up all hope, and scatters His Mercy (far and wide). And He is the Protector, Worthy of all Praise
4:102 النساءاستثنا: عام بارش
وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوٓا۟ أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا۟ فَلْيَكُونُوا۟ مِن وَرَآئِكُمْ وَلْتَأْتِ طَآئِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا۟ فَلْيُصَلُّوا۟ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا۟ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ وَدَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَٰحِدَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَن تَضَعُوٓا۟ أَسْلِحَتَكُمْ وَخُذُوا۟ حِذْرَكُمْ إِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا
اور جب آپ ان میں ہوں اور انہیں نماز پڑھائیں تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو اور اپنے ہتھیار لیے رہے۔ پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو تمہارے پیچھے ہو جائیں، اور دوسرا گروہ جس نے نماز نہیں پڑھی آئے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھے، اور وہ بھی اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار لیے رہیں۔ کافر چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں۔ اور اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو ہتھیار رکھ دینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، مگر اپنا بچاؤ لیے رہو۔ بے شک اللہ نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔
When thou (O Messenger) art with them, and standest to lead them in prayer, Let one party of them stand up (in prayer) with thee, Taking their arms with them: When they finish their prostrations, let them Take their position in the rear. And let the other party come up which hath not yet prayed - and let them pray with thee, Taking all precaution, and bearing arms: the Unbelievers wish, if ye were negligent of your arms and your baggage, to assault you in a single rush. But there is no blame on you if ye put away your arms because of the inconvenience of rain or because ye are ill; but take (every) precaution for yourselves. For the Unbelievers Allah hath prepared a humiliating punishment
رِيح · رِيَاحہوا / ہوائیںرجحان، استثنا کے ساتھوقت اور فطرت
واحد «رِيح» اکثر تباہی کی ہوا کے لیے (عاد پر آندھی)، اور جمع «رِيَاح» رحمت اور خوشخبری کی ہواؤں کے لیے آتی ہے۔
استثنا: 10:22 میں «بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ» (اچھی ہوا) واحد ہے، اور اسی آیت میں «رِيحٌ عَاصِفٌ» بھی ہے۔
قرآنی مثالیں (3)
69:6 الحاقةواحد: تباہی
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا۟ بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ
اور رہے عاد، تو وہ ایک سخت سرد، حد سے بڑھی ہوئی آندھی سے ہلاک کر دیے گئے۔
And the 'Ad, they were destroyed by a furious Wind, exceedingly violent
30:46 الرومجمع: خوشخبری
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن يُرْسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَلِتَجْرِىَ ٱلْفُلْكُ بِأَمْرِهِۦ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے، تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے، اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں، اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر کرو۔
Among His Signs is this, that He sends the Winds, as heralds of Glad Tidings, giving you a taste of His (Grace and) Mercy,- that the ships may sail (majestically) by His Command and that ye may seek of His Bounty: in order that ye may be grateful
10:22 يونساستثنا: اچھی ہوا بھی، آندھی بھی
هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ
وہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ اچھی ہوا کے ساتھ لوگوں کو لے کر چلتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں، تو اچانک ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے موجیں انہیں گھیر لیتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ گھر گئے، تو اللہ کو خالص اسی کی اطاعت کے ساتھ پکارتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں اس سے بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔
He it is Who enableth you to traverse through land and sea; so that ye even board ships;- they sail with them with a favourable wind, and they rejoice thereat; then comes a stormy wind and the waves come to them from all sides, and they think they are being overwhelmed: they cry unto Allah, sincerely offering (their) duty unto Him saying, "If thou dost deliver us from this, we shall truly show our gratitude
ضِيَاء · نُورروشنیواضحوقت اور فطرت
«ضِيَاء» وہ تیز روشنی جو اپنے منبع سے خود نکلے (سورج)؛ «نُور» نرم اور منعکس روشنی (چاند)۔
اللہ کو «نُور» کہا گیا (24:35)، کبھی «ضِيَاء» نہیں۔
قرآنی مثالیں (2)
10:5 يونسسورج ضیاء، چاند نور
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءً وَٱلْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
وہی ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان لو۔ اللہ نے یہ سب کچھ حق کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے۔ وہ جاننے والوں کے لیے آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔
It is He Who made the sun to be a shining glory and the moon to be a light (of beauty), and measured out stages for her; that ye might know the number of years and the count (of time). Nowise did Allah create this but in truth and righteousness. (Thus) doth He explain His Signs in detail, for those who understand
24:35 النوراللہ آسمانوں اور زمین کا نور
ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِۦ كَمِشْكَوٰةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ٱلْمِصْبَاحُ فِى زُجَاجَةٍ ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَٰرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِىٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ يَهْدِى ٱللَّهُ لِنُورِهِۦ مَن يَشَآءُ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَٰلَ لِلنَّاسِ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہو، چراغ ایک شیشے میں ہو، شیشہ گویا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے، وہ زیتون کے ایک مبارک درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی، قریب ہے کہ اس کا تیل خود ہی روشنی دے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے۔ نور پر نور ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
Allah is the Light of the heavens and the earth. The Parable of His Light is as if there were a Niche and within it a Lamp: the Lamp enclosed in Glass: the glass as it were a brilliant star: Lit from a blessed Tree, an Olive, neither of the east nor of the west, whose oil is well-nigh luminous, though fire scarce touched it: Light upon Light! Allah doth guide whom He will to His Light: Allah doth set forth Parables for men: and Allah doth know all things
زَوْج · امْرَأَةبیویرجحان، استثنا کے ساتھانسان اور رشتے
بنت الشاطی کا مشاہدہ: «امْرَأَة» وہاں آتا ہے جہاں ایمان یا تعلق میں ہم آہنگی نہ ہو (نوحؑ، لوطؑ، فرعون اور عزیز کی بیویاں)، اور «زَوْج» جہاں ہم آہنگی ہو۔
زکریاؑ: اولاد سے پہلے «امْرَأَتِي عَاقِرًا»، اور اولاد عطا ہونے کے بعد «وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ»۔
قرآنی مثالیں (4)
66:10 التحريمنوحؑ اور لوطؑ کی بیویاں
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱمْرَأَتَ نُوحٍ وَٱمْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَٰلِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا وَقِيلَ ٱدْخُلَا ٱلنَّارَ مَعَ ٱلدَّٰخِلِينَ
اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان کی ہے۔ وہ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں، پھر انہوں نے ان سے خیانت کی، تو وہ اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آئے، اور کہا گیا: دونوں داخل ہونے والوں کے ساتھ آگ میں داخل ہو جاؤ۔
Allah sets forth, for an example to the Unbelievers, the wife of Noah and the wife of Lut: they were (respectively) under two of our righteous servants, but they were false to their (husbands), and they profited nothing before Allah on their account, but were told: "Enter ye the Fire along with (others) that enter
12:30 يوسفعزیز کی بیوی
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ
اور شہر کی کچھ عورتوں نے کہا: عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اس کی مرضی کے خلاف اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے، اس کی محبت اس کے دل میں گھر کر گئی ہے، ہم تو اسے کھلی غلطی میں دیکھتی ہیں۔
Ladies said in the City: "The wife of the (great) 'Aziz is seeking to seduce her slave from his (true) self: Truly hath he inspired her with violent love: we see she is evidently going astray
19:5 مريماولاد سے پہلے: امْرَأَة
وَإِنِّى خِفْتُ ٱلْمَوَٰلِىَ مِن وَرَآءِى وَكَانَتِ ٱمْرَأَتِى عَاقِرًا فَهَبْ لِى مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا
(زکریا نے دعا کی:) اور مجھے اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے اندیشہ ہے، اور میری بیوی بانجھ ہے، تو مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا کر۔
Now I fear (what) my relatives (and colleagues) (will do) after me: but my wife is barren: so give me an heir as from Thyself
21:90 الأنبياءاولاد کے بعد: زَوْج
فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ وَوَهَبْنَا لَهُۥ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُۥ زَوْجَهُۥٓ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا۟ لَنَا خَٰشِعِينَ
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا، اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست کر دیا۔ بے شک یہ لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے، اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے تھے، اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔
So We listened to him: and We granted him Yahya: We cured his wife's (Barrenness) for him. These (three) were ever quick in emulation in good works; they used to call on Us with love and reverence, and humble themselves before Us
أَب · وَالِدباپرجحان، استثنا کے ساتھانسان اور رشتے
«وَالِد» حقیقی (جسمانی) والد کے لیے ہے؛ «أَب» وسیع ہے اور دادا اور چچا کو بھی شامل کر سکتا ہے۔ یعقوبؑ کے بیٹے «آبَائِكَ» میں اسماعیلؑ کو گنتے ہیں جو یعقوبؑ کے چچا تھے۔
بعض علماء اسی بنیاد پر کہتے ہیں کہ آزر (جسے «أَبِيهِ» کہا گیا) ابراہیمؑ کا چچا تھا، کیونکہ ابراہیمؑ نے بعد میں «وَالِدَيَّ» کے لیے دعا کی۔ یہ رائے مختلف فیہ ہے۔
قرآنی مثالیں (3)
2:133 البقرةاسماعیلؑ بھی «آباء» میں
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ ٱلْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنۢ بَعْدِى قَالُوا۟ نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ ءَابَآئِكَ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ إِلَٰهًا وَٰحِدًا وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ
کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے، جو ایک ہی معبود ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔
Were ye witnesses when death appeared before Jacob? Behold, he said to his sons: "What will ye worship after me?" They said: "We shall worship Thy god and the god of thy fathers, of Abraham, Isma'il and Isaac,- the one (True) Allah: To Him we bow (in Islam)
6:74 الأنعام«أَبِيهِ آزَرَ»
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا ءَالِهَةً إِنِّىٓ أَرَىٰكَ وَقَوْمَكَ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا: کیا آپ بتوں کو معبود بناتے ہیں؟ میں آپ کو اور آپ کی قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔
Lo! Abraham said to his father Azar: "Takest thou idols for gods? For I see thee and thy people in manifest error
14:41 إبراهيم«وَالِدَيَّ» کے لیے دعا
رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ
اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو اس دن بخش دے جب حساب قائم ہوگا۔
O our Lord! cover (us) with Thy Forgiveness - me, my parents, and (all) Believers, on the Day that the Reckoning will be established
بَشَر · إِنسَانانسانواضحانسان اور رشتے
«بَشَر» کا تعلق «بَشَرَة» (کھال) سے ہے، یعنی انسان بطور جسمانی وجود۔ «إِنسَان» سوچنے والا، ذمہ دار انسان، اکثر اس کی کمزوریوں کے ذکر کے ساتھ۔
قرآنی مثالیں (2)
18:110 الكهفمیں تم جیسا بشر ہوں
قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ فَمَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَٰلِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدًۢا
کہہ دیجیے: میں تو بس تم جیسا ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔ تو جو اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔
Say: "I am but a man like yourselves, (but) the inspiration has come to me, that your Allah is one Allah: whoever expects to meet his Lord, let him work righteousness, and, in the worship of his Lord, admit no one as partner
4:28 النساءانسان کمزور پیدا کیا گیا
يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ وَخُلِقَ ٱلْإِنسَٰنُ ضَعِيفًا
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے، اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
Allah doth wish to lighten your (difficulties): For man was created Weak (in flesh)
جِسْم · جَسَدجسمواضحانسان اور رشتے
«جَسَد» بے جان یا بے روح جسم (بچھڑے کا دھڑ، سلیمانؑ کی کرسی پر ڈالا گیا دھڑ)؛ «جِسْم» زندہ جسم (طالوت کی جسمانی قوت)۔
قرآنی مثالیں (3)
7:148 الأعرافبے جان دھڑ
وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُۥ خُوَارٌ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ
اور موسیٰ کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا، ایک دھڑ جس سے گائے جیسی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ انہیں کوئی راستہ دکھاتا ہے؟ انہوں نے اسے (معبود) بنا لیا اور وہ ظالم تھے۔
The people of Moses made, in his absence, out of their ornaments, the image of calf, (for worship): it seemed to low: did they not see that it could neither speak to them, nor show them the way? They took it for worship and they did wrong
38:34 صکرسی پر ڈالا گیا دھڑ
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَٰنَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِۦ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ
اور ہم نے سلیمان کو آزمایا اور ان کی کرسی پر ایک دھڑ ڈال دیا، پھر انہوں نے رجوع کیا۔
And We did try Solomon: We placed on his throne a body (without life); but he did turn (to Us in true devotion)
2:247 البقرةزندہ جسم کی قوت
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُوٓا۟ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِٱلْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ ٱلْمَالِ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُۥ بَسْطَةً فِى ٱلْعِلْمِ وَٱلْجِسْمِ وَٱللَّهُ يُؤْتِى مُلْكَهُۥ مَن يَشَآءُ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ
اور ان کے نبی نے ان سے کہا: اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا: اسے ہم پر بادشاہی کیسے مل سکتی ہے جبکہ ہم اس سے زیادہ بادشاہی کے حق دار ہیں، اور اسے مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی؟ نبی نے کہا: اللہ نے اسے تم پر چن لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ وسعت دی ہے، اور اللہ اپنی بادشاہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
Their Prophet said to them: "Allah hath appointed Talut as king over you." They said: "How can he exercise authority over us when we are better fitted than he to exercise authority, and he is not even gifted, with wealth in abundance?" He said: "Allah hath Chosen him above you, and hath gifted him abundantly with knowledge and bodily prowess: Allah Granteth His authority to whom He pleaseth. Allah careth for all, and He knoweth all things
صَوْم · صِيَامروزہواضحعبادت اور کلام
مریمؑ کا «صَوْم» خاموشی کا روزہ تھا: «آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی»۔ کھانے پینے سے رکنے والا عبادت کا روزہ ہمیشہ «صِيَام» ہے۔
قرآنی مثالیں (2)
19:26 مريمصَوْم: خاموشی
فَكُلِى وَٱشْرَبِى وَقَرِّى عَيْنًا فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ ٱلْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِىٓ إِنِّى نَذَرْتُ لِلرَّحْمَٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ ٱلْيَوْمَ إِنسِيًّا
تو کھاؤ، پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ پھر اگر کسی آدمی کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے رحمٰن کے لیے روزے کی منت مانی ہے، تو آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔
So eat and drink and cool (thine) eye. And if thou dost see any man, say, 'I have vowed a fast to (Allah) Most Gracious, and this day will I enter into not talk with any human being
2:183 البقرةصِيَام: عبادت کا روزہ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
O ye who believe! Fasting is prescribed to you as it was prescribed to those before you, that ye may (learn) self-restraint
حَلَفَ · أَقْسَمَقسم کھانارجحان، استثنا کے ساتھعبادت اور کلام
«حَلَفَ» زیادہ تر جھوٹی یا ٹوٹنے والی قسموں کے لیے، خاص طور پر منافقین کی؛ «أَقْسَمَ» سنجیدہ اور سچی قسموں کے لیے، اللہ کی اپنی قسموں سمیت۔
قرآنی مثالیں (3)
9:56 التوبةمنافقین کی قسم
وَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنكُمْ وَمَا هُم مِّنكُمْ وَلَٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ
اور وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں، بلکہ وہ ڈرپوک لوگ ہیں۔
They swear by Allah that they are indeed of you; but they are not of you: yet they are afraid (to appear in their true colours)
58:14 المجادلةجان بوجھ کر جھوٹی قسم
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ تَوَلَّوْا۟ قَوْمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى ٱلْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسی قوم سے دوستی کی جس پر اللہ کا غضب ہوا؟ وہ نہ تم میں سے ہیں نہ ان میں سے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔
Turnest thou not thy attention to those who turn (in friendship) to such as have the Wrath of Allah upon them? They are neither of you nor of them, and they swear to falsehood knowingly
56:75 الواقعةاللہ کی قسم
فَلَآ أُقْسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ
تو میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں۔
Furthermore I call to witness the setting of the Stars
أَنزَلَ · نَزَّلَنازل کرنامختلف فیہعبادت اور کلام
بہت سے علماء کے مطابق «نَزَّلَ» (باب تفعیل) تدریجاً اتارنے اور «أَنزَلَ» یکبارگی اتارنے کے لیے ہے: قرآن 23 سال میں تھوڑا تھوڑا آیا، تورات اور انجیل یکجا۔
یہ فرق مختلف فیہ ہے کیونکہ قرآن میں استعمال ہر جگہ یکساں نہیں۔
قرآنی مثالیں (1)
3:3 آل عمراندونوں ایک آیت میں
نَزَّلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ
اس نے آپ پر حق کے ساتھ (تھوڑا تھوڑا کر کے) کتاب اتاری جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور اسی نے تورات اور انجیل اتاری۔
It is He Who sent down to thee (step by step), in truth, the Book, confirming what went before it; and He sent down the Law (of Moses) and the Gospel (of Jesus) before this, as a guide to mankind, and He sent down the criterion (of judgment between right and wrong)
رَيْب · شَكّشکرجحان، استثنا کے ساتھعبادت اور کلام
«رَيْب» وہ شک جس میں بدگمانی اور بےچینی شامل ہو؛ «شَكّ» دو باتوں کے درمیان سادہ تردد۔
قرآنی مثالیں (2)
2:2 البقرةرَيْب
ذَٰلِكَ ٱلْكِتَٰبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ
یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔
This is the Book; in it is guidance sure, without doubt, to those who fear Allah
14:10 إبراهيمشَكّ
قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِى ٱللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَٰنٍ مُّبِينٍ
ان کے رسولوں نے کہا: کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے؟ وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہ بخش دے اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے۔ انہوں نے کہا: تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو، تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان سے روک دو جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے، تو ہمارے پاس کوئی کھلی دلیل لاؤ۔
Their messengers said: "Is there a doubt about Allah, The Creator of the heavens and the earth? It is He Who invites you, in order that He may forgive you your sins and give you respite for a term appointed!" They said: "Ah! ye are no more than human, like ourselves! Ye wish to turn us away from the (gods) our fathers used to worship: then bring us some clear authority
حُزْن · بَثّغمواضحجذبات اور اعمال
«بَثّ» اتنا شدید غم کہ انسان اسے انڈیلنے پر مجبور ہو (مادے کا مطلب پھیلانا ہے)؛ «حُزْن» اندر رکھا ہوا غم۔ یعقوبؑ نے دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا۔
قرآنی مثالیں (1)
12:86 يوسفدونوں ایک آیت میں
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(یعقوب نے) کہا: میں اپنی بےقراری اور اپنا غم اللہ ہی سے کہتا ہوں، اور میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
He said: "I only complain of my distraction and anguish to Allah, and I know from Allah that which ye know not
نِعْمَة · نَعِيمنعمترجحان، استثنا کے ساتھجذبات اور اعمال
«نِعْمَة» زیادہ تر دنیا کی نعمت؛ «نَعِيم» زیادہ تر جنت کی دائمی راحت («جَنَّاتِ النَّعِيمِ»)۔
استثنا: 102:8 میں «النَّعِيم» دنیا کی نعمتوں کے لیے ہے۔
قرآنی مثالیں (3)
14:34 إبراهيمدنیا کی نعمتیں
وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ
اور اس نے تمہیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی، اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے۔ بے شک انسان بڑا ظالم، بڑا ناشکرا ہے۔
And He giveth you of all that ye ask for. But if ye count the favours of Allah, never will ye be able to number them. Verily, man is given up to injustice and ingratitude
56:12 الواقعةجنت کی نعمت
فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ
نعمتوں والے باغوں میں۔
In Gardens of Bliss
102:8 التكاثراستثنا: دنیا کی نعمتوں کا سوال
ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ
پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔
Then, shall ye be questioned that Day about the joy (ye indulged in)
فَعَلَ · عَمِلَ · صَنَعَکرنارجحان، استثنا کے ساتھجذبات اور اعمال
«فَعَلَ» کوئی بھی کام، ارادے سے ہو یا بغیر؛ «عَمِلَ» ارادے اور نیت والا کام (اسی لیے «الْعَمَل الصَّالِح»)؛ «صَنَعَ» مہارت اور کاریگری والا کام۔
قرآنی مثالیں (3)
105:1 الفيلفَعَلَ
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَٰبِ ٱلْفِيلِ
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟
Seest thou not how thy Lord dealt with the Companions of the Elephant
103:3 العصرعَمِلَ: نیک عمل
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْحَقِّ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔
Except such as have Faith, and do righteous deeds, and (join together) in the mutual teaching of Truth, and of Patience and Constancy
27:88 النملصُنْع: کاریگری
وَتَرَى ٱلْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِ صُنْعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِىٓ أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ إِنَّهُۥ خَبِيرٌۢ بِمَا تَفْعَلُونَ
اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو اور انہیں جما ہوا سمجھتے ہو حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہوں گے۔ یہ اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بے شک وہ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔
Thou seest the mountains and thinkest them firmly fixed: but they shall pass away as the clouds pass away: (such is) the artistry of Allah, who disposes of all things in perfect order: for he is well acquainted with all that ye do
إِسْرَاف · تَبْذِيرفضول خرچیواضحجذبات اور اعمال
«إِسْرَاف» جائز چیز میں بھی حد سے بڑھنا؛ «تَبْذِير» وہاں خرچ کرنا جہاں خرچ ہونا ہی نہیں چاہیے۔
قرآنی مثالیں (2)
7:31 الأعرافإِسْرَاف: کھانے پینے میں بھی
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ
اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت (لباس) اختیار کرو، اور کھاؤ پیو مگر حد سے نہ بڑھو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
O Children of Adam! wear your beautiful apparel at every time and place of prayer: eat and drink: But waste not by excess, for Allah loveth not the wasters
17:27 الإسراءتَبْذِير: شیطان کے بھائی
إِنَّ ٱلْمُبَذِّرِينَ كَانُوٓا۟ إِخْوَٰنَ ٱلشَّيَٰطِينِ وَكَانَ ٱلشَّيْطَٰنُ لِرَبِّهِۦ كَفُورًا
بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔
Verily spendthrifts are brothers of the Evil Ones; and the Evil One is to his Lord (himself) ungrateful
فَرَح · سُرُورخوشیرجحان، استثنا کے ساتھجذبات اور اعمال
«فَرَح» اکثر اترانے اور حد سے بڑھی خوشی کے لیے، مگر اچھی وجہ ہو تو اچھا بھی ہے؛ «سُرُور» اندرونی خوشی اور ہمیشہ مثبت۔
قرآنی مثالیں (3)
28:76 القصصقارون کا اترانا
إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ وَءَاتَيْنَٰهُ مِنَ ٱلْكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلْعُصْبَةِ أُو۟لِى ٱلْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُۥ قَوْمُهُۥ لَا تَفْرَحْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْفَرِحِينَ
بے شک قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا، پھر اس نے ان پر سرکشی کی۔ اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو بھی بھاری پڑتیں۔ جب اس کی قوم نے اس سے کہا: اترا مت، بے شک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Qarun was doubtless, of the people of Moses; but he acted insolently towards them: such were the treasures We had bestowed on him that their very keys would have been a burden to a body of strong men, behold, his people said to him: "Exult not, for Allah loveth not those who exult (in riches)
10:58 يونساللہ کے فضل پر خوشی
قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ
کہہ دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر، تو اسی پر انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
Say: "In the bounty of Allah. And in His Mercy,- in that let them rejoice": that is better than the (wealth) they hoard
76:11 الإنسانسُرُور: جنتیوں کی خوشی
فَوَقَىٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمِ وَلَقَّىٰهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا
تو اللہ نے انہیں اس دن کے شر سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی عطا کی۔
But Allah will deliver them from the evil of that Day, and will shed over them a Light of Beauty and (blissful) Joy
دُعَاء · نِدَاءپکارنارجحان، استثنا کے ساتھجذبات اور اعمال
«نِدَاء» بلند آواز سے پکارنا، جیسے دور والے کو؛ «دُعَاء» عام پکار اور مانگنا۔ زکریاؑ کی «نِدَاءً خَفِيًّا» میں پکار پورے دل سے ہے مگر چپکے سے۔
قرآنی مثالیں (2)
19:3 مريمچپکے سے نِدَاء
إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥ نِدَآءً خَفِيًّا
جب انہوں نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا۔
Behold! he cried to his Lord in secret
7:55 الأعرافدُعَاء: گڑگڑا کر، چپکے سے
ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ
اپنے رب کو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Call on your Lord with humility and in private: for Allah loveth not those who trespass beyond bounds
إِيمَان · إِسْلَامایمان اور اسلامواضحایمان اور دین
کلیدی آیت 49:14: «اسلام» ظاہری اطاعت ہے، «ایمان» وہ یقین جو دل میں داخل ہو جائے۔
قرآنی مثالیں (1)
49:14 الحجراتدونوں ایک آیت میں
قَالَتِ ٱلْأَعْرَابُ ءَامَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا۟ وَلَٰكِن قُولُوٓا۟ أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ ٱلْإِيمَٰنُ فِى قُلُوبِكُمْ وَإِن تُطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَٰلِكُمْ شَيْـًٔا إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
دیہاتیوں نے کہا: ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجیے: تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطاعت قبول کی، اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کرے گا، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
The desert Arabs say, "We believe." Say, "Ye have no faith; but ye (only) say, 'We have submitted our wills to Allah,' For not yet has Faith entered your hearts. But if ye obey Allah and His Messenger, He will not belittle aught of your deeds: for Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful
دِين · شِرْعَة · مِنْهَاجدین، شریعت، راستہواضحایمان اور دین
«دِين» اصل عقیدہ جو تمام انبیاء کا ایک ہے (42:13)؛ «شِرْعَة» مخصوص قانون جو انبیاء کے درمیان مختلف رہا؛ «مِنْهَاج» اس پر چلنے کا واضح راستہ (5:48)۔
قرآنی مثالیں (2)
5:48 المائدةشِرْعَة اور مِنْهَاج
وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَٰحِدَةً وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَىٰكُمْ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب اتاری جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان پر نگہبان ہے، تو آپ ان کے درمیان اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ کریں اور جو حق آپ کے پاس آیا ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کریں۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راستہ مقرر کیا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تو نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔ تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے۔
To thee We sent the Scripture in truth, confirming the scripture that came before it, and guarding it in safety: so judge between them by what Allah hath revealed, and follow not their vain desires, diverging from the Truth that hath come to thee. To each among you have we prescribed a law and an open way. If Allah had so willed, He would have made you a single people, but (His plan is) to test you in what He hath given you: so strive as in a race in all virtues. The goal of you all is to Allah; it is He that will show you the truth of the matters in which ye dispute
42:13 الشورىسب انبیاء کا ایک دین
شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحًا وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِۦٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ أَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا۟ فِيهِ كَبُرَ عَلَى ٱلْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ٱللَّهُ يَجْتَبِىٓ إِلَيْهِ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ
اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا حکم نوح کو دیا تھا، اور جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا، اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا، کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ مشرکوں پر وہ بات بہت بھاری ہے جس کی طرف آپ انہیں بلاتے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی طرف چن لیتا ہے، اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راہ دکھاتا ہے۔
The same religion has He established for you as that which He enjoined on Noah - the which We have sent by inspiration to thee - and that which We enjoined on Abraham, Moses, and Jesus: Namely, that ye should remain steadfast in religion, and make no divisions therein: to those who worship other things than Allah, hard is the (way) to which thou callest them. Allah chooses to Himself those whom He pleases, and guides to Himself those who turn (to Him)
تَوْبَة · إِنَابَة · أَوَّابرجوعواضحایمان اور دین
«تَوْبَة» گناہ سے پلٹنا؛ «إِنَابَة» بار بار، عقیدت کے ساتھ رجوع؛ «أَوَّاب» وہ جس کا رجوع کرنا اس کی عادت بن جائے۔ یہ انبیاء کی تعریف ہے (سلیمانؑ، ایوبؑ)۔
قرآنی مثالیں (4)
66:8 التحريمتَوْبَة نَصُوح
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ تُوبُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ يَوْمَ لَا يُخْزِى ٱللَّهُ ٱلنَّبِىَّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَٰنِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَٱغْفِرْ لَنَآ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
اے ایمان والو! اللہ کی طرف سچی خالص توبہ کرو، امید ہے کہ تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے دور کر دے اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب اللہ نبی کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے پورا کر دے اور ہمیں بخش دے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
O ye who believe! Turn to Allah with sincere repentance: In the hope that your Lord will remove from you your ills and admit you to Gardens beneath which Rivers flow,- the Day that Allah will not permit to be humiliated the Prophet and those who believe with him. Their Light will run forward before them and by their right hands, while they say, "Our Lord! Perfect our Light for us, and grant us Forgiveness: for Thou hast power over all things
50:33 ققَلْبٍ مُّنِيبٍ
مَّنْ خَشِىَ ٱلرَّحْمَٰنَ بِٱلْغَيْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ
جو بن دیکھے رحمٰن سے ڈرتا رہا اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔
Who feared (Allah) Most Gracious Unseen, and brought a heart turned in devotion (to Him)
39:54 الزمرأَنِيبُوا
وَأَنِيبُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا۟ لَهُۥ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ
اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ جائے، پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔
Turn ye to our Lord (in repentance) and bow to His (Will), before the Penalty comes on you: after that ye shall not be helped
38:30 صسلیمانؑ: أَوَّاب
وَوَهَبْنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيْمَٰنَ نِعْمَ ٱلْعَبْدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا، کیا ہی اچھا بندہ تھا، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔
To David We gave Solomon (for a son),- How excellent in Our service! Ever did he turn (to Us)
حَمْد · شُكْرحمد اور شکرواضحایمان اور دین
«حَمْد» اللہ کے کمالات اور نعمتوں دونوں پر تعریف، اسی لیے قرآن «الْحَمْدُ لِلَّهِ» سے شروع ہوتا ہے۔ «شُكْر» احسان کا جواب، جو عمل سے بھی ہوتا ہے: «اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا»۔
قرآنی مثالیں (2)
1:2 الفاتحةالْحَمْدُ لِلَّهِ
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
Praise be to Allah, the Cherisher and Sustainer of the worlds
34:13 سبأشکر بطور عمل
يَعْمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٍ كَٱلْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَٰتٍ ٱعْمَلُوٓا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِىَ ٱلشَّكُورُ
