⌂ ہوم🔖 لائبریری📊 تجزیہℹ تعارفاردو · English · العربية

وَالْعَصْرِ

قرآن کی قسمیں: اللہ کس چیز کی قسم کھاتا ہے اور کیوں

23 سورتیں جو قسم سے شروع ہوتی ہیں، «لَا أُقْسِمُ» کی سات قسمیں، سورتوں کے درمیان کی قسمیں، رب کی قسم، اور انسانوں کی قسمیں: ہر قسم اپنے جواب کے ساتھ، مکمل عربی متن اور اردو ترجمہ۔

Every oath in the Qur'an: what is sworn by, and the statement each oath leads to.

قسم کیا ہے؟

عرب کسی بات پر زور دینے اور اسے یقینی بنانے کے لیے قسم کھاتے تھے۔ قرآن نے یہی اسلوب اپنایا، مگر اللہ کی قسمیں اپنی مخلوقات کی ہیں: سورج، رات، فجر، قلم، انسان کا نفس۔ ہر قسم کے تین حصے ہوتے ہیں:

أَدَاةُ الْقَسَمِقسم کا حرف: وَ (وَالْعَصْرِ)، بِ (أُقْسِمُ بِ…)، تَ (تَاللَّهِ)
الْمُقْسَمُ بِهِجس کی قسم کھائی جائے: سورج، زمانہ، قرآن…
جَوَابُ الْقَسَمِوہ بات جس پر قسم کھائی گئی، یعنی اصل پیغام

مثال: سورۃ العصر

وَٱلْعَصْرِ ﴿١﴾ إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَفِى خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْحَقِّ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ ﴿٣﴾

قسم ہے زمانے کی۔ (1) بے شک انسان خسارے میں ہے۔ (2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔ (3)

By (the Token of) Time (through the ages) (1) Verily Man is in loss (2) Except such as have Faith, and do righteous deeds, and (join together) in the mutual teaching of Truth, and of Patience and Constancy (3)

«وَالْعَصْرِ» قسم ہے، «زمانہ» مُقسَم بہ ہے، اور «انسان خسارے میں ہے» جوابِ قسم ہے۔

اللہ مخلوقات کی قسم کیوں کھاتا ہے؟

مفسرین (خاص طور پر ابن القیمؒ، اپنی کتاب «التبیان في أقسام القرآن» میں) کے مطابق: (1) جس چیز کی قسم کھائی جائے اس کی طرف توجہ دلانا کہ یہ اللہ کی نشانی ہے؛ (2) اس چیز کی عظمت اور اہمیت ظاہر کرنا؛ (3) قسم اور جواب میں تعلق: مثلاً زمانے کی قسم اور انسان کا خسارہ، کیونکہ زمانہ ہی انسان کی عمر ہے۔

انسانوں کے لیے حکم مختلف ہے: نبی ﷺ نے فرمایا «جو قسم کھائے وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے» (بخاری و مسلم)۔ اللہ اپنی مخلوق کی قسم کھا سکتا ہے، بندہ صرف اللہ کی۔

«لَا أُقْسِمُ» کا مطلب

لفظی طور پر «میں قسم نہیں کھاتا»، مگر معنی «میں قسم کھاتا ہوں» ہے۔ علماء کی تین بڑی آراء: (1) «لَا» زور دینے کے لیے ہے؛ (2) «لَا» منکرین کی بات کی تردید ہے: «ہرگز نہیں! میں قسم کھاتا ہوں…»؛ (3) معنی یہ ہے کہ بات اتنی واضح ہے کہ قسم کی ضرورت ہی نہیں، پھر بھی قسم کھائی جا رہی ہے۔

محذوف جواب

کبھی جوابِ قسم الفاظ میں نہیں آتا اور سیاق سے سمجھا جاتا ہے (جیسے سورۃ ق، النازعات، القیامۃ، الفجر)۔ عربی میں یہ بلاغت کا انداز ہے: سننے والا خود اسے پورا کرتا ہے، اور اکثر اس کا مفہوم «تم ضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے» ہوتا ہے۔

قسم سے شروع ہونے والی 23 سورتیں

تقریباً سب مکی سورتیں، اور زیادہ تر قرآن کے آخری حصے میں۔ زمرے کے حساب سے دیکھیں:

36:1–2 يسسورہ 36
قرآن، کتاب اور قلم

قسم: حکمت والے قرآن کی

يسٓ ﴿١﴾ وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْحَكِيمِ ﴿٢﴾

یٰسٓ۔ (1) قسم ہے حکمت والے قرآن کی۔ (2)

Ya Sin (1) By the Qur'an, full of Wisdom (2)

جوابِ قسم 36:3 يس

إِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿٣﴾

کہ آپ یقیناً رسولوں میں سے ہیں۔ (3)

Thou art indeed one of the messengers

37:1–3 الصافاتسورہ 37
فرشتے اور گھوڑے

قسم: صف باندھنے والوں، ڈانٹنے والوں اور ذکر پڑھنے والوں کی (اکثر کے نزدیک فرشتے)

وَٱلصَّٰٓفَّٰتِ صَفًّا ﴿١﴾ فَٱلزَّٰجِرَٰتِ زَجْرًا ﴿٢﴾ فَٱلتَّٰلِيَٰتِ ذِكْرًا ﴿٣﴾

قسم ہے صف باندھ کر کھڑے ہونے والوں کی۔ (1) پھر سختی سے ڈانٹنے والوں کی۔ (2) پھر ذکر کی تلاوت کرنے والوں کی۔ (3)

