⌂ الرئيسية🔖 مكتبتي📊 التحليلℹ عن الموقعاردو · English · العربية

الْأَمْثَال

أمثال القرآن: من بيت العنكبوت إلى الشجرة الطيبة

41 مثلًا في سبعة موضوعات: كل مثل بنصه العربي الكامل وشرح موجز.

Every major parable in the Qur'an, with full Arabic, Urdu and a short explanation.

ما يقوله القرآن عن أمثاله

وردت كلمة «مَثَل» 88 مرة (في 70 آية)، وليست كلها بمعنى ضرب المثل؛ فالجمع «أَمْثَال» قد يأتي بمعنى «أشباهكم». وقد اختيرت هنا الأمثال الحقيقية، وأضيفت أمثال مشهورة لا ترد فيها كلمة «مَثَل»، كالجنة المحترقة (2:266) وأصحاب الجنة (القلم). وبعض الأمثال (2:26، 29:41، 22:73) بمخلوقات صغيرة: البعوضة والعنكبوت والذباب؛ فلما سخر منها الكفار نزلت 2:26 بأن الله لا يستحيي أن يضرب مثلًا ما.

29:43 العنكبوت

وَتِلْكَ ٱلْأَمْثَٰلُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلَّا ٱلْعَٰلِمُونَ ﴿٤٣﴾

اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں، اور انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں۔

And such are the Parables We set forth for mankind, but only those understand them who have knowledge

14:25 إبراهيم

تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿٢٥﴾

وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

It brings forth its fruit at all times, by the leave of its Lord. So Allah sets forth parables for men, in order that they may receive admonition

39:27 الزمر

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿٢٧﴾

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال بیان کی ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

We have put forth for men, in this Qur'an every kind of Parable, in order that they may receive admonition

17:89 الإسراء

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَىٰٓ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورًا ﴿٨٩﴾

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال پھیر پھیر کر بیان کی، مگر اکثر لوگ انکار کے سوا کچھ ماننے کو تیار نہ ہوئے۔

And We have explained to man, in this Qur'an, every kind of similitude: yet the greater part of men refuse (to receive it) except with ingratitude

16:74 النحل

فَلَا تَضْرِبُوا۟ لِلَّهِ ٱلْأَمْثَالَ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٧٤﴾

تو اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو، بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

Invent not similitudes for Allah: for Allah knoweth, and ye know not

16:60 النحل

لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ مَثَلُ ٱلسَّوْءِ وَلِلَّهِ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ﴿٦٠﴾

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی بری صفت ہے، اور اللہ کی صفت سب سے اعلیٰ ہے، اور وہی زبردست، حکمت والا ہے۔

To those who believe not in the Hereafter, applies the similitude of evil: to Allah applies the highest similitude: for He is the Exalted in Power, full of Wisdom

جميع الأمثال

1. الذي استوقد نارًا2:17–18 البقرة
الكفر والنفاق

رأى المنافق نور الإيمان لحظة ثم ذهب النور وبقي في الظلمات.

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ ٱلَّذِى ٱسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِى ظُلُمَٰتٍ لَّا يُبْصِرُونَ ﴿١٧﴾ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ﴿١٨﴾

ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی، پھر جب اس نے اس کے آس پاس کو روشن کر دیا تو اللہ ان کی روشنی لے گیا اور انہیں ایسے اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ (17) وہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں، تو وہ (حق کی طرف) نہیں لوٹیں گے۔ (18)

Their similitude is that of a man who kindled a fire; when it lighted all around him, Allah took away their light and left them in utter darkness. So they could not see (17) Deaf, dumb, and blind, they will not return (to the path) (18)

2. الصيّب2:19–20 البقرة
الكفر والنفاق

مثل ثانٍ للمنافقين: الوحي رحمة كالمطر، لكنهم يجعلون أصابعهم في آذانهم خوفًا من رعده (نذره). فاجتمع لهم مثلان: النار والماء.

أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فِيهِ ظُلُمَٰتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِم مِّنَ ٱلصَّوَٰعِقِ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ وَٱللَّهُ مُحِيطٌۢ بِٱلْكَٰفِرِينَ ﴿١٩﴾ يَكَادُ ٱلْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَٰرَهُمْ كُلَّمَآ أَضَآءَ لَهُم مَّشَوْا۟ فِيهِ وَإِذَآ أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا۟ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَٰرِهِمْ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ﴿٢٠﴾

یا (ان کی مثال) آسمان سے برستی ہوئی بارش جیسی ہے جس میں اندھیرے، گرج اور چمک ہو۔ وہ کڑک کی وجہ سے موت کے ڈر سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ (19) قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھوں کی روشنی اچک لے۔ جب بھی وہ ان کے لیے روشنی کرتی ہے وہ اس میں چل پڑتے ہیں، اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کی سننے اور دیکھنے کی طاقت لے جاتا، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (20)

Or (another similitude) is that of a rain-laden cloud from the sky: In it are zones of darkness, and thunder and lightning: They press their fingers in their ears to keep out the stunning thunder-clap, the while they are in terror of death. But Allah is ever round the rejecters of Faith (19) The lightning all but snatches away their sight; every time the light (Helps) them, they walk therein, and when the darkness grows on them, they stand still. And if Allah willed, He could take away their faculty of hearing and seeing; for Allah hath power over all things (20)

3. الناعق بالبهائم2:171 البقرة
الكفر والنفاق

البهائم تسمع الصوت ولا تفقه المعنى، وكذلك الكافرون يسمعون الدعاء ولا يفقهون الرسالة.

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ كَمَثَلِ ٱلَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَآءً وَنِدَآءً صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ﴿١٧١﴾

اور کافروں کی مثال اس شخص جیسی ہے جو ایسے (جانوروں) کو پکارتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ وہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں، تو وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ (171)

The parable of those who reject Faith is as if one were to shout Like a goat-herd, to things that listen to nothing but calls and cries: Deaf, dumb, and blind, they are void of wisdom

4. الكلب اللاهث7:175–176 الأعراف
الكفر والنفاق

من آتاه الله آياته فأخلد إلى الأرض: الكلب يلهث على كل حال، وكذلك حرصه باقٍ على كل حال.

وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱلَّذِىٓ ءَاتَيْنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ ٱلشَّيْطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ ﴿١٧٥﴾ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخْلَدَ إِلَى ٱلْأَرْضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا فَٱقْصُصِ ٱلْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴿١٧٦﴾

اور انہیں اس شخص کا حال سنائیے جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں، پھر وہ ان سے (کھال کی طرح) نکل گیا، تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ (175) اور اگر ہم چاہتے تو ان (آیتوں) کے ذریعے اسے بلند کرتے، لیکن وہ زمین (دنیا) کی طرف جھک گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے جیسی ہے: اگر تم اس پر حملہ کرو تو ہانپتا ہے اور چھوڑ دو تو بھی ہانپتا ہے۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، تو یہ قصے سنائیے تاکہ وہ غور کریں۔ (176)

Relate to them the story of the man to whom We sent Our signs, but he passed them by: so Satan followed him up, and he went astray (175) If it had been Our will, We should have elevated him with Our signs; but he inclined to the earth, and followed his own vain desires. His similitude is that of a dog: if you attack him, he lolls out his tongue, or if you leave him alone, he (still) lolls out his tongue. That is the similitude of those who reject Our signs; So relate the story; perchance they may reflect (176)

5. الرماد في يوم عاصف14:18 إبراهيم
الكفر والنفاق

أعمال الكافرين كرماد اشتدت به الريح، فلا يبقى في أيديهم شيء.

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ أَعْمَٰلُهُمْ كَرَمَادٍ ٱشْتَدَّتْ بِهِ ٱلرِّيحُ فِى يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا۟ عَلَىٰ شَىْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلْبَعِيدُ ﴿١٨﴾

جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ جیسی ہے جسے آندھی والے دن تیز ہوا اڑا لے جائے؛ انہوں نے جو کچھ کمایا اس میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ (18)

The parable of those who reject their Lord is that their works are as ashes, on which the wind blows furiously on a tempestuous day: No power have they over aught that they have earned: that is the straying far, far (from the goal)

6. السراب، والظلمات في البحر اللجّي24:39–40 النور
الكفر والنفاق

مثلان: سراب لا يجد عنده شيئًا، وظلمات بعضها فوق بعض: بحر، وموج فوقه موج، وسحاب من فوقه.

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَعْمَٰلُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ ٱلظَّمْـَٔانُ مَآءً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَهُۥ لَمْ يَجِدْهُ شَيْـًٔا وَوَجَدَ ٱللَّهَ عِندَهُۥ فَوَفَّىٰهُ حِسَابَهُۥ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ﴿٣٩﴾ أَوْ كَظُلُمَٰتٍ فِى بَحْرٍ لُّجِّىٍّ يَغْشَىٰهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِۦ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِۦ سَحَابٌ ظُلُمَٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَآ أَخْرَجَ يَدَهُۥ لَمْ يَكَدْ يَرَىٰهَا وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ ٱللَّهُ لَهُۥ نُورًا فَمَا لَهُۥ مِن نُّورٍ ﴿٤٠﴾

اور جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے کسی چٹیل میدان میں سراب، جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا، اور وہاں اللہ کو پاتا ہے جو اس کا حساب پورا پورا چکا دیتا ہے، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ (39) یا (ان کے اعمال) ایسے ہیں جیسے گہرے سمندر میں اندھیرے، جسے موج نے ڈھانپ رکھا ہو، اس کے اوپر ایک اور موج، اس کے اوپر بادل؛ اندھیرے ہیں ایک پر ایک، جب کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ سکے۔ اور جسے اللہ روشنی نہ دے اس کے لیے کوئی روشنی نہیں۔ (40)

But the Unbelievers,- their deeds are like a mirage in sandy deserts, which the man parched with thirst mistakes for water; until when he comes up to it, he finds it to be nothing: But he finds Allah (ever) with him, and Allah will pay him his account: and Allah is swift in taking account (39) Or (the Unbelievers' state) is like the depths of darkness in a vast deep ocean, overwhelmed with billow topped by billow, topped by (dark) clouds: depths of darkness, one above another: if a man stretches out his hands, he can hardly see it! for any to whom Allah giveth not light, there is no light (40)

7. بيت العنكبوت29:41 العنكبوت
الكفر والنفاق

الأولياء من دون الله كبيت العنكبوت: بيت في الظاهر، وأوهن البيوت في الحقيقة.

مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْلِيَآءَ كَمَثَلِ ٱلْعَنكَبُوتِ ٱتَّخَذَتْ بَيْتًا وَإِنَّ أَوْهَنَ ٱلْبُيُوتِ لَبَيْتُ ٱلْعَنكَبُوتِ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ﴿٤١﴾

جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا، اور بے شک سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہے، کاش وہ جانتے۔ (41)

The parable of those who take protectors other than Allah is that of the spider, who builds (to itself) a house; but truly the flimsiest of houses is the spider's house;- if they but knew

8. الحمار يحمل أسفارًا62:5 الجمعة
الكفر والنفاق

الذين حُمّلوا التوراة ثم لم يعملوا بها: يحملون أثقال الكتب ولا ينتفعون بها.

مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًۢا بِئْسَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ﴿٥﴾

جن لوگوں کو تورات اٹھوائی گئی، پھر انہوں نے اسے نہ اٹھایا (اس پر عمل نہ کیا)، ان کی مثال اس گدھے جیسی ہے جو کتابیں لادے ہوئے ہو۔ کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (5)

The similitude of those who were charged with the (obligations of the) Mosaic Law, but who subsequently failed in those (obligations), is that of a donkey which carries huge tomes (but understands them not). Evil is the similitude of people who falsify the Signs of Allah: and Allah guides not people who do wrong

9. الذباب22:73 الحج
الكفر والنفاق

لو اجتمعت الآلهة كلها لم تخلق ذبابًا، وإن يسلبهم الذباب شيئًا لا يستنقذوه منه.