وہ (جن) اس (سلیمان) کے لیے جو وہ چاہتا بناتے تھے: اونچی عمارتیں، مجسمے، حوضوں جیسے بڑے لگن اور زمین میں جمی ہوئی دیگیں۔ اے آلِ داؤد! شکر کے طور پر عمل کرو، اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہی ہیں۔
They worked for him as he desired, (making) arches, images, basons as large as reservoirs, and (cooking) cauldrons fixed (in their places): "Work ye, sons of David, with thanks! but few of My servants are grateful
عِلْم · مَعْرِفَةجاننا اور پہچانناواضحعلم اور سوچ
«مَعْرِفَة» پہچان، اکثر تجربے سے حاصل ہونے والی؛ «عِلْم» جاننا۔ اللہ کو ہمیشہ «عَلِيم» کہا گیا، کبھی «عَارِف» نہیں، کیونکہ اس کا علم حاصل کیا ہوا نہیں۔
قرآنی مثالیں (1)
2:146 البقرةایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو
ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے (رسول کو) ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور ان میں سے ایک گروہ جان بوجھ کر حق کو چھپاتا ہے۔
The people of the Book know this as they know their own sons; but some of them conceal the truth which they themselves know
ظَنّ · زَعْم · يَقِينگمان، دعویٰ، یقینواضحعلم اور سوچ
«ظَنّ» قرآن میں پختہ یقین کے معنی میں بھی آتا ہے (2:46، 69:20)؛ «زَعْم» تقریباً ہمیشہ جھوٹا دعویٰ؛ «يَقِين» ایسا یقین جس میں کوئی شک نہ ہو، یہاں تک کہ موت کو بھی «الْيَقِين» کہا گیا۔
قرآنی مثالیں (4)
2:46 البقرةظَنّ بمعنی یقین
ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ
جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
Who bear in mind the certainty that they are to meet their Lord, and that they are to return to Him
69:20 الحاقةظَنّ بمعنی یقین
إِنِّى ظَنَنتُ أَنِّى مُلَٰقٍ حِسَابِيَهْ
مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب سے ملنے والا ہوں۔
I did really understand that my Account would (One Day) reach me
64:7 التغابنزَعْم: جھوٹا دعویٰ
زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن لَّن يُبْعَثُوا۟ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ
کافروں نے دعویٰ کیا کہ وہ ہرگز (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دیجیے: کیوں نہیں، میرے رب کی قسم! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تمہیں ضرور بتایا جائے گا جو تم نے کیا، اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔
The Unbelievers think that they will not be raised up (for Judgment). Say: "Yea, By my Lord, Ye shall surely be raised up: then shall ye be told (the truth) of all that ye did. And that is easy for Allah
15:99 الحجرالْيَقِين: موت
وَٱعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ ٱلْيَقِينُ
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی چیز (موت) آ جائے۔
And serve thy Lord until there come unto thee the Hour that is Certain
نِسْيَان · سَهْوبھولنا اور غفلتواضحعلم اور سوچ
«نِسْيَان» جانی ہوئی بات کو بھول جانا؛ «سَهْو» جانتے ہوئے لاپروائی۔ 107:5 میں «عَن صَلَاتِهِمْ» ہے، «فِي صَلَاتِهِمْ» نہیں: ملامت نماز کو نظر انداز کرنے پر ہے، نماز میں بھول پر نہیں۔
قرآنی مثالیں (2)
20:115 طهآدمؑ بھول گئے
وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًا
اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا، پھر وہ بھول گئے، اور ہم نے ان میں پختہ ارادہ نہ پایا۔
We had already, beforehand, taken the covenant of Adam, but he forgot: and We found on his part no firm resolve
107:5 الماعوننماز سے غفلت
ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ
جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔
Who are neglectful of their prayers
صِرَاط · سَبِيلراستہواضحراستہ اور روشنی
«صِرَاط» ایک کشادہ سیدھا راستہ اور قرآن میں ہمیشہ واحد؛ «سَبِيل» کی جمع «سُبُل» آتی ہے، اور جمع اکثر غلط راستوں کے لیے۔ دونوں ایک آیت میں۔
قرآنی مثالیں (1)
6:153 الأنعامدونوں ایک آیت میں
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِى مُسْتَقِيمًا فَٱتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اور یہ کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے، تو اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ وہ تمہیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔
Verily, this is My way, leading straight: follow it: follow not (other) paths: they will scatter you about from His (great) path: thus doth He command you. that ye may be righteous
ظُلُمَات · نُوراندھیرے اور روشنیواضحراستہ اور روشنی
اس جوڑے میں اندھیرے ہمیشہ جمع اور روشنی ہمیشہ واحد ہے۔ مفسرین کے مطابق باطل کی بہت سی صورتیں ہیں اور حق ایک ہے۔
قرآنی مثالیں (2)
6:1 الأنعامالظُّلُمَات وَالنُّور
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی بنائی، پھر بھی کافر لوگ (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔
Praise be Allah, Who created the heavens and the earth, and made the darkness and the light. Yet those who reject Faith hold (others) as equal, with their Guardian-Lord
2:257 البقرةاندھیروں سے روشنی کی طرف
ٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَوْلِيَآؤُهُمُ ٱلطَّٰغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَٰتِ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ
اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے کارساز طاغوت ہیں، وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Allah is the Protector of those who have faith: from the depths of darkness He will lead them forth into light. Of those who reject faith the patrons are the evil ones: from light they will lead them forth into the depths of darkness. They will be companions of the fire, to dwell therein (For ever)
فَقِير · مِسْكِينغریبمختلف فیہزندگی، موت اور معاشرہ
دونوں کا ذکر 9:60 میں ہے۔ علماء میں اختلاف ہے کہ کون زیادہ تنگ دست ہے۔ ایک دلیل 18:79 ہے: کشتی «مَسَاكِين» کی تھی، یعنی مسکین کے پاس کچھ ہو سکتا ہے مگر کافی نہیں۔
قرآنی مثالیں (3)
9:60 التوبةدونوں ایک آیت میں
إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْعَٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
صدقات تو صرف فقیروں، مسکینوں، ان پر کام کرنے والوں، اور ان کے لیے ہیں جن کے دل جوڑنے ہوں، اور گردنیں چھڑانے میں، قرض داروں کے لیے، اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا فرض ہے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
Alms are for the poor and the needy, and those employed to administer the (funds); for those whose hearts have been (recently) reconciled (to Truth); for those in bondage and in debt; in the cause of Allah; and for the wayfarer: (thus is it) ordained by Allah, and Allah is full of knowledge and wisdom
18:79 الكهفمسکینوں کی کشتی
أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَٰكِينَ يَعْمَلُونَ فِى ٱلْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا
(خضر نے کہا:) رہی کشتی، تو وہ کچھ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں محنت کرتے تھے، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (صحیح) کشتی زبردستی چھین لیتا تھا۔
As for the boat, it belonged to certain men in dire want: they plied on the water: I but wished to render it unserviceable, for there was after them a certain king who seized on every boat by force
2:273 البقرةفقراء جو مانگتے نہیں
لِلْفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحْصِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِى ٱلْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ ٱلْجَاهِلُ أَغْنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَٰهُمْ لَا يَسْـَٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلْحَافًا وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ
(یہ صدقات) ان فقیروں کے لیے ہیں جو اللہ کی راہ میں ایسے گھر گئے ہیں کہ زمین میں (روزی کے لیے) چل پھر نہیں سکتے۔ ناواقف آدمی ان کے نہ مانگنے کی وجہ سے انہیں مالدار سمجھتا ہے، آپ انہیں ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
(Charity is) for those in need, who, in Allah's cause are restricted (from travel), and cannot move about in the land, seeking (For trade or work): the ignorant man thinks, because of their modesty, that they are free from want. Thou shalt know them by their (Unfailing) mark: They beg not importunately from all the sundry. And whatever of good ye give, be assured Allah knoweth it well
مَوْت · تَوَفِّيموت اور روح قبض کرناواضحزندگی، موت اور معاشرہ
«تَوَفَّى» کا مطلب ہے کسی چیز کو پورا پورا لے لینا، اسی لیے یہ نیند کے لیے بھی آتا ہے اور موت کے لیے بھی؛ «مَوْت» خود موت ہے۔
قرآنی مثالیں (2)
39:42 الزمرموت بھی، نیند بھی
ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَٱلَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ ٱلَّتِى قَضَىٰ عَلَيْهَا ٱلْمَوْتَ وَيُرْسِلُ ٱلْأُخْرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے، اور جو نہیں مریں انہیں ان کی نیند میں۔ پھر جس پر موت کا فیصلہ کر چکا ہے اسے روک لیتا ہے اور دوسری کو ایک مقررہ مدت تک واپس بھیج دیتا ہے۔ بے شک اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
It is Allah that takes the souls (of men) at death; and those that die not (He takes) during their sleep: those on whom He has passed the decree of death, He keeps back (from returning to life), but the rest He sends (to their bodies) for a term appointed verily in this are Signs for those who reflect
6:60 الأنعامرات کو روح قبض کرنا
وَهُوَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰٓ أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روح قبض کر لیتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کمایا، پھر تمہیں اس میں اٹھا دیتا ہے تاکہ مقررہ مدت پوری کی جائے۔ پھر اسی کی طرف تمہیں لوٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔
It is He who doth take your souls by night, and hath knowledge of all that ye have done by day: by day doth He raise you up again; that a term appointed be fulfilled; In the end unto Him will be your return; then will He show you the truth of all that ye did
قُعُود · جُلُوسبیٹھنارجحان، استثنا کے ساتھزندگی، موت اور معاشرہ
«قُعُود» جما ہوا، دیرپا بیٹھنا (جنت کی «مَقْعَدِ صِدْقٍ»)؛ «جُلُوس / مَجْلِس» عارضی بیٹھک۔
قرآنی مثالیں (2)
54:55 القمردائمی نشست
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍۭ
سچائی کی بیٹھک میں، بڑی قدرت والے بادشاہ کے پاس۔
In an Assembly of Truth, in the Presence of a Sovereign Omnipotent
58:11 المجادلةعارضی مجلس
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا۟ فِى ٱلْمَجَٰلِسِ فَٱفْسَحُوا۟ يَفْسَحِ ٱللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُوا۟ فَٱنشُزُوا۟ يَرْفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ دَرَجَٰتٍ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو کشادگی کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کرے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ تم میں سے جو ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا اللہ ان کے درجے بلند کرے گا، اور اللہ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔
O ye who believe! When ye are told to make room in the assemblies, (spread out and) make room: (ample) room will Allah provide for you. And when ye are told to rise up, rise up Allah will rise up, to (suitable) ranks (and degrees), those of you who believe and who have been granted (mystic) Knowledge. And Allah is well-acquainted with all ye do
ذَنْب · سَيِّئَة · إِثْم · خَطِيئَةگناہمختلف فیہگناہ اور حرکت
«ذَنْب» (ذَنَب یعنی دم سے) وہ گناہ جس کے نتائج پیچھے لگے رہیں؛ «سَيِّئَة» نقصان دہ برا کام؛ «إِثْم» وہ گناہ جو نیکی سے روکے؛ «خَطِيئَة» خطا، کبھی گہری جمی ہوئی۔ یہ الفاظ اکثر ایک دوسرے میں داخل ہوتے ہیں اور حدود مختلف فیہ ہیں۔
قرآنی مثالیں (2)
2:81 البقرةسَيِّئَة اور خَطِيئَة
بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَٰطَتْ بِهِۦ خَطِيٓـَٔتُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ
کیوں نہیں! جس نے برائی کمائی اور اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا تو یہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Nay, those who seek gain in evil, and are girt round by their sins,- they are companions of the Fire: Therein shall they abide (For ever)
26:82 الشعراءابراہیمؑ: میری خطا
وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيٓـَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ
(ابراہیم نے کہا:) اور وہی ہے جس سے مجھے امید ہے کہ جزا کے دن میری خطائیں بخش دے گا۔
And who, I hope, will forgive me my faults on the day of Judgment
جَاءَ · أَتَىآنامختلف فیہگناہ اور حرکت
ڈاکٹر فاضل السامرائی وغیرہ کے مطابق «جَاءَ» بھاری اور سخت واقعات کے لیے اور «أَتَى» ہلکے یا قریب کے لیے آتا ہے؛ دوسرے علماء کوئی یکساں فرق نہیں مانتے۔
قرآنی مثالیں (2)
79:34 النازعاتجَاءَ: بڑی آفت
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ
پھر جب وہ سب سے بڑی آفت آ جائے گی۔
Therefore, when there comes the great, overwhelming (Event)
16:1 النحلأَتَى: اللہ کا حکم
أَتَىٰٓ أَمْرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
اللہ کا حکم آ پہنچا، تو اس کی جلدی نہ مچاؤ۔ وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
(Inevitable) cometh (to pass) the Command of Allah: seek ye not then to hasten it: Glory to Him, and far is He above having the partners they ascribe unto Him
كَسَبَ · اكْتَسَبَکماناواضحکلام اور سچائی
«لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ»: زمخشری وغیرہ کے مطابق نیکی کے لیے سادہ «كَسَبَ» اور برائی کے لیے «اكْتَسَبَ» (باب افتعال) آیا ہے، جس میں کوشش اور ارادے کا مفہوم ہے۔ نیکی نفس کی فطرت کے مطابق ہے، برائی کے لیے زور لگانا پڑتا ہے۔
قرآنی مثالیں (1)
2:286 البقرةدونوں ایک آیت میں
لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ
اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس کے لیے وہ ہے جو اس نے (نیکی) کمائی، اور اس پر وہ ہے جو اس نے (برائی) کمائی۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری پکڑ نہ کر۔ اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہیں، اور ہمیں معاف کر، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے، تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔
On no soul doth Allah Place a burden greater than it can bear. It gets every good that it earns, and it suffers every ill that it earns. (Pray:) "Our Lord! Condemn us not if we forget or fall into error; our Lord! Lay not on us a burden Like that which Thou didst lay on those before us; Our Lord! Lay not on us a burden greater than we have strength to bear. Blot out our sins, and grant us forgiveness. Have mercy on us. Thou art our Protector; Help us against those who stand against faith
كَذِب · إِفْك · زُور · بُهْتَانجھوٹواضحکلام اور سچائی
«إِفْك» سچائی کو الٹ دینے والا بڑا جھوٹ (مادے کا مطلب الٹنا ہے)، حضرت عائشہؓ پر بہتان اسی نام سے۔ «زُور» جھوٹی اور بناوٹی گواہی۔ «بُهْتَان» ایسا بہتان جو سننے والے کو دنگ کر دے۔ «كَذِب» ہر جھوٹ کے لیے عام لفظ۔
قرآنی مثالیں (3)
24:11 النورإِفْك
إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ لِكُلِّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُم مَّا ٱكْتَسَبَ مِنَ ٱلْإِثْمِ وَٱلَّذِى تَوَلَّىٰ كِبْرَهُۥ مِنْهُمْ لَهُۥ عَذَابٌ عَظِيمٌ
بے شک جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے وہ تم ہی میں سے ایک ٹولہ ہیں۔ اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر شخص کے لیے اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا، اور جس نے اس کا بڑا حصہ اپنے ذمے لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔
Those who brought forward the lie are a body among yourselves: think it not to be an evil to you; On the contrary it is good for you: to every man among them (will come the punishment) of the sin that he earned, and to him who took on himself the lead among them, will be a penalty grievous
25:72 الفرقانزُور: جھوٹی گواہی
وَٱلَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ ٱلزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا۟ بِٱللَّغْوِ مَرُّوا۟ كِرَامًا
اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے (اور جھوٹ کی مجلس میں حاضر نہیں ہوتے)، اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں۔
Those who witness no falsehood, and, if they pass by futility, they pass by it with honourable (avoidance)
24:16 النوربُهْتَان
وَلَوْلَآ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبْحَٰنَكَ هَٰذَا بُهْتَٰنٌ عَظِيمٌ
اور جب تم نے اسے سنا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں یہ بات زبان پر لانا زیب نہیں دیتا، پاک ہے تو (اے اللہ)، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔
And why did ye not, when ye heard it, say? - "It is not right of us to speak of this: Glory to Allah! this is a most serious slander
تِلَاوَة · قِرَاءَة · تَرْتِيلپڑھنارجحان، استثنا کے ساتھکلام اور سچائی
«تِلَاوَة» کا مادہ «تَلَا» ہے یعنی پیچھے چلنا، اس لیے یہ پڑھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ «قِرَاءَة» الفاظ کو جمع کر کے پڑھنا۔ «تَرْتِيل» ٹھہر ٹھہر کر، صاف صاف پڑھنا۔
قرآنی مثالیں (2)
2:121 البقرةحَقَّ تِلَاوَتِهِ
ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَتْلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسے اس کے پڑھنے کا حق ہے، یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو اس کا انکار کریں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
Those to whom We have sent the Book study it as it should be studied: They are the ones that believe therein: Those who reject faith therein,- the loss is their own
73:4 المزملتَرْتِيل
أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ ٱلْقُرْءَانَ تَرْتِيلًا
یا اس سے کچھ زیادہ کر لیجیے، اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر صاف صاف پڑھیے۔
Or a little more; and recite the Qur'an in slow, measured rhythmic tones
رُؤْيَا · حُلْمخوابواضحکلام اور سچائی
«رُؤْيَا» سچا اور بامعنی خواب؛ «أَحْلَام» پریشان، بے ترتیب خواب۔ بادشاہ کے درباریوں نے اس کے خواب کو «أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ» کہا، مگر یوسفؑ نے دکھایا کہ وہ «رُؤْيَا» تھا۔
قرآنی مثالیں (3)
12:43 يوسفرُؤْيَا
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ
اور بادشاہ نے کہا: میں (خواب میں) دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات ہری بالیاں ہیں اور دوسری (سات) سوکھی۔ اے سردارو! اگر تم خواب کی تعبیر بتا سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کا مطلب بتاؤ۔
The king (of Egypt) said: "I do see (in a vision) seven fat kine, whom seven lean ones devour, and seven green ears of corn, and seven (others) withered. O ye chiefs! Expound to me my vision if it be that ye can interpret visions
12:44 يوسفأَضْغَاثُ أَحْلَامٍ
قَالُوٓا۟ أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ
انہوں نے کہا: یہ تو پریشان خواب ہیں، اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔
They said: "A confused medley of dreams: and we are not skilled in the interpretation of dreams
37:105 الصافاتابراہیمؑ کی رُؤْيَا
قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّءْيَآ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
(اے ابراہیم!) تم نے خواب سچ کر دکھایا، بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
Thou hast already fulfilled the vision!" - thus indeed do We reward those who do right
مُقْسِط · قَاسِطانصاف کرنے والا / ظالمواضحانصاف اور تکلیف
ایک ہی مادے سے الٹ معنی: «أَقْسَطَ» (باب افعال) انصاف کرنا، اور «قَسَطَ» (ثلاثی) انصاف سے ہٹنا۔
قرآنی مثالیں (2)
49:9 الحجراتالْمُقْسِطِينَ: انصاف والے
وَإِن طَآئِفَتَانِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱقْتَتَلُوا۟ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَهُمَا فَإِنۢ بَغَتْ إِحْدَىٰهُمَا عَلَى ٱلْأُخْرَىٰ فَقَٰتِلُوا۟ ٱلَّتِى تَبْغِى حَتَّىٰ تَفِىٓءَ إِلَىٰٓ أَمْرِ ٱللَّهِ فَإِن فَآءَتْ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَهُمَا بِٱلْعَدْلِ وَأَقْسِطُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ
اور اگر ایمان والوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو۔ پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
If two parties among the Believers fall into a quarrel, make ye peace between them: but if one of them transgresses beyond bounds against the other, then fight ye (all) against the one that transgresses until it complies with the command of Allah; but if it complies, then make peace between them with justice, and be fair: for Allah loves those who are fair (and just)
72:15 الجنالْقَاسِطُونَ: ظالم
وَأَمَّا ٱلْقَٰسِطُونَ فَكَانُوا۟ لِجَهَنَّمَ حَطَبًا
اور جو (حق سے) ہٹنے والے ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بنے۔
But those who swerve,- they are (but) fuel for Hell-fire
ضُرّ · أَذًىنقصان اور تکلیفواضحانصاف اور تکلیف
«أَذًى» ہلکی تکلیف یا ایذا؛ «ضُرّ» حقیقی نقصان۔ دونوں 3:111 میں: «وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے کچھ ایذا کے»۔
قرآنی مثالیں (1)
3:111 آل عمراندونوں ایک آیت میں
لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّآ أَذًى وَإِن يُقَٰتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ ٱلْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ
وہ تمہیں تھوڑی سی تکلیف کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
They will do you no harm, barring a trifling annoyance; if they come out to fight you, they will show you their backs, and no help shall they get
غَضَب · سَخَط · مَقْتغصہ اور ناپسندیدگیرجحان، استثنا کے ساتھانصاف اور تکلیف
«غَضَب» غصہ؛ «سَخَط» ناراضی؛ «مَقْت» شدید ترین نفرت: اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔
قرآنی مثالیں (2)
5:80 المائدةسَخَط
تَرَىٰ كَثِيرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِى ٱلْعَذَابِ هُمْ خَٰلِدُونَ
آپ ان میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہیں کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔ کیا ہی برا ہے جو انہوں نے اپنے لیے آگے بھیجا کہ اللہ ان سے ناراض ہو گیا، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔
Thou seest many of them turning in friendship to the Unbelievers. Evil indeed are (the works) which their souls have sent forward before them (with the result), that Allah's wrath is on them, and in torment will they abide
61:3 الصفمَقْت
كَبُرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُوا۟ مَا لَا تَفْعَلُونَ
اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔
Grievously odious is it in the sight of Allah that ye say that which ye do not
عَفْو · مَغْفِرَةمعافی اور بخششرجحان، استثنا کے ساتھانصاف اور تکلیف
«عَفْو» مکمل مٹا دینا، کوئی نشان باقی نہ رہے (ہوا کا قدموں کے نشان مٹانا)؛ «مَغْفِرَة» ڈھانپ دینا، «مِغْفَر» (خود) سے۔ دونوں 4:99 میں۔
قرآنی مثالیں (1)
4:99 النساءدونوں ایک آیت میں
فَأُو۟لَٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا
تو امید ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو معاف کر دے، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔
For these, there is hope that Allah will forgive: For Allah doth blot out (sins) and forgive again and again
حُبّ · وُدّ · هَوَىمحبت اور خواہشواضحمحبت اور رحمت
«حُبّ» محبت؛ «وُدّ» وہ محبت جو ظاہر ہو اور برتی جائے (الْوَدُود)؛ «هَوَى» نیچے کی طرف کھینچنے والی خواہش (مادے میں گرنے کا مفہوم بھی ہے)۔
قرآنی مثالیں (3)