By those who range themselves in ranks (1) And so are strong in repelling (evil) (2) And thus proclaim the Message (of Allah) (3)

جوابِ قسم 37:4 الصافات

إِنَّ إِلَٰهَكُمْ لَوَٰحِدٌ ﴿٤﴾

کہ تمہارا معبود یقیناً ایک ہی ہے۔ (4)

Verily, verily, your Allah is one

38:1 صسورہ 38
قرآن، کتاب اور قلم

قسم: نصیحت والے قرآن کی

صٓ وَٱلْقُرْءَانِ ذِى ٱلذِّكْرِ ﴿١﴾

صٓ۔ قسم ہے نصیحت والے قرآن کی۔ (1)

Sad: By the Qur'an, Full of Admonition: (This is the Truth)

جوابِ قسم: محذوف

جواب محذوف ہے، یعنی الفاظ میں ذکر نہیں؛ مفسرین کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن حق ہے۔

Sad: By the Qur'an, Full of Admonition: (This is the Truth)

43:1–2 الزخرفسورہ 43
قرآن، کتاب اور قلم

قسم: واضح کتاب کی

حمٓ ﴿١﴾ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ ﴿٢﴾

حٰمٓ۔ (1) قسم ہے واضح کتاب کی۔ (2)

Ha-Mim (1) By the Book that makes things clear (2)

جوابِ قسم 43:3 الزخرف

إِنَّا جَعَلْنَٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿٣﴾

ہم نے اسے عربی قرآن بنایا تاکہ تم سمجھو۔ (3)

We have made it a Qur'an in Arabic, that ye may be able to understand (and learn wisdom)

44:1–2 الدخانسورہ 44
قرآن، کتاب اور قلم

قسم: واضح کتاب کی

حمٓ ﴿١﴾ وَٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ ﴿٢﴾

حٰمٓ۔ (1) قسم ہے واضح کتاب کی۔ (2)

Ha-Mim (1) By the Book that makes things clear (2)

جوابِ قسم 44:3 الدخان

إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ فِى لَيْلَةٍ مُّبَٰرَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ﴿٣﴾

ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا، بے شک ہم خبردار کرنے والے ہیں۔ (3)

We sent it down during a Blessed Night: for We (ever) wish to warn (against Evil)

50:1 قسورہ 50
قرآن، کتاب اور قلم

قسم: بزرگ قرآن کی

قٓ وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْمَجِيدِ ﴿١﴾

قٓ۔ قسم ہے بزرگی والے قرآن کی۔ (1)

Qaf: By the Glorious Qur'an (Thou art Allah's Messenger)

جوابِ قسم: محذوف

جواب محذوف ہے؛ اگلی آیات سے مفہوم: تم ضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔

Qaf: By the Glorious Qur'an (Thou art Allah's Messenger)

51:1–4 الذارياتسورہ 51
ہوائیں اور بادل

قسم: بکھیرنے والی ہواؤں، بوجھ اٹھانے والے بادلوں، آسانی سے چلنے والی کشتیوں اور کام بانٹنے والے فرشتوں کی

وَٱلذَّٰرِيَٰتِ ذَرْوًا ﴿١﴾ فَٱلْحَٰمِلَٰتِ وِقْرًا ﴿٢﴾ فَٱلْجَٰرِيَٰتِ يُسْرًا ﴿٣﴾ فَٱلْمُقَسِّمَٰتِ أَمْرًا ﴿٤﴾

قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو (غبار) اڑاتی ہیں۔ (1) پھر (پانی کا) بوجھ اٹھانے والے (بادلوں) کی۔ (2) پھر آسانی سے چلنے والی (کشتیوں) کی۔ (3) پھر (اللہ کے) حکم سے کام بانٹنے والے (فرشتوں) کی۔ (4)

By the (Winds) that scatter broadcast (1) And those that lift and bear away heavy weights (2) And those that flow with ease and gentleness (3) And those that distribute and apportion by Command (4)

جوابِ قسم 51:5–6 الذاريات

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ ﴿٥﴾ وَإِنَّ ٱلدِّينَ لَوَٰقِعٌ ﴿٦﴾

بے شک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے۔ (5) اور بے شک جزا ضرور واقع ہونے والی ہے۔ (6)

Verily that which ye are promised is true (5) And verily Judgment and Justice must indeed come to pass (6)

52:1–6 الطورسورہ 52
مقاماتقرآن، کتاب اور قلمآسمان اور ستارے

قسم: طور، لکھی ہوئی کتاب، آباد گھر، اونچی چھت اور بھڑکائے گئے سمندر کی

وَٱلطُّورِ ﴿١﴾ وَكِتَٰبٍ مَّسْطُورٍ ﴿٢﴾ فِى رَقٍّ مَّنشُورٍ ﴿٣﴾ وَٱلْبَيْتِ ٱلْمَعْمُورِ ﴿٤﴾ وَٱلسَّقْفِ ٱلْمَرْفُوعِ ﴿٥﴾ وَٱلْبَحْرِ ٱلْمَسْجُورِ ﴿٦﴾

قسم ہے طور کی۔ (1) اور لکھی ہوئی کتاب کی۔ (2) کھلے ہوئے ورق میں۔ (3) اور آباد گھر کی۔ (4) اور اونچی چھت کی۔ (5) اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی۔ (6)

By the Mount (of Revelation) (1) By a Decree inscribed (2) In a Scroll unfolded (3) By the much-frequented Fane (4) By the Canopy Raised High (5) And by the Ocean filled with Swell (6)