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥٓ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَن يَخْلُقُوا۟ ذُبَابًا وَلَوِ ٱجْتَمَعُوا۟ لَهُۥ وَإِن يَسْلُبْهُمُ ٱلذُّبَابُ شَيْـًٔا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ ٱلطَّالِبُ وَٱلْمَطْلُوبُ ﴿٧٣﴾

اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے، اسے غور سے سنو: اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے اگرچہ سب اس کے لیے اکٹھے ہو جائیں، اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے جائے تو وہ اسے اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ طلب کرنے والا بھی کمزور اور جس سے طلب کیا جائے وہ بھی کمزور۔ (73)

O men! Here is a parable set forth! listen to it! Those on whom, besides Allah, ye call, cannot create (even) a fly, if they all met together for the purpose! and if the fly should snatch away anything from them, they would have no power to release it from the fly. Feeble are those who petition and those whom they petition

10. الخرور من السماء22:31 الحج
الكفر والنفاق

المشرك كمن خرّ من السماء فتخطفه الطير أو تهوي به الريح في مكان سحيق.

حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِۦ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ ٱلطَّيْرُ أَوْ تَهْوِى بِهِ ٱلرِّيحُ فِى مَكَانٍ سَحِيقٍ ﴿٣١﴾

اللہ کے لیے یکسو ہو کر، اس کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوئے۔ اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا، پھر پرندے اسے اچک لیں یا ہوا اسے کسی دور جگہ لے جا پھینکے۔ (31)

Being true in faith to Allah, and never assigning partners to Him: if anyone assigns partners to Allah, is as if he had fallen from heaven and been snatched up by birds, or the wind had swooped (like a bird on its prey) and thrown him into a far-distant place

11. الميت الذي أُحيي وجُعل له نور6:122 الأنعام
الكفر والنفاق

المؤمن كان ميتًا فأُحيي وجُعل له نور، والكافر في الظلمات ليس بخارج منها.

أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَٰهُ وَجَعَلْنَا لَهُۥ نُورًا يَمْشِى بِهِۦ فِى ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَٰفِرِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ﴿١٢٢﴾

کیا وہ شخص جو مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی دی اور اسے ایسی روشنی دی جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، اس جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو اور ان سے نکل نہ سکے؟ اسی طرح کافروں کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے گئے ہیں۔ (122)

Can he who was dead, to whom We gave life, and a light whereby he can walk amongst men, be like him who is in the depths of darkness, from which he can never come out? Thus to those without faith their own deeds seem pleasing

12. الأعمى والأصم، والبصير والسميع11:24 هود
الكفر والنفاق

مثل المؤمن والكافر: هل يستوي الأعمى والأصم والبصير والسميع؟

مَثَلُ ٱلْفَرِيقَيْنِ كَٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْأَصَمِّ وَٱلْبَصِيرِ وَٱلسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿٢٤﴾

ان دونوں گروہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ (24)

These two kinds (of men) may be compared to the blind and deaf, and those who can see and hear well. Are they equal when compared? Will ye not then take heed

13. الشيطان المتبرئ59:16 الحشر
الكفر والنفاق

وعد المنافقين لليهود كالشيطان: يدعو إلى الكفر ثم يتبرأ.

كَمَثَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَٰنِ ٱكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌ مِّنكَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿١٦﴾

(ان کی مثال) شیطان جیسی ہے، جب وہ انسان سے کہتا ہے: کفر کر۔ پھر جب وہ کفر کر لیتا ہے تو کہتا ہے: میں تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ (16)

(Their allies deceived them), like the Evil One, when he says to man, "Deny Allah": but when (man) denies Allah, (the Evil One) says, "I am free of thee: I do fear Allah, the Lord of the Worlds

14. امرأة نوح وامرأة لوط66:10 التحريم
الكفر والنفاق

لم ينفعهما أنهما زوجتا نبيين: النجاة بالإيمان لا بالقرابة.

ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱمْرَأَتَ نُوحٍ وَٱمْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَٰلِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا وَقِيلَ ٱدْخُلَا ٱلنَّارَ مَعَ ٱلدَّٰخِلِينَ ﴿١٠﴾

اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان کی ہے۔ وہ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں، پھر انہوں نے ان سے خیانت کی، تو وہ اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آئے، اور کہا گیا: دونوں داخل ہونے والوں کے ساتھ آگ میں داخل ہو جاؤ۔ (10)

Allah sets forth, for an example to the Unbelievers, the wife of Noah and the wife of Lut: they were (respectively) under two of our righteous servants, but they were false to their (husbands), and they profited nothing before Allah on their account, but were told: "Enter ye the Fire along with (others) that enter

15. الشجرة الطيبة والشجرة الخبيثة14:24–26 إبراهيم
الإيمان والحق والنور

الكلمة الطيبة (التوحيد) كشجرة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين، والكلمة الخبيثة كشجرة اجتُثّت.

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ ﴿٢٤﴾ تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿٢٥﴾ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ ﴿٢٦﴾

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پاکیزہ کلمے کی کیسی مثال بیان کی ہے؟ وہ ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔ (24) وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (25) اور برے کلمے کی مثال ایک برے درخت جیسی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ پھینکا گیا ہو، اسے کوئی ٹھہراؤ نہیں۔ (26)

Seest thou not how Allah sets forth a parable? - A goodly word like a goodly tree, whose root is firmly fixed, and its branches (reach) to the heavens,- of its Lord. So Allah sets forth parables for men, in order that they may receive admonition (24) It brings forth its fruit at all times, by the leave of its Lord. So Allah sets forth parables for men, in order that they may receive admonition (25) And the parable of an evil Word is that of an evil tree: It is torn up by the root from the surface of the earth: it has no stability (26)

16. النور: المشكاة والمصباح والزجاجة24:35 النور
الإيمان والحق والنور

مثل نور الله: مصباح في مشكاة، والمصباح في زجاجة، يوقد من شجرة مباركة زيتونة. «نور على نور».

ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِۦ كَمِشْكَوٰةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ٱلْمِصْبَاحُ فِى زُجَاجَةٍ ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَٰرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِىٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ يَهْدِى ٱللَّهُ لِنُورِهِۦ مَن يَشَآءُ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَٰلَ لِلنَّاسِ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ ﴿٣٥﴾

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہو، چراغ ایک شیشے میں ہو، شیشہ گویا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے، وہ زیتون کے ایک مبارک درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی، قریب ہے کہ اس کا تیل خود ہی روشنی دے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے۔ نور پر نور ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ (35)

Allah is the Light of the heavens and the earth. The Parable of His Light is as if there were a Niche and within it a Lamp: the Lamp enclosed in Glass: the glass as it were a brilliant star: Lit from a blessed Tree, an Olive, neither of the east nor of the west, whose oil is well-nigh luminous, though fire scarce touched it: Light upon Light! Allah doth guide whom He will to His Light: Allah doth set forth Parables for men: and Allah doth know all things

17. زبد السيل13:17 الرعد
الإيمان والحق والنور

مثل الحق والباطل: الزبد (الباطل) يطفو ثم يذهب جفاءً، وما ينفع الناس (الحق) يمكث في الأرض.

أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَٱحْتَمَلَ ٱلسَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِى ٱلنَّارِ ٱبْتِغَآءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَٰعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُۥ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ وَٱلْبَٰطِلَ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءً وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى ٱلْأَرْضِ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ ﴿١٧﴾

اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنی اپنی گنجائش کے مطابق بہہ نکلے، پھر سیلاب نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا۔ اور جن چیزوں کو لوگ زیور یا سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں ان پر بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے: تو جھاگ تو بےکار ہو کر چلا جاتا ہے، اور جو چیز لوگوں کو فائدہ دیتی ہے وہ زمین میں ٹھہری رہتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔ (17)

He sends down water from the skies, and the channels flow, each according to its measure: But the torrent bears away to foam that mounts up to the surface. Even so, from that (ore) which they heat in the fire, to make ornaments or utensils therewith, there is a scum likewise. Thus doth Allah (by parables) show forth Truth and Vanity. For the scum disappears like forth cast out; while that which is for the good of mankind remains on the earth. Thus doth Allah set forth parables

18. الزرع النامي48:29 الفتح
الإيمان والحق والنور

مثل الصحابة: زرع أخرج شطأه فآزره فاستغلظ فاستوى على سوقه يعجب الزراع.

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرَىٰهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًا سِيمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمَثَلُهُمْ فِى ٱلْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسْتَغْلَظَ فَٱسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعْجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلْكُفَّارَ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًۢا ﴿٢٩﴾

محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ تم انہیں رکوع اور سجدے میں دیکھو گے، اللہ کا فضل اور رضا تلاش کرتے ہوئے؛ ان کی پہچان ان کے چہروں پر سجدوں کا نشان ہے۔ یہ ان کی صفت تورات میں ہے، اور انجیل میں ان کی مثال اس کھیتی جیسی ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کسانوں کو بھلی لگتی ہے، تاکہ ان کے ذریعے کافروں کو جلائے۔ ان میں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ نے ان سے بخشش اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ (29)

Muhammad is the messenger of Allah; and those who are with him are strong against Unbelievers, (but) compassionate amongst each other. Thou wilt see them bow and prostrate themselves (in prayer), seeking Grace from Allah and (His) Good Pleasure. On their faces are their marks, (being) the traces of their prostration. This is their similitude in the Taurat; and their similitude in the Gospel is: like a seed which sends forth its blade, then makes it strong; it then becomes thick, and it stands on its own stem, (filling) the sowers with wonder and delight. As a result, it fills the Unbelievers with rage at them. Allah has promised those among them who believe and do righteous deeds forgiveness, and a great Reward

19. امرأة فرعون ومريم66:11–12 التحريم
الإيمان والحق والنور

مثل للمؤمنين: امرأة أطغى الملوك ثبتت على الإيمان، ومريم أحصنت فرجها وصدّقت.

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱمْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ٱبْنِ لِى عِندَكَ بَيْتًا فِى ٱلْجَنَّةِ وَنَجِّنِى مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِۦ وَنَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ﴿١١﴾ وَمَرْيَمَ ٱبْنَتَ عِمْرَٰنَ ٱلَّتِىٓ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِۦ وَكَانَتْ مِنَ ٱلْقَٰنِتِينَ ﴿١٢﴾

اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی، جب اس نے دعا کی: اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے، اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔ (11) اور عمران کی بیٹی مریم کی، جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی، اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی، اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔ (12)

And Allah sets forth, as an example to those who believe the wife of Pharaoh: Behold she said: "O my Lord! Build for me, in nearness to Thee, a mansion in the Garden, and save me from Pharaoh and his doings, and save me from those that do wrong (11) And Mary the daughter of 'Imran, who guarded her chastity; and We breathed into (her body) of Our spirit; and she testified to the truth of the words of her Lord and of His Revelations, and was one of the devout (servants) (12)

20. حبة أنبتت سبع سنابل2:261 البقرة
الإنفاق في سبيل الله

مثل الإنفاق في سبيل الله: حبة أنبتت سبع سنابل في كل سنبلة مائة حبة، سبعمائة ضعف، والله يضاعف لمن يشاء.

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍ وَٱللَّهُ يُضَٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ﴿٢٦١﴾

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس سے سات بالیں نکلیں، ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ (261)

The parable of those who spend their substance in the way of Allah is that of a grain of corn: it groweth seven ears, and each ear Hath a hundred grains. Allah giveth manifold increase to whom He pleaseth: And Allah careth for all and He knoweth all things

21. الصفوان2:264 البقرة
الإنفاق في سبيل الله

الصدقة المبطلة بالمن أو الرياء: تراب قليل على صخرة يذهب به المطر.