2:165 البقرةحُبّ
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ وَلَوْ يَرَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ إِذْ يَرَوْنَ ٱلْعَذَابَ أَنَّ ٱلْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعَذَابِ
اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں، ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے ہونی چاہیے۔ اور جو ایمان والے ہیں وہ اللہ سے سب سے بڑھ کر محبت رکھتے ہیں۔ اور کاش یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب وہ عذاب دیکھیں گے کہ ساری قوت اللہ ہی کی ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
Yet there are men who take (for worship) others besides Allah, as equal (with Allah): They love them as they should love Allah. But those of Faith are overflowing in their love for Allah. If only the unrighteous could see, behold, they would see the penalty: that to Allah belongs all power, and Allah will strongly enforce the penalty
85:14 البروجالْوَدُود
وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلْوَدُودُ
اور وہی بہت بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے۔
And He is the Oft-Forgiving, Full of Loving-Kindness
79:40 النازعاتهَوَى
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ
اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔
And for such as had entertained the fear of standing before their Lord's (tribunal) and had restrained (their) soul from lower desires
رَأْفَة · رَحْمَةشفقت اور رحمترجحان، استثنا کے ساتھمحبت اور رحمت
«رَأْفَة» زیادہ گہری اور نرم رحمت جس کا تعلق تکلیف دور کرنے سے ہے؛ جوڑے میں ہمیشہ پہلے آتی ہے: «رَءُوفٌ رَّحِيمٌ»۔
قرآنی مثالیں (1)
2:143 البقرةرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا ٱلْقِبْلَةَ ٱلَّتِى كُنتَ عَلَيْهَآ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمْ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
اور اسی طرح ہم نے تمہیں درمیانی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔ اور جس قبلے پر آپ پہلے تھے اسے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کر لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات بھاری تھی سوائے ان کے جنہیں اللہ نے ہدایت دی، اور اللہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں۔ بے شک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
Thus, have We made of you an Ummat justly balanced, that ye might be witnesses over the nations, and the Messenger a witness over yourselves; and We appointed the Qibla to which thou wast used, only to test those who followed the Messenger from those who would turn on their heels (From the Faith). Indeed it was (A change) momentous, except to those guided by Allah. And never would Allah Make your faith of no effect. For Allah is to all people Most surely full of kindness, Most Merciful
زَكَاة · صَدَقَة · إِنفَاقدینارجحان، استثنا کے ساتھدینا اور بھیجنا
«زَكَاة» فرض صدقہ جو پاک کرتا ہے (مادے کا مطلب پاکیزگی اور بڑھوتری)؛ «صَدَقَة» وہ صدقہ جو اخلاص کو ثابت کرے («صِدْق» سے)، اور یہ فرض بھی ہو سکتا ہے (9:103)؛ «إِنفَاق» ہر طرح کا خرچ۔
قرآنی مثالیں (2)
2:43 البقرةزَكَاة
وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱرْكَعُوا۟ مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ
اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
And be steadfast in prayer; practise regular charity; and bow down your heads with those who bow down (in worship)
9:103 التوبةصَدَقَة جو پاک کرے
خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجیے جس کے ذریعے آپ انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں، اور ان کے لیے دعا کیجیے، بے شک آپ کی دعا ان کے لیے سکون ہے، اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
Of their goods, take alms, that so thou mightest purify and sanctify them; and pray on their behalf. Verily thy prayers are a source of security for them: And Allah is One Who heareth and knoweth
أَعْطَى · آتَىعطا کرنامختلف فیہدینا اور بھیجنا
ڈاکٹر فاضل السامرائی کے مطابق «أَعْطَى» میں ملکیت دینے کا مفہوم ہے («إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ») اور «آتَى» زیادہ عام ہے۔ سب علماء اس سے متفق نہیں۔
قرآنی مثالیں (2)
108:1 الكوثرأَعْطَى
إِنَّآ أَعْطَيْنَٰكَ ٱلْكَوْثَرَ
بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔
To thee have We granted the Fount (of Abundance)
15:87 الحجرآتَى
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَٰكَ سَبْعًا مِّنَ ٱلْمَثَانِى وَٱلْقُرْءَانَ ٱلْعَظِيمَ
اور ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں اور عظمت والا قرآن عطا کیا ہے۔
And We have bestowed upon thee the Seven Oft-repeated (verses) and the Grand Qur'an
أَرْسَلَ · بَعَثَبھیجنارجحان، استثنا کے ساتھدینا اور بھیجنا
«بَعَثَ» کسی مشن کے ساتھ بھیجنا، اٹھا کر کھڑا کرنا؛ یہی مادہ دوبارہ زندہ کرنے کے لیے بھی ہے۔ «أَرْسَلَ» صرف روانہ کرنا۔
قرآنی مثالیں (1)
62:2 الجمعةبَعَثَ: مشن کے ساتھ
هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلْأُمِّيِّۦنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ
وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے، اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
It is He Who has sent amongst the Unlettered a messenger from among themselves, to rehearse to them His Signs, to sanctify them, and to instruct them in Scripture and Wisdom,- although they had been, before, in manifest error
قَرْيَة · مَدِينَةبستی اور شہرمختلف فیہجگہ اور حرکت
سورہ کہف میں ایک ہی بستی کو دو ناموں سے پکارا گیا: کھانے سے انکار کے موقع پر «قَرْيَة» (18:77)، اور دیوار کی وضاحت میں «الْمَدِينَة» (18:82)۔ بعض مفسرین اسے پہلے منظر میں لوگوں کے کردار کی عکاسی سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے دونوں الفاظ کو ہم معنی مانتے ہیں۔
قرآنی مثالیں (2)
18:77 الكهفقَرْيَة: مہمانی سے انکار
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَيَآ أَهْلَ قَرْيَةٍ ٱسْتَطْعَمَآ أَهْلَهَا فَأَبَوْا۟ أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُۥ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا
پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے، ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرنا چاہتی تھی، تو (خضر نے) اسے سیدھا کر دیا۔ (موسیٰ نے) کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے۔
Then they proceeded: until, when they came to the inhabitants of a town, they asked them for food, but they refused them hospitality. They found there a wall on the point of falling down, but he set it up straight. (Moses) said: "If thou hadst wished, surely thou couldst have exacted some recompense for it
18:82 الكهفالْمَدِينَة: یتیموں کا خزانہ
وَأَمَّا ٱلْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَٰمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِى ٱلْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُۥ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَٰلِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبْلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُۥ عَنْ أَمْرِى ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا
اور رہی دیوار، تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی، اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا، اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکال لیں، یہ آپ کے رب کی رحمت تھی، اور میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔
As for the wall, it belonged to two youths, orphans, in the Town; there was, beneath it, a buried treasure, to which they were entitled: their father had been a righteous man: So thy Lord desired that they should attain their age of full strength and get out their treasure - a mercy (and favour) from thy Lord. I did it not of my own accord. Such is the interpretation of (those things) over which thou wast unable to hold patience
سَعْي · مَشْيچلناواضحجگہ اور حرکت
«سَعْي» کوشش اور مقصد کے ساتھ جانا؛ «مَشْي» عام چلنا۔
قرآنی مثالیں (2)
62:9 الجمعةفَاسْعَوْا: جمعہ کی طرف
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوْمِ ٱلْجُمُعَةِ فَٱسْعَوْا۟ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ وَذَرُوا۟ ٱلْبَيْعَ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
O ye who believe! When the call is proclaimed to prayer on Friday (the Day of Assembly), hasten earnestly to the Remembrance of Allah, and leave off business (and traffic): That is best for you if ye but knew
25:63 الفرقانيَمْشُونَ: عاجزی سے
وَعِبَادُ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى ٱلْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلْجَٰهِلُونَ قَالُوا۟ سَلَٰمًا
اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں، اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں: سلام۔
And the servants of (Allah) Most Gracious are those who walk on the earth in humility, and when the ignorant address them, they say, "Peace
مِيثَاق · عَهْدعہدواضحجگہ اور حرکت
«عَهْد» ہر وعدہ؛ «مِيثَاق» «وَثَاق» (باندھنے کی رسی) سے، پختہ اور بندھا ہوا عہد۔ «مِيثَاقًا غَلِيظًا» صرف تین بار: انبیاء کے لیے، طور پر بنی اسرائیل کے لیے، اور نکاح کے لیے۔ نکاح کو انبیاء کے عہد کے برابر سنجیدگی دی گئی۔
قرآنی مثالیں (3)
4:21 النساءنکاح
وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُۥ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًا
اور تم اسے (واپس) کیسے لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور وہ (عورتیں) تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں؟
And how could ye take it when ye have gone in unto each other, and they have Taken from you a solemn covenant
33:7 الأحزابانبیاء
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ مِيثَٰقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًا
اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا، اور آپ سے بھی، اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابنِ مریم سے بھی، اور ان سب سے ہم نے پختہ عہد لیا۔
And remember We took from the prophets their covenant: As (We did) from thee: from Noah, Abraham, Moses, and Jesus the son of Mary: We took from them a solemn covenant
4:154 النساءبنی اسرائیل
وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ ٱلطُّورَ بِمِيثَٰقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا۟ فِى ٱلسَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًا
اور ہم نے ان سے عہد لینے کے لیے ان پر طور (پہاڑ) کو اٹھا دیا، اور ان سے کہا: دروازے میں جھکے ہوئے داخل ہو، اور ان سے کہا: سبت کے دن میں زیادتی نہ کرو، اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا۔
And for their covenant we raised over them (the towering height) of Mount (Sinai); and (on another occasion) we said: "Enter the gate with humility"; and (once again) we commanded them: "Transgress not in the matter of the sabbath." And we took from them a solemn covenant
بَحْر · يَمّسمندر / دریارجحان، استثنا کے ساتھجگہ اور حرکت
«يَمّ» تقریباً صرف موسیٰؑ کے قصے میں: ماں کا انہیں دریا میں ڈالنا اور فرعون کا ڈوبنا؛ «بَحْر» عام لفظ۔ بعض کے مطابق «يَمّ» مصری ماحول کی عکاسی ہے۔ 2:50 میں اسی واقعے کے لیے «بَحْر» بھی آیا ہے، اس لیے یہ قطعی نہیں۔
قرآنی مثالیں (3)
20:39 طهیَمّ: موسیٰؑ کی ماں
أَنِ ٱقْذِفِيهِ فِى ٱلتَّابُوتِ فَٱقْذِفِيهِ فِى ٱلْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ ٱلْيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّى وَعَدُوٌّ لَّهُۥ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّى وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِىٓ
کہ اسے صندوق میں رکھو، پھر اسے دریا میں ڈال دو، تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا، اسے وہ اٹھا لے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن۔ اور میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی، اور (یہ اس لیے) تاکہ تمہاری پرورش میری آنکھوں کے سامنے ہو۔
Throw (the child) into the chest, and throw (the chest) into the river: the river will cast him up on the bank, and he will be taken up by one who is an enemy to Me and an enemy to him': But I cast (the garment of) love over thee from Me: and (this) in order that thou mayest be reared under Mine eye
7:136 الأعرافیَمّ: فرعون
فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔
So We exacted retribution from them: We drowned them in the sea, because they rejected Our Signs and failed to take warning from them
2:50 البقرةبَحْر: وہی واقعہ
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ ٱلْبَحْرَ فَأَنجَيْنَٰكُمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا، پھر تمہیں بچا لیا اور فرعون کے لوگوں کو غرق کر دیا اور تم دیکھ رہے تھے۔
And remember We divided the sea for you and saved you and drowned Pharaoh's people within your very sight
صَلَّى · أَقَامَ الصَّلَاةَنماز پڑھنا / قائم کرنارجحان، استثنا کے ساتھایمان اور دین
قرآن مومنوں کی تعریف تقریباً ہمیشہ «أَقَامَ» یعنی نماز کو ٹھیک ٹھیک اور پابندی سے قائم کرنے سے کرتا ہے۔ صرف «نمازی» کا لفظ مذمت میں بھی آیا: «تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں»۔ نماز کی صورت ادا کرنا اور اسے قائم کرنا ایک نہیں۔
قرآنی مثالیں (3)
2:3 البقرةيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ: تعریف
ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ
جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
Who believe in the Unseen, are steadfast in prayer, and spend out of what We have provided for them
107:4 الماعونالْمُصَلِّينَ: مذمت
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ
تو ان نمازیوں کے لیے تباہی ہے۔
So woe to the worshippers
107:5 الماعونجو اپنی نماز سے غافل ہیں
ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ
جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔
Who are neglectful of their prayers
كُفْر · جُحُودانکارواضحایمان اور دین
«جُحُود» حق کو جانتے ہوئے انکار: انہوں نے نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل انہیں یقین سے مان چکے تھے۔ «كُفْر» وسیع لفظ ہے جس کا اصل معنی ڈھانپنا ہے۔
قرآنی مثالیں (1)
27:14 النملجانتے ہوئے انکار
وَجَحَدُوا۟ بِهَا وَٱسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ
اور انہوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان (نشانیوں) کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل ان کا یقین کر چکے تھے، تو دیکھیے فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
And they rejected those Signs in iniquity and arrogance, though their souls were convinced thereof: so see what was the end of those who acted corruptly
خُشُوع · خُضُوععاجزی اور جھکناواضحایمان اور دین
«خُشُوع» اندرونی عاجزی، دل، آنکھوں اور آواز کی؛ «خُضُوع» ظاہری جھکنا، گردن یا بات کا۔
قرآنی مثالیں (4)
23:2 المؤمنوننماز میں خُشُوع
ٱلَّذِينَ هُمْ فِى صَلَاتِهِمْ خَٰشِعُونَ
جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔
Those who humble themselves in their prayers
20:108 طهآوازوں کا خُشُوع
يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ ٱلدَّاعِىَ لَا عِوَجَ لَهُۥ وَخَشَعَتِ ٱلْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا
اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جس میں کوئی کجی نہیں، اور رحمٰن کے سامنے آوازیں دب جائیں گی، تو تم ہلکی سی آہٹ کے سوا کچھ نہ سنو گے۔
On that Day will they follow the Caller (straight): no crookedness (can they show) him: all sounds shall humble themselves in the Presence of (Allah) Most Gracious: nothing shalt thou hear but the tramp of their feet (as they march)
26:4 الشعراءگردنوں کا خُضُوع
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَٰقُهُمْ لَهَا خَٰضِعِينَ
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔
If (such) were Our Will, We could send down to them from the sky a Sign, to which they would bend their necks in humility
33:32 الأحزاببات میں خُضُوع نہ کرو
يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِنِ ٱتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِٱلْقَوْلِ فَيَطْمَعَ ٱلَّذِى فِى قَلْبِهِۦ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا
اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں جیسی نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو بات میں نرمی (اور لچک) نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ لالچ کرے، اور بھلی بات کہو۔
O Consorts of the Prophet! Ye are not like any of the (other) women: if ye do fear (Allah), be not too complacent of speech, lest one in whose heart is a disease should be moved with desire: but speak ye a speech (that is) just
نَبِيّ · رَسُولنبی اور رسولواضحایمان اور دین
دونوں 22:52 میں۔ اکثر علماء کے مطابق «رَسُول» کسی قوم کے لیے پیغام یا شریعت لاتا ہے، اور «نَبِيّ» وحی پاتا ہے؛ ہر رسول نبی ہے، مگر ہر نبی رسول نہیں۔ موسیٰؑ اور اسماعیلؑ کو «رَسُولًا نَّبِيًّا» کہا گیا۔
قرآنی مثالیں (2)
22:52 الحجدونوں ایک آیت میں
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِىٍّ إِلَّآ إِذَا تَمَنَّىٰٓ أَلْقَى ٱلشَّيْطَٰنُ فِىٓ أُمْنِيَّتِهِۦ فَيَنسَخُ ٱللَّهُ مَا يُلْقِى ٱلشَّيْطَٰنُ ثُمَّ يُحْكِمُ ٱللَّهُ ءَايَٰتِهِۦ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول یا نبی بھیجا، جب اس نے (کچھ) آرزو کی تو شیطان نے اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیا، پھر اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹا دیتا ہے، پھر اپنی آیتوں کو پختہ کر دیتا ہے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
Never did We send a messenger or a prophet before thee, but, when he framed a desire, Satan threw some (vanity) into his desire: but Allah will cancel anything (vain) that Satan throws in, and Allah will confirm (and establish) His Signs: for Allah is full of Knowledge and Wisdom
19:51 مريمموسیٰؑ: رسول اور نبی
وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَٰبِ مُوسَىٰٓ إِنَّهُۥ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا
اور کتاب میں موسیٰ کا ذکر کیجیے، بے شک وہ چنے ہوئے تھے، اور رسول، نبی تھے۔
Also mention in the Book (the story of) Moses: for he was specially chosen, and he was a messenger (and) a prophet
خَلَقَ · جَعَلَپیدا کرنا اور بناناواضحتخلیق اور عمل
«خَلَقَ» وجود میں لانا؛ «جَعَلَ» پہلے سے موجود چیز سے بنانا یا اسے کوئی کردار دینا۔ 6:1 میں آسمان و زمین «خَلَقَ» ہوئے، اور اندھیرے اور روشنی «جَعَلَ»، یعنی پیدا شدہ چیزوں میں پیدا ہونے والی حالتیں۔
قرآنی مثالیں (1)
6:1 الأنعامدونوں ایک آیت میں
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی بنائی، پھر بھی کافر لوگ (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔
Praise be Allah, Who created the heavens and the earth, and made the darkness and the light. Yet those who reject Faith hold (others) as equal, with their Guardian-Lord
سَارَعَ · عَجِلَجلدی کرنارجحان، استثنا کے ساتھتخلیق اور عمل
بھلائی کی طرف «سُرْعَة» کی تعریف ہے؛ «عَجَلَة» زیادہ تر مذمت میں: «انسان بڑا جلد باز ہے»۔ استثنا: موسیٰؑ کا قول «میں نے تیری طرف جلدی کی تاکہ تو راضی ہو»۔
قرآنی مثالیں (3)
3:133 آل عمرانسَارِعُوا: تعریف
وَسَارِعُوٓا۟ إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
Be quick in the race for forgiveness from your Lord, and for a Garden whose width is that (of the whole) of the heavens and of the earth, prepared for the righteous
17:11 الإسراءعَجُول: مذمت
وَيَدْعُ ٱلْإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلْخَيْرِ وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ عَجُولًا
اور انسان برائی کی ایسی ہی دعا مانگنے لگتا ہے جیسی بھلائی کی، اور انسان بڑا جلد باز ہے۔
The prayer that man should make for good, he maketh for evil; for man is given to hasty (deeds)
20:84 طهاستثنا: موسیٰؑ
قَالَ هُمْ أُو۟لَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِى وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ
(موسیٰ نے) کہا: وہ میرے پیچھے ہی آ رہے ہیں، اور اے میرے رب! میں نے تیری طرف جلدی کی تاکہ تو راضی ہو۔
He replied: "Behold, they are close on my footsteps: I hastened to thee, O my Lord, to please thee
مَسَّ · لَمَسَچھونارجحان، استثنا کے ساتھتخلیق اور عمل
«مَسَّ» اکثر تکلیف کا ہلکا سا چھو جانا (ایوبؑ: مجھے تکلیف پہنچی)؛ «لَمَسَ» ہاتھ سے محسوس کر کے چھونا۔ استثنا: «لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» میں عام چھونا۔
قرآنی مثالیں (3)
21:83 الأنبياءمَسَّ: تکلیف
وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
اور ایوب (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
And (remember) Job, when He cried to his Lord, "Truly distress has seized me, but Thou art the Most Merciful of those that are merciful
6:7 الأنعاملَمَسَ: ہاتھ سے
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَٰبًا فِى قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ
اور اگر ہم آپ پر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی اتار دیتے اور وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے، تب بھی کافر یہی کہتے کہ یہ تو بس کھلا جادو ہے۔
If We had sent unto thee a written (message) on parchment, so that they could touch it with their hands, the Unbelievers would have been sure to say: "This is nothing but obvious magic
56:79 الواقعةاستثنا
لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُطَهَّرُونَ
اسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا۔
Which none shall touch but those who are clean
شُحّ · بُخْللالچ اور بخلواضحجذبات اور اعمال
«بُخْل» اپنی چیز روکنا؛ «شُحّ» اس سے گہرا، نفس میں جمی ہوئی حرص جس میں دوسروں کی چیز کی خواہش بھی شامل ہے۔ اسی لیے اس سے بچ جانے کو کامیابی کہا گیا۔
قرآنی مثالیں (2)
3:180 آل عمرانبُخْل
وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ هُوَ خَيْرًا لَّهُم بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا۟ بِهِۦ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
اور جو لوگ اس میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے وہ اسے اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں، بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے۔ جس چیز میں انہوں نے بخل کیا وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بنا دی جائے گی۔ اور آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کی ہے، اور اللہ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔
And let not those who covetously withhold of the gifts which Allah Hath given them of His Grace, think that it is good for them: Nay, it will be the worse for them: soon shall the things which they covetously withheld be tied to their necks Like a twisted collar, on the Day of Judgment. To Allah belongs the heritage of the heavens and the earth; and Allah is well-acquainted with all that ye do
59:9 الحشرشُحّ نَفْس
وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلْإِيمَٰنَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِى صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ أُوتُوا۟ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