جوابِ قسم 52:7 الطور

إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَٰقِعٌ ﴿٧﴾

بے شک آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔ (7)

Verily, the Doom of thy Lord will indeed come to pass

53:1 النجمسورہ 53
آسمان اور ستارے

قسم: ستارے کی جب وہ گرے

وَٱلنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ﴿١﴾

قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے۔ (1)

By the Star when it goes down

جوابِ قسم 53:2 النجم

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ﴿٢﴾

تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ بہکا ہے۔ (2)

Your Companion is neither astray nor being misled

68:1 القلمسورہ 68
قرآن، کتاب اور قلم

قسم: قلم کی اور جو وہ لکھتے ہیں

نٓ وَٱلْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ ﴿١﴾

نٓ۔ قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں۔ (1)

Nun. By the Pen and the (Record) which (men) write

جوابِ قسم 68:2 القلم

مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ ﴿٢﴾

آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہیں۔ (2)

Thou art not, by the Grace of thy Lord, mad or possessed

75:1–2 القيامةسورہ 75
وقتانسان اور نفس

قسم: قیامت کے دن کی اور ملامت کرنے والے نفس کی

لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ﴿١﴾ وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِ ﴿٢﴾

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ (1) اور قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ (2)

I do call to witness the Resurrection Day (1) And I do call to witness the self-reproaching spirit: (Eschew Evil) (2)

جوابِ قسم: محذوف

جواب محذوف ہے؛ مفہوم: تم ضرور دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے (اگلی آیت: کیا انسان سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے؟)۔

I do call to witness the Resurrection Day (1) And I do call to witness the self-reproaching spirit: (Eschew Evil) (2)

77:1–5 المرسلاتسورہ 77
ہوائیں اور بادل

قسم: پے در پے بھیجی جانے والی ہواؤں (یا فرشتوں) کی

وَٱلْمُرْسَلَٰتِ عُرْفًا ﴿١﴾ فَٱلْعَٰصِفَٰتِ عَصْفًا ﴿٢﴾ وَٱلنَّٰشِرَٰتِ نَشْرًا ﴿٣﴾ فَٱلْفَٰرِقَٰتِ فَرْقًا ﴿٤﴾ فَٱلْمُلْقِيَٰتِ ذِكْرًا ﴿٥﴾

قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں۔ (1) پھر جو آندھی بن کر چلتی ہیں۔ (2) اور جو (بادلوں کو) پھیلاتی ہیں۔ (3) پھر جو (حق و باطل کو) جدا کرتی ہیں۔ (4) پھر جو (دلوں میں) ذکر ڈالتی ہیں۔ (5)

By the (Winds) sent forth one after another (to man's profit) (1) Which then blow violently in tempestuous Gusts (2) And scatter (things) far and wide (3) Then separate them, one from another (4) Then spread abroad a Message (5)

جوابِ قسم 77:7 المرسلات

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٌ ﴿٧﴾

بے شک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور واقع ہوگا۔ (7)

Assuredly, what ye are promised must come to pass

79:1–5 النازعاتسورہ 79
فرشتے اور گھوڑے

قسم: روح کھینچنے والے، نرمی سے نکالنے والے، تیرنے والے، آگے بڑھنے والے اور تدبیر کرنے والے فرشتوں کی

وَٱلنَّٰزِعَٰتِ غَرْقًا ﴿١﴾ وَٱلنَّٰشِطَٰتِ نَشْطًا ﴿٢﴾ وَٱلسَّٰبِحَٰتِ سَبْحًا ﴿٣﴾ فَٱلسَّٰبِقَٰتِ سَبْقًا ﴿٤﴾ فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًا ﴿٥﴾

قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو ڈوب کر (روح) کھینچتے ہیں۔ (1) اور جو آسانی سے کھول کر نکالتے ہیں۔ (2) اور جو تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں۔ (3) پھر جو (حکم پورا کرنے میں) سبقت کرتے ہیں۔ (4) پھر جو (اللہ کے حکم سے) کاموں کی تدبیر کرتے ہیں۔ (5)

By the (angels) who tear out (the souls of the wicked) with violence (1) By those who gently draw out (the souls of the blessed) (2) And by those who glide along (on errands of mercy) (3) Then press forward as in a race (4) Then arrange to do (the Commands of their Lord) (5)

جوابِ قسم: محذوف

جواب محذوف ہے؛ مفہوم: تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔

By the (angels) who tear out (the souls of the wicked) with violence (1) By those who gently draw out (the souls of the blessed) (2) And by those who glide along (on errands of mercy) (3) Then press forward as in a race (4) Then arrange to do (the Commands of their Lord) (5)

85:1–3 البروجسورہ 85
آسمان اور ستارےوقت

قسم: برجوں والے آسمان، وعدے کے دن، اور گواہ اور جس کی گواہی دی جائے، کی

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْبُرُوجِ ﴿١﴾ وَٱلْيَوْمِ ٱلْمَوْعُودِ ﴿٢﴾ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ ﴿٣﴾

قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ (1) اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ (2) اور گواہ کی اور جس کی گواہی دی جائے۔ (3)

By the sky, (displaying) the Zodiacal Signs (1) By the promised Day (of Judgment) (2) By one that witnesses, and the subject of the witness (3)

جوابِ قسم 85:4 البروج

قُتِلَ أَصْحَٰبُ ٱلْأُخْدُودِ ﴿٤﴾

خندقوں والے ہلاک کیے گئے۔ (4)

Woe to the makers of the pit (of fire)