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُبْطِلُوا۟ صَدَقَٰتِكُم بِٱلْمَنِّ وَٱلْأَذَىٰ كَٱلَّذِى يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُۥ وَابِلٌ فَتَرَكَهُۥ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا۟ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ ﴿٢٦٤﴾

اے ایمان والو! اپنے صدقوں کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر برباد نہ کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال ایک چکنے پتھر کی سی ہے جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اس پر زور کی بارش پڑے تو اسے صاف چٹان چھوڑ جائے۔ ایسے لوگ اپنی کمائی میں سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکیں گے، اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (264)

O ye who believe! cancel not your charity by reminders of your generosity or by injury,- like those who spend their substance to be seen of men, but believe neither in Allah nor in the Last Day. They are in parable like a hard, barren rock, on which is a little soil: on it falls heavy rain, which leaves it (Just) a bare stone. They will be able to do nothing with aught they have earned. And Allah guideth not those who reject faith

22. الجنة بالربوة2:265 البقرة
الإنفاق في سبيل الله

أجر الإنفاق المخلص: جنة بربوة تؤتي أكلها ضعفين في الوابل، ويكفيها الطل.

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَـَٔاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿٢٦٥﴾

اور جو لوگ اللہ کی رضا چاہنے اور اپنے دلوں کو مضبوط کرنے کے لیے اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اونچی جگہ کے ایک باغ جیسی ہے جس پر زور کی بارش ہو تو وہ دوگنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ ہو تو ہلکی پھوار ہی کافی ہے، اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ (265)

And the likeness of those who spend their substance, seeking to please Allah and to strengthen their souls, is as a garden, high and fertile: heavy rain falls on it but makes it yield a double increase of harvest, and if it receives not Heavy rain, light moisture sufficeth it. Allah seeth well whatever ye do

23. الجنة المحترقة في الكبر2:266 البقرة
الإنفاق في سبيل الله

من ضاع عمله: في الكبر وذريته ضعفاء، وهو أحوج ما يكون، يصيبها إعصار فيه نار فتحترق.

أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلْكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَٱحْتَرَقَتْ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ ﴿٢٦٦﴾

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اس میں اس کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں، اور اسے بڑھاپا آ جائے اور اس کے بچے کمزور ہوں، پھر اس (باغ) پر ایک بگولا آئے جس میں آگ ہو اور وہ جل جائے؟ اسی طرح اللہ تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔ (266)

Does any of you wish that he should have a garden with date-palms and vines and streams flowing underneath, and all kinds of fruit, while he is stricken with old age, and his children are not strong (enough to look after themselves)- that it should be caught in a whirlwind, with fire therein, and be burnt up? Thus doth Allah make clear to you (His) Signs; that ye may consider

24. الريح التي فيها صِرّ3:117 آل عمران
الإنفاق في سبيل الله

إنفاق الكافرين: ريح فيها برد شديد أهلكت حرث قوم ظلموا أنفسهم.

مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِى هَٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿١١٧﴾

وہ جو کچھ اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا جیسی ہے جس میں سخت پالا ہو، وہ ایسی قوم کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور اسے تباہ کر دے۔ اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ (117)

What they spend in the life of this (material) world May be likened to a wind which brings a nipping frost: It strikes and destroys the harvest of men who have wronged their own souls: it is not Allah that hath wronged them, but they wrong themselves

25. المطر والنبات10:24 يونس
الحياة الدنيا

زينة الدنيا: زرع ينبت بالمطر ثم يُحصد فجأة كأن لم يغن بالأمس.

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَٰهَا حَصِيدًا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٢٤﴾

دنیا کی زندگی کی مثال تو بس اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا، پھر اس سے زمین کی وہ پیداوار گھنی ہو گئی جسے انسان اور جانور کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی رونق لے لی اور سج گئی اور اس کے مالکوں نے سمجھا کہ وہ اس پر قادر ہیں، تو رات یا دن کو ہمارا حکم آ پہنچا، پھر ہم نے اسے ایسا کٹا ہوا ڈھیر بنا دیا گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ اسی طرح ہم غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں۔ (24)

The likeness of the life of the present is as the rain which We send down from the skies: by its mingling arises the produce of the earth- which provides food for men and animals: (It grows) till the earth is clad with its golden ornaments and is decked out (in beauty): the people to whom it belongs think they have all powers of disposal over it: There reaches it Our command by night or by day, and We make it like a harvest clean-mown, as if it had not flourished only the day before! thus do We explain the Signs in detail for those who reflect

26. الهشيم تذروه الرياح18:45 الكهف
الحياة الدنيا

المثل نفسه، وينتهي هشيمًا تذروه الرياح.

وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ ٱلرِّيَٰحُ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ مُّقْتَدِرًا ﴿٤٥﴾

اور ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کیجیے: وہ اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا، تو اس سے زمین کی سبزی گھنی ہو گئی، پھر وہ چورا چورا ہو گئی جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (45)

Set forth to them the similitude of the life of this world: It is like the rain which we send down from the skies: the earth's vegetation absorbs it, but soon it becomes dry stubble, which the winds do scatter: it is (only) Allah who prevails over all things

27. غيث أعجب الكفار نباته57:20 الحديد
الحياة الدنيا

الدنيا لعب ولهو وزينة وتفاخر وتكاثر في الأموال والأولاد: زرع يعجب ثم يصفرّ ثم يكون حطامًا.

ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِى ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَوْلَٰدِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ ٱلْكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمًا وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنٌ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلْغُرُورِ ﴿٢٠﴾

جان لو کہ دنیا کی زندگی بس کھیل، تماشا، زینت، آپس میں فخر جتانا، اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش ہے۔ اس کی مثال اس بارش جیسی ہے جس کی اگائی ہوئی کھیتی کسانوں کو بھلی لگتی ہے، پھر وہ پک جاتی ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو، پھر وہ چورا بن جاتی ہے۔ اور آخرت میں سخت عذاب بھی ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور رضا بھی، اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سامان ہے۔ (20)

Know ye (all), that the life of this world is but play and amusement, pomp and mutual boasting and multiplying, (in rivalry) among yourselves, riches and children. Here is a similitude: How rain and the growth which it brings forth, delight (the hearts of) the tillers; soon it withers; thou wilt see it grow yellow; then it becomes dry and crumbles away. But in the Hereafter is a Penalty severe (for the devotees of wrong). And Forgiveness from Allah and (His) Good Pleasure (for the devotees of Allah). And what is the life of this world, but goods and chattels of deception

28. صاحب الجنتين (آيات مختارة)18:32، 33، 34، 35، 36، 42 الكهف
الحياة الدنيا

صاحب متكبر وصاحب مؤمن؛ وفي النهاية تهلك الجنة ويقلّب صاحبها كفيه. القصة كاملة: 18:32 إلى 18:44.

وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَٰبٍ وَحَفَفْنَٰهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا ﴿٣٢﴾ كِلْتَا ٱلْجَنَّتَيْنِ ءَاتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِم مِّنْهُ شَيْـًٔا وَفَجَّرْنَا خِلَٰلَهُمَا نَهَرًا ﴿٣٣﴾ وَكَانَ لَهُۥ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَٰحِبِهِۦ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَنَا۠ أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا ﴿٣٤﴾ وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدًا ﴿٣٥﴾ وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّى لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا ﴿٣٦﴾ وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيهَا وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَٰلَيْتَنِى لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّىٓ أَحَدًا ﴿٤٢﴾

اور ان کے سامنے دو آدمیوں کی مثال بیان کیجیے: ان میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیے اور ان کے گرد کھجوروں کی باڑ لگائی اور ان کے درمیان کھیتی رکھی۔ (32) دونوں باغوں نے اپنا پورا پھل دیا اور اس میں کچھ کمی نہ کی، اور ہم نے ان کے بیچ ایک نہر جاری کر دی۔ (33) اور اس کے پاس پھل تھے، تو اس نے اپنے ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہا: میں تجھ سے مال میں زیادہ اور جتھے میں زیادہ طاقتور ہوں۔ (34) اور وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ اپنے اوپر ظلم کر رہا تھا، کہنے لگا: میں نہیں سمجھتا کہ یہ کبھی تباہ ہوگا۔ (35) اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت قائم ہوگی، اور اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو میں ضرور اس سے بہتر ٹھکانا پاؤں گا۔ (36) اور اس کے پھل گھیر لیے گئے (تباہ ہو گئے)، تو وہ اس پر جو خرچ کیا تھا اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا، اور باغ اپنی چھتریوں پر گرا پڑا تھا، اور کہتا تھا: کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا۔ (42)

Set forth to them the parable of two men: for one of them We provided two gardens of grape-vines and surrounded them with date palms; in between the two We placed corn-fields (32) Each of those gardens brought forth its produce, and failed not in the least therein: in the midst of them We caused a river to flow (33) (Abundant) was the produce this man had: he said to his companion, in the course of a mutual argument: "more wealth have I than you, and more honour and power in (my following of) men (34) He went into his garden in a state (of mind) unjust to his soul: He said, "I deem not that this will ever perish (35) Nor do I deem that the Hour (of Judgment) will (ever) come: Even if I am brought back to my Lord, I shall surely find (there) something better in exchange (36) So his fruits (and enjoyment) were encompassed (with ruin), and he remained twisting and turning his hands over what he had spent on his property, which had (now) tumbled to pieces to its very foundations, and he could only say, "Woe is me! Would I had never ascribed partners to my Lord and Cherisher (42)

29. القرية الآمنة16:112 النحل
الحياة الدنيا

قرية كانت آمنة مطمئنة، فلما كفرت أذاقها الله لباس الجوع والخوف.

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ ءَامِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلْجُوعِ وَٱلْخَوْفِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ ﴿١١٢﴾

اور اللہ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے جو امن اور اطمینان سے تھی، اس کا رزق ہر جگہ سے فراوانی سے آتا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ (112)

Allah sets forth a Parable: a city enjoying security and quiet, abundantly supplied with sustenance from every place: Yet was it ungrateful for the favours of Allah: so Allah made it taste of hunger and terror (in extremes) (closing in on it) like a garment (from every side), because of the (evil) which (its people) wrought

30. أصحاب الجنة (آيات مختارة)68:17، 18، 19، 20، 26، 27 القلم
الحياة الدنيا

أقسموا ليصرمنّها مصبحين حتى لا يدخلها مسكين، فطاف عليها طائف في الليل فأصبحت كالصريم. القصة كاملة: 68:17 إلى 68:33.

إِنَّا بَلَوْنَٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا۟ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ ﴿١٧﴾ وَلَا يَسْتَثْنُونَ ﴿١٨﴾ فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ ﴿١٩﴾ فَأَصْبَحَتْ كَٱلصَّرِيمِ ﴿٢٠﴾ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوٓا۟ إِنَّا لَضَآلُّونَ ﴿٢٦﴾ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ﴿٢٧﴾

ہم نے انہیں (اہلِ مکہ کو) اسی طرح آزمایا جیسے باغ والوں کو آزمایا تھا، جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہی اس کا پھل ضرور توڑ لیں گے۔ (17) اور انہوں نے (ان شاء اللہ کا) استثنا نہ کیا۔ (18) تو اس (باغ) پر تیرے رب کی طرف سے ایک آفت پھر گئی جبکہ وہ سو رہے تھے۔ (19) تو وہ کٹی ہوئی (جلی ہوئی) فصل کی طرح ہو گیا۔ (20) پھر جب انہوں نے اسے دیکھا تو کہنے لگے: ہم راستہ بھول گئے ہیں۔ (26) بلکہ ہم محروم کر دیے گئے ہیں۔ (27)

Verily We have tried them as We tried the People of the Garden, when they resolved to gather the fruits of the (garden) in the morning (17) But made no reservation, ("If it be Allah's Will) (18) Then there came on the (garden) a visitation from thy Lord, (which swept away) all around, while they were asleep (19) So the (garden) became, by the morning, like a dark and desolate spot, (whose fruit had been gathered) (20) But when they saw the (garden), they said: "We have surely lost our way (26) Indeed we are shut out (of the fruits of our labour) (27)

31. أصحاب القرية والرسل الثلاثة (آيات مختارة)36:13، 14، 20، 21، 26، 27 يس
الحياة الدنيا

كذّب أهل القرية الرسل، فجاء رجل من أقصى المدينة يسعى يدعوهم إلى الإيمان. القصة كاملة: 36:13 إلى 36:29.

وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَٰبَ ٱلْقَرْيَةِ إِذْ جَآءَهَا ٱلْمُرْسَلُونَ ﴿١٣﴾ إِذْ أَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ ﴿١٤﴾ وَجَآءَ مِنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱتَّبِعُوا۟ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿٢٠﴾ ٱتَّبِعُوا۟ مَن لَّا يَسْـَٔلُكُمْ أَجْرًا وَهُم مُّهْتَدُونَ ﴿٢١﴾ قِيلَ ٱدْخُلِ ٱلْجَنَّةَ قَالَ يَٰلَيْتَ قَوْمِى يَعْلَمُونَ ﴿٢٦﴾ بِمَا غَفَرَ لِى رَبِّى وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُكْرَمِينَ ﴿٢٧﴾

اور ان کے سامنے بستی والوں کی مثال بیان کیجیے جب ان کے پاس رسول آئے۔ (13) جب ہم نے ان کی طرف دو (رسول) بھیجے تو انہوں نے دونوں کو جھٹلایا، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی، تو انہوں نے کہا: ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔ (14) اور شہر کے دور کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، کہا: اے میری قوم! رسولوں کی پیروی کرو۔ (20) ان لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ (21) (اسے) کہا گیا: جنت میں داخل ہو جاؤ۔ اس نے کہا: کاش میری قوم جان لیتی۔ (26) کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے عزت والوں میں شامل کر دیا۔ (27)

Set forth to them, by way of a parable, the (story of) the Companions of the City. Behold!, there came messengers to it (13) When We (first) sent to them two messengers, they rejected them: But We strengthened them with a third: they said, "Truly, we have been sent on a mission to you (14) Then there came running, from the farthest part of the City, a man, saying, "O my people! Obey the messengers (20) Obey those who ask no reward of you (for themselves), and who have themselves received Guidance (21) It was said: "Enter thou the Garden." He said: "Ah me! Would that my People knew (what I know) (26) For that my Lord has granted me Forgiveness and has enrolled me among those held in honour (27)

32. العبد المملوك والمنفق16:75 النحل
أدلة التوحيد

هل يستوي من لا يقدر على شيء ومن ينفق سرًّا وجهرًا؟ مقارنة بين الأصنام والله.

ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍ وَمَن رَّزَقْنَٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا هَلْ يَسْتَوُۥنَ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٧٥﴾

اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے: ایک مملوک غلام جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا، اور ایک وہ جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق دیا تو وہ اس میں سے چھپے اور کھلے خرچ کرتا ہے، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ (75)

Allah sets forth the Parable (of two men: one) a slave under the dominion of another; He has no power of any sort; and (the other) a man on whom We have bestowed goodly favours from Ourselves, and he spends thereof (freely), privately and publicly: are the two equal? (By no means;) praise be to Allah. But most of them understand not

33. رجلان: الأبكم والآمر بالعدل16:76 النحل
أدلة التوحيد

أحدهما أبكم كَلٌّ على مولاه لا يأتي بخير، والآخر يأمر بالعدل وهو على صراط مستقيم.

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَآ أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَىٰهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٧٦﴾

اور اللہ ایک اور مثال بیان کرتا ہے: دو آدمی، ان میں سے ایک گونگا ہے جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اپنے مالک پر بوجھ ہے، وہ اسے جہاں بھی بھیجے کوئی بھلائی نہیں لاتا۔ کیا وہ اور وہ شخص برابر ہو سکتے ہیں جو انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر ہے؟ (76)

Allah sets forth (another) Parable of two men: one of them dumb, with no power of any sort; a wearisome burden is he to his master; whichever way be directs him, he brings no good: is such a man equal with one who commands Justice, and is on a Straight Way

34. مثل «من أنفسكم»30:28 الروم
أدلة التوحيد

هل تجعلون عبيدكم شركاء في أموالكم سواءً؟ فكيف تجعلون لله شركاء؟

ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِى مَا رَزَقْنَٰكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَآءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿٢٨﴾

وہ تمہارے لیے تمہاری اپنی ذات سے ایک مثال بیان کرتا ہے: جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے کوئی تمہارا شریک ہے کہ تم اس میں برابر ہو جاؤ اور تم ان سے ایسا ڈرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو؟ اسی طرح ہم عقل والوں کے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں۔ (28)

He does propound to you a similitude from your own (experience): do ye have partners among those whom your right hands possess, to share as equals in the wealth We have bestowed on you? Do ye fear them as ye fear each other? Thus do we explain the Signs in detail to a people that understand

35. الرجل ذو الشركاء المتشاكسين39:29 الزمر
أدلة التوحيد

عبد يملكه شركاء متشاكسون لا يستوي مع عبد سَلَمٍ لرجل: مثل المشرك والموحد.

ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيهِ شُرَكَآءُ مُتَشَٰكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٢٩﴾

اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے: ایک غلام جس میں کئی جھگڑالو مالک شریک ہیں، اور ایک غلام جو پورا ایک ہی آدمی کا ہے۔ کیا دونوں کا حال برابر ہو سکتا ہے؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ (29)

Allah puts forth a Parable a man belonging to many partners at variance with each other, and a man belonging entirely to one master: are those two equal in comparison? Praise be to Allah! but most of them have no knowledge

36. حتى البعوضة2:26 البقرة
أدلة التوحيد

إن الله لا يستحيي أن يضرب مثلًا ما؛ فالمؤمنون يعلمون أنه الحق، ويضل به الفاسقون.