اور (ان کے لیے بھی) جو ان (مہاجرین) سے پہلے اس گھر (مدینہ) میں ایمان کے ساتھ رہ رہے تھے، وہ ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ انہیں دیا جائے اس کی اپنے دلوں میں کوئی خواہش نہیں پاتے، اور انہیں اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں چاہے خود تنگی میں ہوں۔ اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچا لیا گیا وہی کامیاب ہیں۔
But those who before them, had homes (in Medina) and had adopted the Faith,- show their affection to such as came to them for refuge, and entertain no desire in their hearts for things given to the (latter), but give them preference over themselves, even though poverty was their (own lot). And those saved from the covetousness of their own souls,- they are the ones that achieve prosperity
هَلَع · جَزَعبےصبری اور گھبراہٹواضحجذبات اور اعمال
قرآن خود «هَلُوع» کی تعریف کرتا ہے: تکلیف میں گھبرا جانا (جَزُوع) اور آسانی میں روک لینا (مَنُوع)، دونوں کا مجموعہ۔
قرآنی مثالیں (3)
70:19 المعارجهَلُوع
إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا
بے شک انسان بے صبرا پیدا کیا گیا ہے۔
Truly man was created very impatient
70:20 المعارججَزُوع
إِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ جَزُوعًا
جب اسے کوئی برائی پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے۔
Fretful when evil touches him
70:21 المعارجمَنُوع
وَإِذَا مَسَّهُ ٱلْخَيْرُ مَنُوعًا
اور جب اسے بھلائی پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔
And niggardly when good reaches him
لَعِب · لَهْوکھیل اور تماشارجحان، استثنا کے ساتھجذبات اور اعمال
«لَعِب» بے مقصد مشغلہ، جیسے بچوں کا کھیل؛ «لَهْو» جو اہم چیز سے غافل کر دے، جیسے وہ تجارت جو لوگوں کو جمعہ کے خطبے سے کھینچ لے گئی۔ دنیا کی زندگی کو دونوں کہا گیا۔
قرآنی مثالیں (2)
6:32 الأنعامدونوں ایک آیت میں
وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَلَلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور دنیا کی زندگی تو بس کھیل اور تماشا ہے، اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
What is the life of this world but play and amusement? But best is the home in the hereafter, for those who are righteous. Will ye not then understand
62:11 الجمعةلَهْو: جمعہ سے غفلت
وَإِذَا رَأَوْا۟ تِجَٰرَةً أَوْ لَهْوًا ٱنفَضُّوٓا۟ إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَآئِمًا قُلْ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌ مِّنَ ٱللَّهْوِ وَمِنَ ٱلتِّجَٰرَةِ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ
اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا تماشا دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ کو کھڑا چھوڑ گئے۔ کہہ دیجیے: جو اللہ کے پاس ہے وہ تماشے اور تجارت سے بہتر ہے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
But when they see some bargain or some amusement, they disperse headlong to it, and leave thee standing. Say: "The (blessing) from the Presence of Allah is better than any amusement or bargain! and Allah is the Best to provide (for all needs)
بَأْسَاء · ضَرَّاءتنگی اور تکلیفرجحان، استثنا کے ساتھجذبات اور اعمال
ابن مسعودؓ وغیرہ کے مطابق «بَأْسَاء» مال کی تنگی (غربت) اور «ضَرَّاء» جسم کی تکلیف (بیماری) ہے۔
قرآنی مثالیں (2)
2:214 البقرةدونوں ایک آیت میں
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ ٱلْبَأْسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوا۟ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصْرُ ٱللَّهِ أَلَآ إِنَّ نَصْرَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ
کیا تم سمجھتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر ان لوگوں جیسے حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے گزرے؟ انہیں تنگ دستی اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ ہلا ڈالے گئے، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان والے پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! اللہ کی مدد قریب ہے۔
Or do ye think that ye shall enter the Garden (of bliss) without such (trials) as came to those who passed away before you? they encountered suffering and adversity, and were so shaken in spirit that even the Messenger and those of faith who were with him cried: "When (will come) the help of Allah?" Ah! Verily, the help of Allah is (always) near
2:177 البقرةدونوں ایک آیت میں
لَّيْسَ ٱلْبِرَّ أَن تُوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلْبِرَّ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلْكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّۦنَ وَءَاتَى ٱلْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآئِلِينَ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَٰهَدُوا۟ وَٱلصَّٰبِرِينَ فِى ٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلْبَأْسِ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُتَّقُونَ
نیکی صرف یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لائے، اور مال کی محبت کے باوجود اسے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، مانگنے والوں اور غلاموں کی آزادی میں دے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے، اور جب عہد کریں تو اسے پورا کریں، اور تنگی، تکلیف اور جنگ کے وقت صبر کریں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔
It is not righteousness that ye turn your faces Towards east or West; but it is righteousness- to believe in Allah and the Last Day, and the Angels, and the Book, and the Messengers; to spend of your substance, out of love for Him, for your kin, for orphans, for the needy, for the wayfarer, for those who ask, and for the ransom of slaves; to be steadfast in prayer, and practice regular charity; to fulfil the contracts which ye have made; and to be firm and patient, in pain (or suffering) and adversity, and throughout all periods of panic. Such are the people of truth, the Allah-fearing
سِرّ · أَخْفَىراز اور اس سے زیادہ پوشیدہواضحعلم اور سوچ
«سِرّ» جو تم دوسروں سے چھپاؤ؛ مفسرین کے مطابق «أَخْفَى» وہ ہے جو خود تم سے بھی چھپا ہو، یا جو ابھی تمہارے دل میں آیا ہی نہیں۔
قرآنی مثالیں (1)
20:7 طهالسِّرَّ وَأَخْفَى
وَإِن تَجْهَرْ بِٱلْقَوْلِ فَإِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلسِّرَّ وَأَخْفَى
اور اگر تم بات پکار کر کہو (تو بھی کوئی فرق نہیں)، وہ تو چھپی بات کو بھی جانتا ہے اور اس سے زیادہ چھپی کو بھی۔
If thou pronounce the word aloud, (it is no matter): for verily He knoweth what is secret and what is yet more hidden
آل · أَهْلگھرانا اور اہلرجحان، استثنا کے ساتھانسان اور رشتے
«آل» کسی نمایاں شخصیت کا گھرانا یا پیروکار، اچھے ہوں یا برے (آلِ ابراہیم، آلِ فرعون)؛ «أَهْل» عام ہے اور کسی جگہ یا کتاب سے بھی منسوب ہو سکتا ہے (أَهْلَ الْكِتَابِ)۔ قرآن میں کسی جگہ کا «آل» نہیں آیا۔
قرآنی مثالیں (3)
3:33 آل عمرانآلِ ابراہیم، آلِ عمران
إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحًا وَءَالَ إِبْرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمْرَٰنَ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ
بے شک اللہ نے آدم، نوح، ابراہیم کے گھرانے اور عمران کے گھرانے کو سب جہان والوں پر چن لیا۔
Allah did choose Adam and Noah, the family of Abraham, and the family of 'Imran above all people
2:49 البقرةآلِ فرعون
وَإِذْ نَجَّيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ
اور (یاد کرو) جب ہم نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے، اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔
And remember, We delivered you from the people of Pharaoh: They set you hard tasks and punishments, slaughtered your sons and let your women-folk live; therein was a tremendous trial from your Lord
3:64 آل عمرانأَهْلَ الْكِتَابِ
قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِۦ شَيْـًٔا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُولُوا۟ ٱشْهَدُوا۟ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
کہہ دیجیے: اے اہلِ کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے: یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو: گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔
Say: "O People of the Book! come to common terms as between us and you: That we worship none but Allah; that we associate no partners with him; that we erect not, from among ourselves, Lords and patrons other than Allah." If then they turn back, say ye: "Bear witness that we (at least) are Muslims (bowing to Allah's Will)
عَذَاب · عِقَابعذاب اور سزارجحان، استثنا کے ساتھگناہ اور حرکت
«عِقَاب» «عَقِب» (ایڑی، پیچھے آنے والا) سے، یعنی وہ سزا جو عمل کے نتیجے میں پیچھے آتی ہے؛ «عَذَاب» عمومی تکلیف۔
قرآنی مثالیں (2)
13:32 الرعدعِقَاب
وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ
اور آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، تو میں نے کافروں کو مہلت دی، پھر انہیں پکڑ لیا، تو (دیکھو) میری سزا کیسی تھی!
Mocked were (many) messengers before thee: but I granted respite to the unbelievers, and finally I punished them: Then how (terrible) was my requital
2:7 البقرةعَذَاب
خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
Allah hath set a seal on their hearts and on their hearing, and on their eyes is a veil; great is the penalty they (incur)
أُمَّة · قَوْم · شُعُوب · قَبَائِلقومیں اور جماعتیںرجحان، استثنا کے ساتھانسان اور رشتے
«قَوْم» لوگوں کا گروہ، اکثر نبی کی قوم؛ «أُمَّة» ایک دین یا راستے پر متحد جماعت؛ حیرت انگیز طور پر ابراہیمؑ اکیلے کو «أُمَّة» کہا گیا، یعنی وہ تنہا پوری امت کا ایمان رکھتے تھے۔ «شُعُوب» بڑی قومیں اور «قَبَائِل» چھوٹے قبیلے۔
قرآنی مثالیں (3)
16:120 النحلابراہیمؑ: ایک امت
إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
بے شک ابراہیم (اپنی ذات میں) ایک امت تھے، اللہ کے فرمانبردار، یکسو، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔
Abraham was indeed a model, devoutly obedient to Allah, (and) true in Faith, and he joined not gods with Allah
2:143 البقرةأُمَّةً وَسَطًا
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا ٱلْقِبْلَةَ ٱلَّتِى كُنتَ عَلَيْهَآ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمْ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
اور اسی طرح ہم نے تمہیں درمیانی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔ اور جس قبلے پر آپ پہلے تھے اسے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کر لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات بھاری تھی سوائے ان کے جنہیں اللہ نے ہدایت دی، اور اللہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں۔ بے شک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
Thus, have We made of you an Ummat justly balanced, that ye might be witnesses over the nations, and the Messenger a witness over yourselves; and We appointed the Qibla to which thou wast used, only to test those who followed the Messenger from those who would turn on their heels (From the Faith). Indeed it was (A change) momentous, except to those guided by Allah. And never would Allah Make your faith of no effect. For Allah is to all people Most surely full of kindness, Most Merciful
49:13 الحجراتشُعُوب اور قَبَائِل
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَٰكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَٰكُمْ شُعُوبًا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
O mankind! We created you from a single (pair) of a male and a female, and made you into nations and tribes, that ye may know each other (not that ye may despise (each other). Verily the most honoured of you in the sight of Allah is (he who is) the most righteous of you. And Allah has full knowledge and is well acquainted (with all things)