86:1–3 الطارقسورہ 86
آسمان اور ستارے

قسم: آسمان اور رات کو آنے والے چمکتے ستارے کی

وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ ﴿١﴾ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ ﴿٢﴾ ٱلنَّجْمُ ٱلثَّاقِبُ ﴿٣﴾

قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی۔ (1) اور تمہیں کیا معلوم کہ رات کو آنے والا کیا ہے؟ (2) وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ (3)

By the Sky and the Night-Visitant (therein) (1) And what will explain to thee what the Night-Visitant is (2) (It is) the Star of piercing brightness (3)

جوابِ قسم 86:4 الطارق

إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ ﴿٤﴾

کوئی جان ایسی نہیں جس پر کوئی نگہبان نہ ہو۔ (4)

There is no soul but has a protector over it

89:1–5 الفجرسورہ 89
وقت

قسم: فجر، دس راتوں، جفت و طاق اور جاتی ہوئی رات کی

وَٱلْفَجْرِ ﴿١﴾ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿٢﴾ وَٱلشَّفْعِ وَٱلْوَتْرِ ﴿٣﴾ وَٱلَّيْلِ إِذَا يَسْرِ ﴿٤﴾ هَلْ فِى ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِى حِجْرٍ ﴿٥﴾

قسم ہے فجر کی۔ (1) اور دس راتوں کی۔ (2) اور جفت اور طاق کی۔ (3) اور رات کی جب وہ جانے لگے۔ (4) کیا اس میں عقل والے کے لیے کوئی قسم ہے؟ (5)

By the break of Day (1) By the Nights twice five (2) By the even and odd (contrasted) (3) And by the Night when it passeth away (4) Is there (not) in these an adjuration (or evidence) for those who understand (5)

جوابِ قسم: محذوف

جواب محذوف ہے؛ آیت 5 خود قسم کی عظمت بتاتی ہے: کیا اس میں عقل والے کے لیے کوئی قسم ہے؟ بعض کے نزدیک جواب 89:14 ہے: بے شک تیرا رب گھات میں ہے۔

By the break of Day (1) By the Nights twice five (2) By the even and odd (contrasted) (3) And by the Night when it passeth away (4) Is there (not) in these an adjuration (or evidence) for those who understand (5)

90:1–3 البلدسورہ 90
مقاماتانسان اور نفس

قسم: اس شہر (مکہ) کی، اور باپ اور اولاد کی

لَآ أُقْسِمُ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿١﴾ وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿٢﴾ وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ ﴿٣﴾

میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ (1) اور (اے نبی!) آپ اسی شہر میں رہتے ہیں۔ (2) اور قسم ہے باپ کی اور اس کی اولاد کی۔ (3)

I do call to witness this City (1) And thou art a freeman of this City (2) And (the mystic ties of) parent and child (3)

جوابِ قسم 90:4 البلد

لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ فِى كَبَدٍ ﴿٤﴾

یقیناً ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ (4)

Verily We have created man into toil and struggle

91:1–8 الشمسسورہ 91
آسمان اور ستارےوقتانسان اور نفس

قسم: سورج، چاند، دن، رات، آسمان، زمین اور نفس کی

وَٱلشَّمْسِ وَضُحَىٰهَا ﴿١﴾ وَٱلْقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا ﴿٢﴾ وَٱلنَّهَارِ إِذَا جَلَّىٰهَا ﴿٣﴾ وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰهَا ﴿٤﴾ وَٱلسَّمَآءِ وَمَا بَنَىٰهَا ﴿٥﴾ وَٱلْأَرْضِ وَمَا طَحَىٰهَا ﴿٦﴾ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّىٰهَا ﴿٧﴾ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَىٰهَا ﴿٨﴾

قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔ (1) اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے۔ (2) اور دن کی جب وہ اسے نمایاں کر دے۔ (3) اور رات کی جب وہ اسے ڈھانپ لے۔ (4) اور آسمان کی اور اس کی جس نے اسے بنایا۔ (5) اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے بچھایا۔ (6) اور نفس کی اور اس کی جس نے اسے درست بنایا۔ (7) پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری اس کے دل میں ڈال دی۔ (8)

By the Sun and his (glorious) splendour (1) By the Moon as she follows him (2) By the Day as it shows up (the Sun's) glory (3) By the Night as it conceals it (4) By the Firmament and its (wonderful) structure (5) By the Earth and its (wide) expanse (6) By the Soul, and the proportion and order given to it (7) And its enlightenment as to its wrong and its right (8)

جوابِ قسم 91:9–10 الشمس

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰهَا ﴿٩﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا ﴿١٠﴾

یقیناً کامیاب ہوا جس نے اسے پاک کیا۔ (9) اور نامراد ہوا جس نے اسے (گناہوں میں) دبا دیا۔ (10)

Truly he succeeds that purifies it (9) And he fails that corrupts it (10)

92:1–3 الليلسورہ 92
وقتانسان اور نفس

قسم: رات، دن، اور نر و مادہ کو پیدا کرنے والے کی

وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾ وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾ وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ ﴿٣﴾

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ (1) اور دن کی جب وہ روشن ہو۔ (2) اور قسم ہے اس کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔ (3)

By the Night as it conceals (the light) (1) By the Day as it appears in glory (2) By (the mystery of) the creation of male and female (3)

جوابِ قسم 92:4 الليل

إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ ﴿٤﴾

بے شک تمہاری کوششیں طرح طرح کی ہیں۔ (4)

