قرآن انہی لوگوں کو دوسرے الفاظ میں بھی بیان کرتا ہے
الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا · جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے (4)
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَٰتِنَا غَٰفِلُونَ
بے شک جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے اور اسی پر مطمئن ہو گئے، اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں،
Those who rest not their hope on their meeting with Us, but are pleased and satisfied with the life of the present, and those who heed not Our Signs
وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ
اور اگر اللہ لوگوں کے لیے برائی بھی اسی طرح جلدی لے آتا جیسے وہ بھلائی جلدی مانگتے ہیں تو ان کی مدت پوری کر دی جاتی۔ تو جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا چھوڑ دیتے ہیں۔
If Allah were to hasten for men the ill (they have earned) as they would fain hasten on the good,- then would their respite be settled at once. But We leave those who rest not their hope on their meeting with Us, in their trespasses, wandering in distraction to and fro
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٰتٍ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٍ غَيْرِ هَٰذَآ أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِىٓ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں: اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آؤ یا اسے بدل دو۔ کہہ دیجیے: مجھے حق نہیں کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
But when Our Clear Signs are rehearsed unto them, those who rest not their hope on their meeting with Us, Say: "Bring us a reading other than this, or change this," Say: "It is not for me, of my own accord, to change it: I follow naught but what is revealed unto me: if I were to disobey my Lord, I should myself fear the penalty of a Great Day (to come)
وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ ٱسْتَكْبَرُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا كَبِيرًا
اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے انہوں نے کہا: ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے، یا ہم اپنے رب کو (کیوں نہیں) دیکھ لیتے؟ انہوں نے اپنے دلوں میں بڑا تکبر کیا اور بہت سرکشی کی۔
Such as fear not the meeting with Us (for Judgment) say: "Why are not the angels sent down to us, or (why) do we not see our Lord?" Indeed they have an arrogant conceit of themselves, and mighty is the insolence of their impiety
كَذَّبُوا / كَفَرُوا بِلِقَاءِ… · جنہوں نے (اللہ یا آخرت سے) ملاقات کو جھٹلایا (9)
قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا۟ يَٰحَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ
یقیناً نقصان میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے ملاقات کو جھٹلایا، یہاں تک کہ جب اچانک ان پر قیامت آ پہنچے گی تو کہیں گے: ہائے افسوس اس کوتاہی پر جو ہم نے اس میں کی! اور وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے۔ سن لو! کیا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اٹھا رہے ہیں۔
Lost indeed are they who treat it as a falsehood that they must meet Allah,- until on a sudden the hour is on them, and they say: "Ah! woe unto us that we took no thought of it"; for they bear their burdens on their backs, and evil indeed are the burdens that they bear
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْءَاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال برباد ہو گئے۔ انہیں بس اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کرتے تھے۔
Those who reject Our signs and the meeting in the Hereafter,- vain are their deeds: Can they expect to be rewarded except as they have wrought
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةً مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ
اور جس دن وہ انہیں جمع کرے گا (تو انہیں ایسا لگے گا) گویا وہ دن کی ایک گھڑی کے سوا (دنیا میں) نہیں ٹھہرے، وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ یقیناً نقصان میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے ملاقات کو جھٹلایا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے۔
One day He will gather them together: (It will be) as if they had tarried but an hour of a day: they will recognise each other: assuredly those will be lost who denied the meeting with Allah and refused to receive true guidance
أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَآئِهِۦ فَحَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَزْنًا
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا، تو ان کے اعمال برباد ہو گئے، اور ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔
They are those who deny the Signs of their Lord and the fact of their having to meet Him (in the Hereafter): vain will be their works, nor shall We, on the Day of Judgment, give them any weight
وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱلْءَاخِرَةِ وَأَتْرَفْنَٰهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا مَا هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ
اور اس کی قوم کے سرداروں نے، جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور جنہیں ہم نے دنیا کی زندگی میں خوشحالی دی تھی، کہا: یہ تو بس تم جیسا ایک انسان ہے، وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔
And the chiefs of his people, who disbelieved and denied the Meeting in the Hereafter, and on whom We had bestowed the good things of this life, said: "He is no more than a man like yourselves: he eats of that of which ye eat, and drinks of what ye drink
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يَئِسُوا۟ مِن رَّحْمَتِى وَأُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے مایوس ہو گئے، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Those who reject the Signs of Allah and the Meeting with Him (in the Hereafter),- it is they who shall despair of My Mercy: it is they who will (suffer) a most grievous Penalty
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآئِ ٱلْءَاخِرَةِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ فِى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ
اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا، تو وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔
And those who have rejected Faith and falsely denied our Signs and the meeting of the Hereafter,- such shall be brought forth to Punishment
وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا ضَلَلْنَا فِى ٱلْأَرْضِ أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍۭ بَلْ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ كَٰفِرُونَ
اور انہوں نے کہا: کیا جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟ بلکہ وہ اپنے رب سے ملاقات کے منکر ہیں۔
And they say: "What! when we lie, hidden and lost, in the earth, shall we indeed be in a Creation renewed? Nay, they deny the Meeting with their Lord
أَلَآ إِنَّهُمْ فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآءِ رَبِّهِمْ أَلَآ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَىْءٍ مُّحِيطٌۢ
سن لو! وہ اپنے رب سے ملاقات کے بارے میں شک میں ہیں۔ سن لو! وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔
Ah indeed! Are they in doubt concerning the Meeting with their Lord? Ah indeed! It is He that doth encompass all things
يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ · جو جزا کے دن کو جھٹلاتے ہیں (5)
وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ
(دوزخی کہیں گے:) اور ہم جزا کے دن کو جھٹلاتے تھے۔
And we used to deny the Day of Judgment
كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ
ہرگز نہیں! بلکہ تم جزا (کے دن) کو جھٹلاتے ہو۔
Nay! But ye do reject Right and Judgment
ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ
جو جزا کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔
Those that deny the Day of Judgment
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِٱلدِّينِ
پھر (اے انسان!) اس کے بعد کون سی چیز تجھے جزا کو جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے؟
Then what can, after this, contradict thee, as to the judgment (to come)
أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو جزا (کے دن) کو جھٹلاتا ہے؟
Seest thou one who denies the Judgment (to come)
كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ · جنہوں نے قیامت کو جھٹلایا (2)
بَلْ كَذَّبُوا۟ بِٱلسَّاعَةِ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِٱلسَّاعَةِ سَعِيرًا
بلکہ انہوں نے قیامت کو جھٹلایا، اور جو قیامت کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Nay they deny the hour (of the judgment to come): but We have prepared a blazing fire for such as deny the hour
وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّى لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا
اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت قائم ہوگی، اور اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو میں ضرور اس سے بہتر ٹھکانا پاؤں گا۔
Nor do I deem that the Hour (of Judgment) will (ever) come: Even if I am brought back to my Lord, I shall surely find (there) something better in exchange
آخرت کے انکار میں ان کی باتیں
أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ
کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے؟
What! when we die, and become dust and bones, shall we (then) be raised up (again)
وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًا وَرُفَٰتًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا
اور انہوں نے کہا: کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟
They say: "What! when we are reduced to bones and dust, should we really be raised up (to be) a new creation
وَيَقُولُ ٱلْإِنسَٰنُ أَءِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا
اور انسان کہتا ہے: کیا جب میں مر جاؤں گا تو پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟
Man says: "What! When I am dead, shall I then be raised up alive
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِىَ خَلْقَهُۥ قَالَ مَن يُحْىِ ٱلْعِظَٰمَ وَهِىَ رَمِيمٌ
اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی اور اپنی پیدائش بھول گیا۔ کہنے لگا: ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ وہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟
And he makes comparisons for Us, and forgets his own (origin and) Creation: He says, "Who can give life to (dry) bones and decomposed ones (at that)
وَقَالُوٓا۟ إِنْ هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
اور انہوں نے کہا: ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہیں، اور ہم (دوبارہ) اٹھائے جانے والے نہیں۔
And they (sometimes) say: "There is nothing except our life on this earth, and never shall we be raised up again
إِنْ هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں، اور ہم (دوبارہ) اٹھائے جانے والے نہیں۔
There is nothing but our life in this world! We shall die and we live! But we shall never be raised up again
إِنْ هِىَ إِلَّا مَوْتَتُنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ
یہ تو بس ہماری پہلی موت ہے، اور ہم (دوبارہ) اٹھائے جانے والے نہیں۔
There is nothing beyond our first death, and we shall not be raised again
فَأْتُوا۟ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لے آؤ اگر تم سچے ہو۔
Then bring (back) our forefathers, if what ye say is true
وَقَالُوا۟ مَا هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهْرُ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ
اور انہوں نے کہا: ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہیں، ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہمیں صرف زمانہ ہلاک کرتا ہے۔ حالانکہ انہیں اس کا کچھ علم نہیں، وہ تو بس گمان کرتے ہیں۔
And they say: "What is there but our life in this world? We shall die and we live, and nothing but time can destroy us." But of that they have no knowledge: they merely conjecture
وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَٱلسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيهَا قُلْتُم مَّا نَدْرِى مَا ٱلسَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ
اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں، تو تم کہتے تھے: ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، اور ہمیں یقین نہیں۔
And when it was said that the promise of Allah was true, and that the Hour- there was no doubt about its (coming), ye used to say, 'We know not what is the hour: we only think it is an idea, and we have no firm assurance
أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ذَٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيدٌ
کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کیے جائیں گے)؟ یہ لوٹنا تو (عقل سے) بہت دور ہے۔
What! When we die and become dust, (shall we live again?) That is a (sort of) return far (from our understanding)
لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا هَٰذَا مِن قَبْلُ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ
اس کا وعدہ ہم سے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی کیا جا چکا ہے، یہ تو بس پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
Such things have been promised to us and to our fathers before! they are nothing but tales of the ancients
أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًا نَّخِرَةً
کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے (تب بھی)؟
What! - when we shall have become rotten bones
زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن لَّن يُبْعَثُوا۟ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ
کافروں نے دعویٰ کیا کہ وہ ہرگز (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دیجیے: کیوں نہیں، میرے رب کی قسم! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تمہیں ضرور بتایا جائے گا جو تم نے کیا، اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔
The Unbelievers think that they will not be raised up (for Judgment). Say: "Yea, By my Lord, Ye shall surely be raised up: then shall ye be told (the truth) of all that ye did. And that is easy for Allah
وَٱسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُۥ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ
اور اس (فرعون) نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور سمجھا کہ وہ ہماری طرف لوٹائے نہیں جائیں گے۔
And he was arrogant and insolent in the land, beyond reason,- He and his hosts: they thought that they would not have to return to Us
وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱلْءَاخِرَةِ وَأَتْرَفْنَٰهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا مَا هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ
اور اس کی قوم کے سرداروں نے، جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور جنہیں ہم نے دنیا کی زندگی میں خوشحالی دی تھی، کہا: یہ تو بس تم جیسا ایک انسان ہے، وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔
And the chiefs of his people, who disbelieved and denied the Meeting in the Hereafter, and on whom We had bestowed the good things of this life, said: "He is no more than a man like yourselves: he eats of that of which ye eat, and drinks of what ye drink
قرآن کے جواب، اور انکار کی اصل وجہ
قرآن کے مطابق انکار عموماً دلیل کی کمی سے نہیں بلکہ خواہش اور تکبر سے ہوتا ہے (75:5، 83:14)۔
قُلْ يُحْيِيهَا ٱلَّذِىٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ
کہہ دیجیے: انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا، اور وہ ہر طرح کی پیدائش کو خوب جانتا ہے۔
Say, "He will give them life Who created them for the first time! for He is Well-versed in every kind of creation
وَهُوَ ٱلَّذِى يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
اور وہی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور یہ اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں سب سے اعلیٰ شان اسی کی ہے، اور وہی زبردست، حکمت والا ہے۔
It is He Who begins (the process of) creation; then repeats it; and for Him it is most easy. To Him belongs the loftiest similitude (we can think of) in the heavens and the earth: for He is Exalted in Might, full of wisdom
وَٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ ٱلرِّيَٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَٰهُ إِلَىٰ بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَٰلِكَ ٱلنُّشُورُ
اور اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے مردہ بستی کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح (مُردوں کو) اٹھایا جانا ہے۔
It is Allah Who sends forth the Winds, so that they raise up the Clouds, and We drive them to a land that is dead, and revive the earth therewith after its death: even so (will be) the Resurrection
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنَّكَ تَرَى ٱلْأَرْضَ خَٰشِعَةً فَإِذَآ أَنزَلْنَا عَلَيْهَا ٱلْمَآءَ ٱهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ ٱلَّذِىٓ أَحْيَاهَا لَمُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰٓ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم زمین کو دبی پڑی دیکھتے ہو، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلہانے اور ابھرنے لگتی ہے۔ بے شک جس نے اسے زندہ کیا وہی مُردوں کو زندہ کرنے والا ہے، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
And among His Signs in this: thou seest the earth barren and desolate; but when We send down rain to it, it is stirred to life and yields increase. Truly, He Who gives life to the (dead) earth can surely give life to (men) who are dead. For He has power over all things
لَخَلْقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے بڑا (کام) ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
Assuredly the creation of the heavens and the earth is a greater (matter) than the creation of men: Yet most men understand not
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَٰكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ
تو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟
Did ye then think that We had created you in jest, and that ye would not be brought back to Us (for account)
أَمْ نَجْعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ كَٱلْمُفْسِدِينَ فِى ٱلْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ ٱلْمُتَّقِينَ كَٱلْفُجَّارِ
کیا ہم ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو زمین میں فساد کرنے والوں جیسا کر دیں گے؟ یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دیں گے؟
Shall We treat those who believe and work deeds of righteousness, the same as those who do mischief on earth? Shall We treat those who guard against evil, the same as those who turn aside from the right
أَفَنَجْعَلُ ٱلْمُسْلِمِينَ كَٱلْمُجْرِمِينَ
کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں جیسا کر دیں گے؟
Shall We then treat the People of Faith like the People of Sin
بَلْ يُرِيدُ ٱلْإِنسَٰنُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُۥ
بلکہ انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی برائی کرتا رہے۔
But man wishes to do wrong (even) in the time in front of him
كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے کرتوتوں کا زنگ چڑھ گیا ہے۔
By no means! but on their hearts is the stain of the (ill) which they do