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَسْتَحْىِۦٓ أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَيَقُولُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرًا وَيَهْدِى بِهِۦ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِۦٓ إِلَّا ٱلْفَٰسِقِينَ ﴿٢٦﴾

بے شک اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ کوئی مثال بیان کرے، مچھر کی ہو یا اس سے بھی بڑھ کر (چھوٹی) چیز کی۔ تو جو ایمان والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں: اللہ نے اس مثال سے کیا ارادہ کیا ہے؟ وہ اس سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے، اور وہ اس سے صرف نافرمانوں کو ہی گمراہ کرتا ہے۔ (26)

Allah disdains not to use the similitude of things, lowest as well as highest. Those who believe know that it is truth from their Lord; but those who reject Faith say: "What means Allah by this similitude?" By it He causes many to stray, and many He leads into the right path; but He causes not to stray, except those who forsake (the path)

37. الجنة التي وُعد المتقون13:35 الرعد
الجنة

تجري من تحتها الأنهار، أكلها دائم وظلها.

مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ أُكُلُهَا دَآئِمٌ وَظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ وَّعُقْبَى ٱلْكَٰفِرِينَ ٱلنَّارُ ﴿٣٥﴾

جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کا پھل بھی ہمیشہ کا ہے اور اس کا سایہ بھی۔ یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے، اور کافروں کا انجام آگ ہے۔ (35)

The parable of the Garden which the righteous are promised!- beneath it flow rivers: perpetual is the enjoyment thereof and the shade therein: such is the end of the Righteous; and the end of Unbelievers in the Fire

38. أنهار من ماء ولبن وخمر وعسل47:15 محمد
الجنة

ماء غير آسن، ولبن لم يتغير طعمه، وخمر لذة للشاربين، وعسل مصفى.

مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ فِيهَآ أَنْهَٰرٌ مِّن مَّآءٍ غَيْرِ ءَاسِنٍ وَأَنْهَٰرٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُۥ وَأَنْهَٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّٰرِبِينَ وَأَنْهَٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَٰلِدٌ فِى ٱلنَّارِ وَسُقُوا۟ مَآءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَآءَهُمْ ﴿١٥﴾

جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو بدلتا نہیں، اور ایسے دودھ کی نہریں جس کا ذائقہ نہیں بدلتا، اور ایسی شراب کی نہریں جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے، اور صاف کیے ہوئے شہد کی نہریں۔ اور ان کے لیے وہاں ہر طرح کے پھل ہیں اور ان کے رب کی طرف سے بخشش۔ (کیا وہ) اس جیسا ہو سکتا ہے جو ہمیشہ آگ میں رہے گا، اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں کاٹ ڈالے گا؟ (15)

(Here is) a Parable of the Garden which the righteous are promised: in it are rivers of water incorruptible; rivers of milk of which the taste never changes; rivers of wine, a joy to those who drink; and rivers of honey pure and clear. In it there are for them all kinds of fruits; and Grace from their Lord. (Can those in such Bliss) be compared to such as shall dwell for ever in the Fire, and be given, to drink, boiling water, so that it cuts up their bowels (to pieces)

39. عيسى كمثل آدم3:59 آل عمران
أخرى

لو كانت الولادة بلا أب دليل ألوهية لكان آدم أولى، فقد خُلق بلا أب ولا أم.

إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ﴿٥٩﴾

بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے، اس نے اسے مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے کہا: ہو جا، تو وہ ہو گیا۔ (59)

The similitude of Jesus before Allah is as that of Adam; He created him from dust, then said to him: "Be". And he was

40. الجبل الخاشع59:21 الحشر
أخرى

لو أُنزل القرآن على جبل لرأيته خاشعًا متصدعًا من خشية الله، فكيف تقسو قلوب البشر؟

لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُۥ خَٰشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِ وَتِلْكَ ٱلْأَمْثَٰلُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٢١﴾

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو آپ اسے دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جا رہا ہے اور پھٹا پڑ رہا ہے۔ اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔ (21)

Had We sent down this Qur'an on a mountain, verily, thou wouldst have seen it humble itself and cleave asunder for fear of Allah. Such are the similitudes which We propound to men, that they may reflect

41. من نسي خلقه36:78 يس
أخرى

أمسك إنسان عظمًا باليًا وقال: من يحيي العظام وهي رميم؟ ونسي خلقه.

وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِىَ خَلْقَهُۥ قَالَ مَن يُحْىِ ٱلْعِظَٰمَ وَهِىَ رَمِيمٌ ﴿٧٨﴾

اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی اور اپنی پیدائش بھول گیا۔ کہنے لگا: ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ وہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟ (78)

And he makes comparisons for Us, and forgets his own (origin and) Creation: He says, "Who can give life to (dry) bones and decomposed ones (at that)

أنماط تستحق التأمل

عالم السامعين أنفسهم

الأمثال مأخوذة من حياة العرب اليومية: النار والمطر والجنات والنخل والإبل والكلب والحمار وسراب الصحراء وزبد السيل.

أمثال مزدوجة

الشجرة الطيبة والخبيثة (14:24–26)؛ جنة المخلص وصفوان المرائي (2:264–265)؛ امرأة فرعون وامرأتا نوح ولوط (66:10–12)؛ الأبكم والآمر بالعدل (16:76).

مثلان للمنافقين

النار (2:17) والمطر (2:19): نور انطفأ، وغيث رحمة فرّوا من رعده.

الحياة الدنيا: صورة واحدة ثلاث مرات

المطر والزرع النضر ثم الاصفرار والحطام (10:24، 18:45، 57:20)، والتكرار تأكيد لسرعة زوال زينة الدنيا.

© 2026 Meem Ain Studio · عن الموقع · الخصوصية

↑