Verily, (the ends) ye strive for are diverse

93:1–2 الضحىسورہ 93
وقت

قسم: صبح کی دھوپ اور رات کی جب وہ چھا جائے

وَٱلضُّحَىٰ ﴿١﴾ وَٱلَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ ﴿٢﴾

قسم ہے چاشت (دن کی روشنی) کی۔ (1) اور رات کی جب وہ چھا جائے۔ (2)

By the Glorious Morning Light (1) And by the Night when it is still (2)

جوابِ قسم 93:3 الضحى

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ ﴿٣﴾

آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ ناراض ہوا ہے۔ (3)

Thy Guardian-Lord hath not forsaken thee, nor is He displeased

95:1–3 التينسورہ 95
مقامات

قسم: انجیر، زیتون، طورِ سینا اور امن والے شہر کی

وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيْتُونِ ﴿١﴾ وَطُورِ سِينِينَ ﴿٢﴾ وَهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ٱلْأَمِينِ ﴿٣﴾

قسم ہے انجیر اور زیتون کی۔ (1) اور طورِ سینا کی۔ (2) اور اس امن والے شہر کی۔ (3)

By the Fig and the Olive (1) And the Mount of Sinai (2) And this City of security (3)

جوابِ قسم 95:4 التين

لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ فِىٓ أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ﴿٤﴾

یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔ (4)

We have indeed created man in the best of moulds

100:1–5 العادياتسورہ 100
فرشتے اور گھوڑے

قسم: ہانپتے دوڑتے، چنگاریاں اڑاتے، صبح دم حملہ کرتے گھوڑوں کی

وَٱلْعَٰدِيَٰتِ ضَبْحًا ﴿١﴾ فَٱلْمُورِيَٰتِ قَدْحًا ﴿٢﴾ فَٱلْمُغِيرَٰتِ صُبْحًا ﴿٣﴾ فَأَثَرْنَ بِهِۦ نَقْعًا ﴿٤﴾ فَوَسَطْنَ بِهِۦ جَمْعًا ﴿٥﴾

قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔ (1) پھر جو (ٹاپوں سے) چنگاریاں نکالتے ہیں۔ (2) پھر جو صبح دم حملہ کرتے ہیں۔ (3) پھر اس سے غبار اڑاتے ہیں۔ (4) پھر اسی (غبار) کے ساتھ (دشمن کی) جماعت کے بیچ جا گھستے ہیں۔ (5)

By the (Steeds) that run, with panting (breath) (1) And strike sparks of fire (2) And push home the charge in the morning (3) And raise the dust in clouds the while (4) And penetrate forthwith into the midst (of the foe) en masse (5)

جوابِ قسم 100:6 العاديات

إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٌ ﴿٦﴾

بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (6)

Truly man is, to his Lord, ungrateful

103:1 العصرسورہ 103
وقت

قسم: زمانے (عصر) کی

وَٱلْعَصْرِ ﴿١﴾

قسم ہے زمانے کی۔ (1)

By (the Token of) Time (through the ages)

جوابِ قسم 103:2–3 العصر

إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَفِى خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْحَقِّ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ ﴿٣﴾

بے شک انسان خسارے میں ہے۔ (2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔ (3)

Verily Man is in loss (2) Except such as have Faith, and do righteous deeds, and (join together) in the mutual teaching of Truth, and of Patience and Constancy (3)

«لَا أُقْسِمُ» کی قسمیں

56:75–76 الواقعةمواقع النجوم

ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم؛ اور خود فرمایا: یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو۔

فَلَآ أُقْسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ ﴿٧٥﴾ وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ﴿٧٦﴾

تو میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں۔ (75) اور اگر تم جانو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔ (76)

Furthermore I call to witness the setting of the Stars (75) And that is indeed a mighty adjuration if ye but knew (76)

جوابِ قسم 56:77 الواقعة

إِنَّهُۥ لَقُرْءَانٌ كَرِيمٌ ﴿٧٧﴾

بے شک یہ بڑی عزت والا قرآن ہے۔ (77)

That this is indeed a qur'an Most Honourable

69:38–39 الحاقةجو دیکھتے ہو اور جو نہیں دیکھتے

دیکھی اور اَن دیکھی ہر چیز کی قسم۔

فَلَآ أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ ﴿٣٨﴾ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ ﴿٣٩﴾

تو میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو۔ (38) اور ان کی جو تم نہیں دیکھتے۔ (39)

So I do call to witness what ye see (38) And what ye see not (39)

جوابِ قسم 69:40 الحاقة

إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ﴿٤٠﴾

بے شک یہ ایک معزز رسول کا (لایا ہوا) کلام ہے۔ (40)

That this is verily the word of an honoured messenger

70:40 المعارجمشرقوں اور مغربوں کا رب

جواب اسی آیت میں: ہم ضرور قادر ہیں۔

فَلَآ أُقْسِمُ بِرَبِّ ٱلْمَشَٰرِقِ وَٱلْمَغَٰرِبِ إِنَّا لَقَٰدِرُونَ ﴿٤٠﴾

تو میں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم یقیناً قادر ہیں۔ (40)

Now I do call to witness the Lord of all points in the East and the West that We can certainly

75:1–2 القيامةقیامت کا دن اور ملامت کرنے والا نفس

سورہ کا آغاز (اوپر دیکھیں)۔

لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ﴿١﴾ وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِ ﴿٢﴾

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ (1) اور قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ (2)

I do call to witness the Resurrection Day (1) And I do call to witness the self-reproaching spirit: (Eschew Evil) (2)

81:15–18 التكويرچھپنے والے ستارے، رات اور صبح

عَسْعَسَ اور تَنَفَّسَ والی مشہور قسم۔

فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلْخُنَّسِ ﴿١٥﴾ ٱلْجَوَارِ ٱلْكُنَّسِ ﴿١٦﴾ وَٱلَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ ﴿١٧﴾ وَٱلصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ﴿١٨﴾

تو میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے (ستاروں) کی۔ (15) جو چلتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں۔ (16) اور رات کی قسم جب وہ جانے لگے۔ (17) اور صبح کی قسم جب وہ سانس لے۔ (18)

So verily I call to witness the planets - that recede (15) Go straight, or hide (16) And the Night as it dissipates (17) And the Dawn as it breathes away the darkness (18)

جوابِ قسم 81:19 التكوير

إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ﴿١٩﴾

بے شک یہ ایک معزز رسول کا (لایا ہوا) کلام ہے۔ (19)

Verily this is the word of a most honourable Messenger

84:16–18 الانشقاقشفق، رات اور چاند

تم ضرور ایک حالت سے دوسری حالت میں پہنچو گے۔

فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ ﴿١٦﴾ وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ﴿١٧﴾ وَٱلْقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ ﴿١٨﴾

تو میں قسم کھاتا ہوں شام کی سرخی کی۔ (16) اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ سمیٹ لیتی ہے۔ (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جائے۔ (18)

So I do call to witness the ruddy glow of Sunset (16) The Night and its Homing (17) And the Moon in her fullness (18)

جوابِ قسم 84:19 الانشقاق

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ ﴿١٩﴾

تم ضرور ایک حالت سے دوسری حالت میں پہنچو گے۔ (19)

Ye shall surely travel from stage to stage

90:1–2 البلدیہ شہر

سورہ کا آغاز (اوپر دیکھیں)۔

لَآ أُقْسِمُ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿١﴾ وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿٢﴾

میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ (1) اور (اے نبی!) آپ اسی شہر میں رہتے ہیں۔ (2)

I do call to witness this City (1) And thou art a freeman of this City (2)

سورتوں کے درمیان کی قسمیں

74:32–34 المدثرچاند، رات اور صبح

«كَلَّا» کے بعد قسم: دوزخ بڑی چیزوں میں سے ایک ہے۔

كَلَّا وَٱلْقَمَرِ ﴿٣٢﴾ وَٱلَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ ﴿٣٣﴾ وَٱلصُّبْحِ إِذَآ أَسْفَرَ ﴿٣٤﴾

ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی۔ (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے۔ (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو۔ (34)

Nay, verily: By the Moon (32) And by the Night as it retreateth (33) And by the Dawn as it shineth forth (34)

جوابِ قسم 74:35 المدثر

إِنَّهَا لَإِحْدَى ٱلْكُبَرِ ﴿٣٥﴾

بے شک وہ (دوزخ) بڑی چیزوں میں سے ایک ہے۔ (35)

This is but one of the mighty (portents)

86:11–12 الطارقلوٹنے والا آسمان اور پھٹنے والی زمین

بارش لوٹانے والا آسمان اور پودوں سے پھٹنے والی زمین: یہ (قرآن) فیصلہ کن بات ہے۔

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلرَّجْعِ ﴿١١﴾ وَٱلْأَرْضِ ذَاتِ ٱلصَّدْعِ ﴿١٢﴾

قسم ہے (بارش) لوٹانے والے آسمان کی۔ (11) اور (پودوں سے) پھٹنے والی زمین کی۔ (12)

By the Firmament which returns (in its round) (11) And by the Earth which opens out (for the gushing of springs or the sprouting of vegetation) (12)

جوابِ قسم 86:13 الطارق

إِنَّهُۥ لَقَوْلٌ فَصْلٌ ﴿١٣﴾

بے شک یہ (قرآن) فیصلہ کن کلام ہے۔ (13)

Behold this is the Word that distinguishes (Good from Evil)

51:7 الذارياتراستوں والا آسمان

تم مختلف باتوں میں پڑے ہو۔

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْحُبُكِ ﴿٧﴾

قسم ہے راستوں والے آسمان کی۔ (7)

By the Sky with (its) numerous Paths

جوابِ قسم 51:8 الذاريات

إِنَّكُمْ لَفِى قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ﴿٨﴾

بے شک تم ایک دوسرے سے مختلف باتوں میں پڑے ہوئے ہو۔ (8)

Truly ye are in a doctrine discordant

51:23 الذارياتآسمان اور زمین کا رب

جواب اسی آیت میں: یہ ایسا ہی حق ہے جیسے تم بولتے ہو۔

فَوَرَبِّ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ إِنَّهُۥ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ ﴿٢٣﴾

تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم! یہ (بات) ایسی ہی یقینی ہے جیسے تمہارا بولنا۔ (23)

Then, by the Lord of heaven and earth, this is the very Truth, as much as the fact that ye can speak intelligently to each other

رب کی قسم، اور نبی ﷺ کی زندگی کی قسم

تین جگہ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اپنے رب کی قسم کھا کر کہیں (10:53، 34:3، 64:7)؛ ابن کثیرؒ نے اس کی نشاندہی کی ہے۔ اور «لَعَمْرُكَ» قرآن میں کسی انسان کی زندگی کی واحد قسم ہے۔

4:65 النساءفَلَا وَرَبِّكَ

ایمان تب تک نہیں جب تک آپ کو فیصل نہ مانیں۔

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا ﴿٦٥﴾

تو آپ کے رب کی قسم! وہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مانیں، پھر آپ کے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور پوری طرح مان لیں۔ (65)

But no, by the Lord, they can have no (real) Faith, until they make thee judge in all disputes between them, and find in their souls no resistance against Thy decisions, but accept them with the fullest conviction

15:92–93 الحجرفَوَرَبِّكَ

ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔

فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٩٢﴾ عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ﴿٩٣﴾

پس آپ کے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔ (92) اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے۔ (93)

Therefore, by the Lord, We will, of a surety, call them to account (92) For all their deeds (93)

19:68 مريمفَوَرَبِّكَ

ہم انہیں اور شیاطین کو ضرور جمع کریں گے۔

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَٱلشَّيَٰطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا ﴿٦٨﴾

پس آپ کے رب کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے، پھر انہیں جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کریں گے۔ (68)

So, by thy Lord, without doubt, We shall gather them together, and (also) the Evil Ones (with them); then shall We bring them forth on their knees round about Hell

10:53 يونسقُلْ إِي وَرَبِّي

نبی ﷺ کو قسم کھانے کا حکم (1)۔

وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِى وَرَبِّىٓ إِنَّهُۥ لَحَقٌّ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ﴿٥٣﴾

اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں: کیا یہ سچ ہے؟ کہہ دیجیے: ہاں، میرے رب کی قسم! یہ یقیناً سچ ہے، اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے۔ (53)

They seek to be informed by thee: "Is that true?" Say: "Aye! by my Lord! it is the very truth! and ye cannot frustrate it

34:3 سبأقُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي

نبی ﷺ کو قسم کھانے کا حکم (2): قیامت ضرور آئے گی۔

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَا تَأْتِينَا ٱلسَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَلَآ أَصْغَرُ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْبَرُ إِلَّا فِى كِتَٰبٍ مُّبِينٍ ﴿٣﴾

اور کافروں نے کہا: ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ کہہ دیجیے: کیوں نہیں، میرے رب کی قسم! وہ ضرور تم پر آئے گی، (وہ رب) جو غیب کا جاننے والا ہے، آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر چیز بھی اس سے چھپی نہیں، نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر سب ایک واضح کتاب میں ہے۔ (3)

The Unbelievers say, "Never to us will come the Hour": Say, "Nay! but most surely, by my Lord, it will come upon you;- by Him Who knows the unseen,- from Whom is not hidden the least little atom in the heavens or on earth: Nor is there anything less than that, or greater, but is in the Record Perspicuous

64:7 التغابنقُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي

نبی ﷺ کو قسم کھانے کا حکم (3): تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔

زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن لَّن يُبْعَثُوا۟ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ ﴿٧﴾

کافروں نے دعویٰ کیا کہ وہ ہرگز (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دیجیے: کیوں نہیں، میرے رب کی قسم! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تمہیں ضرور بتایا جائے گا جو تم نے کیا، اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ (7)

The Unbelievers think that they will not be raised up (for Judgment). Say: "Yea, By my Lord, Ye shall surely be raised up: then shall ye be told (the truth) of all that ye did. And that is easy for Allah

15:72 الحجرلَعَمْرُكَ

قرآن میں کسی انسان کی زندگی کی واحد قسم: نبی ﷺ کی زندگی کی قسم۔

لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِى سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴿٧٢﴾

(اے نبی!) آپ کی جان کی قسم! وہ اپنی مستی میں بھٹک رہے تھے۔ (72)

Verily, by thy life (O Prophet), in their wild intoxication, they wander in distraction, to and fro

انسانوں (اور ابلیس) کی قسمیں

«تَاللَّهِ» 9 بار آیا: دو بار اللہ کی اپنی قسم (16:56، 16:63)، اور باقی انبیاء، یوسفؑ کے بھائیوں، اہلِ جنت اور اہلِ دوزخ کی زبان سے۔ ساتھ میں ابلیس کی قسم اور کافروں و منافقوں کی قسموں کی مثالیں۔

16:56 النحلتَاللَّهِ: اللہ کی قسم

اللہ کی اپنی قسم: تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔

وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِّمَّا رَزَقْنَٰهُمْ تَٱللَّهِ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ ﴿٥٦﴾

اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے وہ ان (بتوں) کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔ اللہ کی قسم! تم سے ضرور پوچھا جائے گا اس جھوٹ کے بارے میں جو تم گھڑتے تھے۔ (56)

And they (even) assign, to things they do not know, a portion out of that which We have bestowed for their sustenance! By Allah, ye shall certainly be called to account for your false inventions

16:63 النحلتَاللَّهِ

اللہ کی اپنی قسم: ہم نے تم سے پہلے امتوں کی طرف رسول بھیجے۔

تَٱللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦٣﴾

اللہ کی قسم! ہم نے آپ سے پہلے امتوں کی طرف رسول بھیجے، تو شیطان نے ان کے اعمال انہیں خوش نما کر دکھائے، تو آج وہی ان کا ساتھی ہے، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (63)

By Allah, We (also) sent (Our messengers) to Peoples before thee; but Satan made, (to the wicked), their own acts seem alluring: He is also their patron today, but they shall have a most grievous penalty

21:57 الأنبياءتَاللَّهِ

ابراہیمؑ: میں تمہارے بتوں کے ساتھ ضرور ایک چال چلوں گا۔

وَتَٱللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَٰمَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا۟ مُدْبِرِينَ ﴿٥٧﴾

اور اللہ کی قسم! تمہارے چلے جانے کے بعد میں تمہارے بتوں کے ساتھ ضرور ایک تدبیر کروں گا۔ (57)

And by Allah, I have a plan for your idols - after ye go away and turn your backs

12:73 يوسفتَاللَّهِ

یوسفؑ کے بھائی: ہم فساد کرنے نہیں آئے۔

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ ﴿٧٣﴾

انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے، اور نہ ہم چور ہیں۔ (73)

(The brothers) said: "By Allah! well ye know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves

12:85 يوسفتَاللَّهِ

بھائی، یعقوبؑ سے: آپ یوسف کو یاد کرتے کرتے گھل جائیں گے۔

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَٰلِكِينَ ﴿٨٥﴾

انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ یوسف کو یاد کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ گھل جائیں یا ہلاک ہو جائیں۔ (85)

They said: "By Allah! (never) wilt thou cease to remember Joseph until thou reach the last extremity of illness, or until thou die

12:91 يوسفتَاللَّهِ

بھائی، یوسفؑ سے: اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی۔

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ ﴿٩١﴾

انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی، اور ہم یقیناً خطاکار تھے۔ (91)

They said: "By Allah! indeed has Allah preferred thee above us, and we certainly have been guilty of sin

12:95 يوسفتَاللَّهِ

گھر والے، یعقوبؑ سے: آپ اپنی پرانی غلطی میں ہیں۔

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ ﴿٩٥﴾

انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ تو اپنی اسی پرانی غلطی میں ہیں۔ (95)

They said: "By Allah! truly thou art in thine old wandering mind

26:97 الشعراءتَاللَّهِ

دوزخ میں گمراہ لوگ: ہم کھلی گمراہی میں تھے۔

تَٱللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ ﴿٩٧﴾

اللہ کی قسم! ہم یقیناً کھلی گمراہی میں تھے۔ (97)

By Allah, we were truly in an error manifest

37:56 الصافاتتَاللَّهِ

جنتی، دوزخی ساتھی سے: تو تو مجھے بھی ہلاک کر دیتا۔

قَالَ تَٱللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ ﴿٥٦﴾

(جنتی اپنے دوزخی ساتھی سے) کہے گا: اللہ کی قسم! تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی والا تھا۔ (56)

He said: "By Allah! thou wast little short of bringing me to perdition

38:82–83 صفَبِعِزَّتِكَ

ابلیس کی قسم: تیری عزت کی قسم، میں ان سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٢﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ ﴿٨٣﴾

(ابلیس نے) کہا: تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو ضرور گمراہ کروں گا۔ (82) سوائے ان میں سے تیرے چنے ہوئے بندوں کے۔ (83)

(Iblis) said: "Then, by Thy power, I will put them all in the wrong (82) Except Thy Servants amongst them, sincere and purified (by Thy Grace) (83)

6:109 الأنعاموَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ

کافروں کی پکی قسمیں کہ نشانی آئے تو ایمان لائیں گے۔

وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ لَئِن جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا ٱلْءَايَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿١٠٩﴾

اور انہوں نے اللہ کی پکی قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ جائے تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے۔ کہہ دیجیے: نشانیاں تو بس اللہ کے پاس ہیں۔ اور (اے مسلمانو) تمہیں کیا معلوم کہ جب وہ آ بھی جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (109)

They swear their strongest oaths by Allah, that if a (special) sign came to them, by it they would believe. Say: "Certainly (all) signs are in the power of Allah: but what will make you (Muslims) realise that (even) if (special) signs came, they will not believe

9:62 التوبةيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ

منافقین کی قسمیں تاکہ مسلمانوں کو راضی کریں۔

يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ ﴿٦٢﴾

وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ انہیں راضی کریں اگر وہ مومن ہیں۔ (62)

To you they swear by Allah. In order to please you: But it is more fitting that they should please Allah and His Messenger, if they are Believers

خلاصہ: اللہ نے کس کس کی قسم کھائی

زمرہجن کی قسم کھائی گئیسورتیں / آیات
وقتفجر، چاشت، عصر، رات، دن، صبح، شفق، دس راتیں، جفت و طاق، قیامت کا دن، وعدے کا دن89، 93، 103، 92، 91، 74، 84، 75، 85
آسمانسورج، چاند، ستارہ، چھپنے والے ستارے، برجوں والا آسمان، راستوں والا آسمان، بارش لوٹانے والا آسمان، اونچی چھت91، 53، 81، 85، 51، 86، 52، 56
زمین اور مقاماتطور، طورِ سینا، مکہ (یہ شہر، امن والا شہر)، آباد گھر، بھڑکایا ہوا سمندر، پھٹنے والی زمین، انجیر اور زیتون52، 95، 90، 86
ہوائیں اور مخلوقاتبکھیرنے والی ہوائیں، بادل، کشتیاں، پے در پے ہوائیں، فرشتے، دوڑتے گھوڑے51، 77، 37، 79، 100
کلامحکمت والا قرآن، نصیحت والا قرآن، بزرگ قرآن، واضح کتاب، لکھی ہوئی کتاب، قلم36، 38، 50، 43، 44، 52، 68
انسانملامت کرنے والا نفس، نفس اور اس کا بنانے والا، باپ اور اولاد، نر و مادہ کا خالق، نبی ﷺ کی زندگی75، 91، 90، 92، 15:72
اللہ کی ذاتتیرا رب، میرا رب، آسمان و زمین کا رب، مشرقوں اور مغربوں کا رب4:65، 15:92، 19:68، 10:53، 34:3، 64:7، 51:23، 70:40

© 2026 Meem Ain Studio · تعارف · پرائیویسی

↑